جمہور کی لاشوں پر جشن جمہوریہ

140

 بھارت اپنا یوم جمہوریہ منا رہا ہے۔ کشمیری عوام ہمیشہ کی طرح یوم سیاہ منارہے ہیں۔ مہینوں سے محاصرے اور لاک ڈائون کا شکار کشمیری سروں پر کفن باندھ کر میدان عمل میں نکل آئے ہیں۔ بھارت کا یوم آزادی ہو یا یوم جمہوریہ ان دونوں سے کشمیریوں کی تلخ یادیں وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب بھارتی جشن مناتے ہیں تو کشمیریوں کے زخم ہرے ہوجاتے ہیں۔ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کا انکار کرنے اور انہیں لاشوں کا تحفہ دینے والا بھارت کس منہ سے یوم جمہوریہ منارہا ہے؟۔ کشمیری عوام کی تو بات ہی کیا آج آدھا بھارت شہریت کے متنازع قوانین اور مودی حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں کے باعث سڑکوں پر سراپا احتجاج ہے۔ بھارت کے ہندو دانشور برملا کہہ رہے ہیں کہ مودی کی پالیسیوں نے بھارت کی جمہوریت اور سیکولرازم کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر ایک جیل سے بھی بڑھ کر قتل گاہ کا منظر پیش کر رہا ہے۔ اب تو بھارت کے اندر سے مودی حکومت کی ظالمانہ کشمیر پالیسی کے خلاف آوازیں بلند ہونے لگی ہیں۔ بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کے راہنمائوں نے راجیا سبھا میں خطاب کرتے ہوئے مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ ان کی طرف سے کہا گیا ہے کہ طاقت سے معاملات حل کرنے کی پالیسی درست نہیں۔ عام شہریوں کے خلاف حد سے زیادہ طاقت قابل قبول نہیں۔ کشمیر کے مسئلے کا سیاسی حل نکالا جائے۔ اس وقت دنیا کے مختلف حلقوں کی طرف سے بھارت کی ظالمانہ کشمیر پالیسی کے خلاف آوازیں بلند ہو چکی ہیں۔امریکا برطانیہ چین اور کئی مسلمان ممالک کھل کر کشمیر میں بھارت کی ظالمانہ پالیسی کے خلاف بول رہے ہیں۔
پاکستان میں ایک بار پھر نوے کی دہائی والی صورت حال پیدا ہورہی ہے جب بھارت مظالم کے ردعمل میں پاکستان میں جلسے جلوس معمول تھے اور جذباتی نوجوان کنٹرول لائن عبور کر کے وادی کے اندر داخل ہوتے تھے۔ کنٹرول لائن توڑنے کی بار بار کوششیں کی جاتی تھیں۔ ایک موہوم امید پر امریکا کے دبائو اور یقین دہانیوں کی بنیاد پر پاکستان نے کشمیر پالیسی کو نرم کر کے بھارت کے ساتھ پیار محبت کی پینگیں بڑھانے کا راستہ اختیار کیا تھا۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں کشمیر پر پاکستان کا سیاسی، سفارتی اور عسکری دبائو بتدریج کم کیا گیا۔ اس پالیسی سے بھارت کے حوصلے جوان ہوگئے۔انہوں نے کنٹرول لائن پر باڑھ مکمل کر لی۔ فوجی تنصیبات کی تعداد بڑھا دی۔ فوجی پوزیشنیں مضبوط کیں۔ کشمیر پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ اس دوران کشمیر کے حریت پسند حلقوں میں مایوسی پھیلنے لگی۔ آزادکشمیر میں مقیم حریت پسند خاموشی سے نیپال کے راستے واپس جانے لگے۔ حریت کانفرنس تقسیم کا شکار ہوگئی۔ بھارت نے دبائو سے نکلتے ہی مقبوضہ کشمیر کے عوام پر مظالم کے پہاڑ توڑنا شروع کیے۔ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے منصوبے بنائے جانے لگے۔ کشمیر کے نوجوانوں کو جعلی پولیس مقابلوں میں شہید کیا جانے لگا۔ بھارت کے حکمران دوبارہ فخریہ انداز میں اٹوٹ انگ کا راگ الاپنے لگے۔ اس صورت حال کو دیکھ کر کشمیر کے نوجوان ایک بار پھر پرامن طور میدان میں نکل پڑے۔نوے کی دہائی کی طرح ان کے ہاتھ میں بندوق نہیں بلکہ غلیل تھی۔ بھارت نے پتھر کا جواب گولی دے دینے کا راستہ اختیار کیا اور اس طرح کشمیر میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھتی چلی گئی۔ آج کشمیر ایک بار پھر آتش فشاں بن کر دنیا کے سامنے آیا ہے۔ اب پاکستان کی حکومت نے سجدہ سہو کرتے ہوئے کشمیر پالیسی کو ٹھیک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسلام آباد کے حکمرانوں نے کشمیر پالیسی کو وادی کے نوجوانوں کے جذبات سے ہم آہنگ کرنے کا جو راستہ اختیار کیا ہے اس کا مقبوضہ کشمیر میں خیرمقدم ہو رہا ہے۔ پاکستان اس تنازعے کا اہم فریق ہے اور وہ خود کو اس صورت حال سے الگ رکھ ہی نہیں سکتا۔ اس لیے پاکستان کی بقا اور سلامتی اور دفاع کا تقاضا یہ ہے کہ کشمیر پر اس کی پالیسی غیر مبہم اور دوٹوک ہو۔ اب صرف رسمی احتجاج سے بات بننے والی نہیں بھارت کے خلاف بھرپور سفارتی یلغار کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا بھر میں پاکستانی سفارت کاروں اور سفارت خانوں کو متحرک کرنا ناگزیر ہے تاکہ وہ دنیا کو بتا سکیں کہ سب سے بڑی جمہوریت کا دعویدار ملک کشمیر میں مسلمانوں کے خلاف کن جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے اور اس معاملے پر دنیا کی خاموشی حالات کو کس حد تک بگاڑ نے کا باعث بن رہی ہے۔ کشمیری عوام اپنا حق ادا کررہے ہیں اب اہل پاکستان کی باری ہے۔