بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور لنگر خانے

217

 بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا مقصد نہایت کم آمدنی والے کنبوں کو ماہانہ امداد فراہم کرنا تھا تا کہ یہ کنبے کسی حد تک اپنے ماہانہ اخراجات پورے کرسکیں اور انہیں دوسروں کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔ آئیڈیا تو اچھا تھا لیکن اس کے پیچھے سیاسی مقاصد کام کررہے تھے اور اس کا مقصد اپنے ووٹروں کی تعداد بڑھانا اور ان کی سیاسی حمایت حاصل کرنا تھا۔ چناں چہ پیپلز پارٹی کے دور میں جب یہ پروگرام شروع ہوا تو چن چن کر ان لوگوں کو رجسٹر کیا گیا جو پیپلز پارٹی کے حامی یا اس سے ہمدردی رکھتے تھے۔ پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو بھی کھلم کھلا اس پروگرام سے نوازا گیا۔ ایک ہی خاندان کے کئی کئی افراد نے اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے۔ اسی داد و دہش میں سرکاری ملازمین کا بھی دائو لگ گیا اور وہ بھی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے وظیفہ خوروں میں شامل ہوگئے۔ اندازہ کیجیے ان سرکاری ملازمین کی تعداد 14 ہزار سے زیادہ ہے جب کہ ان میں گریڈ 17 سے 21 تک کے 2 ہزار 5 سو 43 افسران بھی شامل ہیں۔ یہ تو سرکاری ملازمین کا معاملہ ہے اگر مزید تحقیق کی جائے تو پروگرام سے استفادہ کرنے والوں میں ایسے بے شمار افراد نکل آئیں گے جو مالی طور پر آسودہ اور خوشحال ہیں لیکن ’’مفت ہاتھ آئے تو بُرا کیا ہے‘‘ کے نظریے کے تحت اپنے اثر و رسوخ کو کام میں لا کر وظیفہ حاصل کررہے ہیں، اس طرح دیکھا جائے تو صحیح معنوں میں مستحق لوگوں کی تعداد اس پروگرام کے رجسٹرڈ افراد میں بہت کم نکلے گی۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ہمارے ہاں ہر ادارے اور نظام میں سفارش، رشوت اور اثر و رسوخ کو خصوصی عمل دخل حاصل ہے۔ غریب، نادار، مسکین اور بے وسیلہ افراد کے پاس ان میں سے کوئی ذریعہ نہیں ہوتا اور وہ مستحق ہونے کے باوجود اپنا حق حاصل نہیں کرپاتے۔ قطع نظر اس بحث کے اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے وظیفہ خوروں میں تمام مستحق افرادہی شامل ہیں تو ان کی تعداد آخر کتنی ہے؟ جب کہ ملک کی آبادی کا 40 فی صد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہے۔ موجودہ حکومت نے تو اس شرح میں مزید اضافہ کردیا ہے، کیا بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اِن سب لوگوں کو کوَر کررہا ہے؟ ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے جب یہ پروگرام ملک کے تمام مستحق لوگوں کو وظیفہ فراہم نہیں کرسکتا تو اس کی افادیت محدود اور بے اثر ہو کر رہ جاتی ہے۔ اصل ضرورت تو یہ ہے کہ ملک میں ایسا سازگار معاشی ماحول پیدا کیا جائے جس میں ملک کا محروم طبقہ غربت سے نیچے کی لکیر سے اوپر آئے اور اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے زندگی بسر کرنا سیکھے۔
عوام کو خود کفیل بنانے کے بجائے ہمارے حکمران ان کی غربت میں پیوند لگانے کو اپنا کارنامہ سمجھ رہے ہیں، حالاں کہ یہ کارنامہ نہیں ایک احمقانہ حرکت ہے۔ جس طرح بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ایک احمقانہ اسکیم کے سوا اور کچھ نہیں اسی طرح موجودہ حکومت کے لنگر خانے بھی احمقانہ حرکت کی تعریف میں آتے ہیں، اگر آج ان لنگر خانوں کے کوائف معلوم کیے جائیں تو پتا چلے گا کہ ان سے مفت خورے اور مشٹنڈے ہی فیض پارہے ہیں اور ان تک نادار، بے وسیلہ اور مساکین کی رسائی ہی ممکن نہیں ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے خود اعتراف کیا ہے کہ تنخواہ میں ان کا گزارہ نہیں ہوتا۔ اس پر محترم سراج الحق نے درست کہا ہے کہ جب 2 لاکھ روپے ماہانہ لینے والا اپنی بے بسی کا اظہار کررہا ہے تو اندازہ کیجیے کہ پندرہ بیس ہزار روپے ماہانہ کمانے والے اس مہنگائی میں اپنا کنبہ کس طرح پال رہے ہوں گے۔ یہ لوگ دس بیس ہزار نہیں بلکہ ان کی تعداد کروڑوں میں ہے اور کروڑوں وہ لوگ ہیں جو اتنے وسائل بھی نہیں رکھتے تو کیا ان سب کے لیے لنگر خانے کھولے جائیں گے؟ لنگر خانے کا تصور بہت قدیم ہے، یہ اُس زمانے کی بات ہے جب جدید ذرائع آمدورفت مفقود تھے، لوگ گھوڑوں، گدھوں، اونٹوں اور بیل گاڑیوں پر سفر کرتے تھے۔ راستے میں رات آجاتی تو اِن مسافروں کو شب بسری کے لیے پناہ گاہ کی تلاش ہوتی اور پیٹ بھرنے کے لیے کھانا درکار ہوتا۔ اس ضرورت نے سرائے اور لنگر خانے کا تصور ایجاد کیا اور قدیم دور کے عادل حکمرانوں نے اپنی رعایا کے لیے سرائے اور لنگر خانے کی سہولت فراہم کی۔ تاریخ میں شیر شاہ سوری کا نام آتا ہے جس نے مسافروں کے لیے سرائے اور لنگر خانے قائم کیے تھے۔ عمران خان بھی جدید دور میں پناہ گاہیں اور لنگر خانے قائم کرکے قدیم حکمرانوں میں اپنا نام درج کرانا چاہتے ہیں تو ان کو مبارک ہو لیکن یہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔ مسئلے کا حل صرف اور صرف یہ ہے کہ مہنگائی پر قابو پایا جائے۔ اشیائے خوراک کی وافر اور ارزاں فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور زراعت کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے۔ پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے اور پاکستان کی ترقی و خوشحالی کا تمام تر انحصار زراعت کی ترقی پر ہے، جب کہ زراعت ہی وہ شعبہ ہے جو ملک میں سب سے زیادہ نظر انداز ہورہا ہے۔ حکومت کی سرے سے کوئی زرعی پالیسی ہی نہیں ہے، پاکستان کپاس پیدا کرنے والے ملکوں میں ایک ممتاز حیثیت رکھتا ہے لیکن اب کی دفعہ کپاس کی پیداوار بھی کم ہوئی ہے اور پاکستان کو اپنی کاٹن انڈسٹری کو چلانے کے لیے کپاس درآمد کرنا پڑے گی۔ گندم کا معاملہ بھی عجیب ہے، پہلے اسے بیرون ملک فروخت کردیا گیا جب ہاہا کار مچی تو اب تین تین لاکھ ٹن گندم باہر سے منگوائی جارہی ہے جسے پاکستان پہنچنے میں کئی ماہ لگ جائیں گے اُس وقت تک اندرون ملک گندم کی فصل تیار ہو کر بازار میں آچکی ہوگی۔
عمران خان کو قدرت نے ایک تاریخی موقع دیا تھا پاکستانی عوام کی توقعات پر پورا اُترنے کا لیکن انہوں نے بڑی بیدردی سے اس موقع کو گنوادیا، وہ 22 سال تک اقتدار میں آنے کے لیے سیاسی جدوجہد کرتے رہے، وہ خوب جانتے تھے کہ جب لوگ شریفوں اور زرداریوں سے مایوس ہوجائیں گے تو بادشاہ گر قوتوں کی نظر انتخاب ان کی طرف اُٹھے گی اور اقتدار طشتری میں رکھ کر انہیں پیش کیا جائے گا، لیکن اس کے لیے انہوں نے کوئی تیاری نہ کی۔ انہوں نے مختلف شعبوں کے ماہرین پر مشتمل کوئی ایسی ٹیم تیار نہیں کی جو اقتدار ملتے ہی کام شروع کردیتی اور ملک کو بحران سے باہر کھینچ نکالتی۔ جو مانگے تانگے کے لوگ انہوں نے جمع کیے اور جس اناڑی پن سے ان لوگوں نے ملک کو چلایا اس سے عوام کو درپیش مشکلات سو گنا بڑھ گئیں۔ عمران خان اب عوام کو لنگر خانے کے کھلونے سے بہلانا چاہتے ہیں لیکن اس سے کام نہیں چلے گا اور اس کا حشر بھی وہی ہوگا جو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا ہوا ہے۔