بڑے بڑے وعدے کرتے ہی کیوں ہیں

204

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے حیران نہیں کیا بلکہ پاکستان پر مسلط حکمران طبقے کی نفسیات کا آئینہ دکھا دیا ہے۔ اس آئینے میں ان کی تصویر سب سے بڑی نکلی۔ یوں بھی ہاتھی کے پائوں میں سب کا پائوں، صدر تقریب کا صدر ہوتا ہے اور وہ بھی پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نیازی کا مقمد صدر۔ جناب صدر عارف علوی نے انتہا بھی عبور کرلی۔ فرماتے ہیں کہ مجھے آٹے کے بحران کا علم نہیں، پتا ہونا چاہیے تھا، حکومت نے مہنگائی کم کرنے کے دعوے کیے تھے لیکن یہ دعوے خزانے کی صورتحال معلوم ہونے سے پہلے کے ہیں۔ یعنی پی ٹی آئی بھی روایتی سیاسی پارٹی ہے جو اپوزیشن میں ہوائیاں چھوڑتی ہے اور حکومت میں اس کی ہوائیاں اڑتی ہیں جب خزانے کی صورتحال کا علم نہیں تھا تو بڑے بڑے دعوے کیوں کیے تھے۔ بہرحال صدر مملکت کا شکریہ کہ انہوں نے قوم کو بتا دیا حکومت کس طرح سوچتی ہے۔ اب یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ صدر، وزیراعظم اور حکومت کو لانے والوں کی کیا کیفیت ہے۔ انہیں بھی کچھ پتا ہے یا نہیں، یا پھر کسی دن یہ بھی کہیںگے کہ ہمیں پتا نہیں۔ ویسے وہاں سے آج تک یہ نہیں کہا گیا کہ ہمیں پتا نہیں۔ آصف غفور تک یہی کہا جاتا تھا کہ ہمیں سب پتا ہے۔ خیر اس پر تبصرے کا وقت ہے نہ ہمت اور نئے والے کا پتا نہیں کیا انداز ہوگا۔ اس لیے انہیں تو چھیڑیں نہیں لیکن شیخ رشید صاحب کا کیا کریں وہ کہتے پائے گئے کہ لوگ دسمبر جنوری میں روٹیاں زیادہ کھاتے ہیں۔ کیا خوب کہنا ہے شیخ جی کا… لیکن ایک شیخ صاحب پر کیا موقف پوری حکومت شیخ چلی کی حکومت ہے۔ خزانے کا حال جانے بغیر تو دعوے کیے گئے تھے لیکن اب کیوں کیے جارہے ہیں۔ اب تو خزانے کی حالت پہلے سے بھی خراب ہوتی جارہی ہے۔ اب بھی روز وزیراعظم معیشت کے استحکام کا مصرع طرح دیتے ہیں اس کے بعد کابینہ بے طرح قوالی شروع کردیتی ہے یہاں تک کہ بیان پڑھ پڑھ کر لوگوں کو یقین ہوجاتا ہے کہ معیشت مستحکم ہوگئی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ آٹا مہنگا، چینی مہنگی اور دونوں غائب بھی ہیں۔ خوردنی تیل مہنگا، پیٹرول مہنگا، بجلی، گیس اشیائے خورو نوش سب کچھ مہنگا اور معیشت مستحکم، پتا نہیں کس کی معیشت مستحکم ہورہی ہے۔
صدر مملکت نے ایک اچھی بات کہی کہ وہ اچانک این آئی سی ایچ اس لیے آئے تھے کہ انہیں این آئی سی ایچ کی اصل صورتحال اور حقائق سے آگہی ہوجائے۔ غنیمت ہے وہ اسپتال کے دورے پر پہنچے اب دو تین سال میں کسی مارکیٹ میں کھڑے ہوکر پوچھ رہے ہونگے کہ آٹا کیوں مہنگا ہوگیا ہے۔ ارے بھئی ہمارے زمانے میں تو 40 روپے فی کلو آٹا ملتا تھا۔ اس وقت تک یقیناً پی ٹی آئی حکومت کے چار سال مکمل ہوچکے ہونگے، صورتحال اس تبصرے کے مطابق ہوچکی ہوگی جس میں پی ٹی آئی کے مضبوط اتحادی ق لیگ کے رہنما نے کہا ہے کہ دھکے مار کر الگ کرنے تک پی ٹی آئی سے اتحاد ختم نہیں ہوگا۔ جو رویہ حکمرانوں کا ہے پانچ سال مکمل ہونے تک لوگ دھکے ہی مار رہے ہوںگے۔ اور اتحادی رسی تڑواکر بھاگ رہے ہوںگے۔ ایسے صدر، ایسے وزیر ریلویز کو کیا کہا جائے جو عوام کے زخموں پر اس بے دردی سے نمک چھڑکتے ہیں۔ پوری وفاقی حکومت اس بات پر زور دے رہی ہے کہ آٹے کے بحران کی ذمے دار سندھ حکومت ہے۔ لیکن وہ یہ بتانے سے قاصر ہے کہ پنجاب اور کے پی کے میں آٹے کا بحران کیوں ہے۔ وہاں سندھ حکومت ہے یا خود نا اہل ہیں۔ وہ صاحب بھی چلے گئے جو کہتے تھے کہ چھ ماہ تک صرف مثبت تصویر دکھائیں۔ مقدور ہوتا تو پوچھ لیتے کہ چھ ماہ کب سے شروع ہونگے۔
وزیراعظم عمران خان نے حال ہی میں مافیاز کیخلاف جنگ کا اعلان کیا تھا لیکن آٹا، چینی مافیا تو کابینہ میں بیٹھی ہے۔ اب وزیراعظم نے آٹے اور چینی کی قیمتوں میں اضافے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے لیکن جو لوگ گندم برآمد کے اسکینڈل کے مرکزی کردار تھے ان ہی کو گندم درآمد کرنے کا کام سونپ دیا ہے۔ یہ بھی پہلی مرتبہ نہیں ہوا ہے نواز شریف کابینہ ہو یا زرداری کی حکومت یا ق لیگ کی ہر حکومت میں آٹا اور چینی مافیا موجود ہوتی ہے۔ یہ شوگر مل مافیا اور فلور مل مافیا حکومتوں اور اسمبلیوں میں بیٹھا ہوتا ہے۔ اب تو نجی طور پر ٹیکس فری گندم منگوانے کا اجازت نامہ کمائی کا کھلا لائسنس ثابت ہوگا۔ کوئی شعبہ ہو حکومت نالائقی کے ریکارڈ قائم کررہی ہے۔ سنا ہے کہ صدر مملکت نے وضاحت کردی ہے کہ ان کا کہنے کا مطلب وہ نہیں تھا جو اخبارات نے نکالا ہے میرا مطلب یہ تھا کہ مجھے بحران کے ذمے داران کا علم نہیں۔ جناب صدر عذر گناہ بد تراز گناہ کے مصداق بات کہہ گئے۔ ارے ملکوں میں مافیاز بھی ہوتی ہیں اور بحران پیدا کرنے والے بھی یہ کام روکنے کے لیے حکومت بنائی جاتی ہے اور ہمارے صدر فرمارہے ہیں کہ انہیں ذمے داروں کا پتا نہیں۔ تو پھر کیا پتا ہے؟ اصل مسئلہ وہی ہے کہ آٹا اور چینی مافیا ہمیشہ کی طرح اسمبلی اور حکومت میں بیٹھی ہے کوئی قریبی ہے تو کوئی مجبوری ہے۔ یہ سلسلہ تو ایوب خان کے دور سے چلا آرہا ہے کہ ہر خرابی کی ذمہ داری اپوزیشن پر ڈالی جاتی ہے۔ لہٰذا آج کل پوری کابینہ یہی کام کررہی ہے حتیٰ کہ وزیراعظم، امریکا، ملائیشیا اور ڈیووس جا کر بھی پاکستان کے دو خاندانوں کا رونا روتے رہتے ہیں۔ اگر یہ دو خاندان نہ ہوتے تو کس پر الزام لگاتے۔