آئی جی کا پی ایس او شہریوں کو ہراساں کر رہا ہے ،

232

کراچی ( رپورٹ \محمد علی فاروق )آئی جی سندھ کے پی ایس او نے سادہ لباس مسلح اہلکاروں کے ساتھ شہریوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ شروع کردیا۔قتل کی دھمکیاں دینے پر شہری نے آئی جی سندھ سے درخواست میں رحمت مسعود کے خلاف کارروائی کی استدعا کردی۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے شہری غفران احمد نے آئی جی سندھ کو ایک درخواست ارسال کی ہے ،جس میں کہا گیا ہے کہ وہ بلدیہ ٹاون کے علاقے میں واقع ایک پٹرول پمپ سے پٹرول ڈلواکر جارہا تھا کہ اچانک ایک گاڑی میں مسلح افراد نے اسے آواز دے کر روک لیا اور الزام لگایا کہ میں پٹرول پمپ پر ڈکیتی کی نیت سے آیا ہوں۔

مسلح افراد نے مجھے قتل کرنے کی دھمکیاں دیں ،میرے استفسار پر انہوں نے خود کو پولیس اہلکار بتایا اور رحیم  محسود نامی شخص نے دعویٰ کیا کہ وہ آئی جی سندھ کا پی ایس او ہے۔اور اس پیٹرول پمپ کا مالک ہے ، جبکہ پرائیویٹ مسلح افراد کا پروٹو کو ل لے کر بدمعاشی کر تا ہے ،صورت حال کی سنگینی محسوس کرتے ہوئے میں نے فوری طور پر پولیس کے اعلیٰ افسر اور ایس ایچ او بلدیہ ٹاون ندیم احمد سے رابطہ کیا اور انہیں تمام صورت حال سے آگاہ کیا ،جس پر بعد ازاں رحیم محسود نامی شخص معذرت کر نے لگا۔

غفران احمد نے اپنی درخواست میں کہا کہ ہراساں کرنے اور دھمکیاں دینے کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے میں نے بارہا ایس ایچ او بلدیہ ٹاو¿ن سے رابطہ کیا لیکن تاحال اب تک ملزمان کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں آسکی ہے۔مجھے خدشہ تھا کہ اگر میں گاڑی نہ روکتا یہ مسلح افراد مجھے قتل کردیتے۔

انہوںنے آئی جی سندھ سے اپیل کی کہ اس بات کی تحقیقات کرائی جائے کہ آئی جی سندھ کا نام استعمال کرکے یہ مسلح افراد جرائم کی کتنی وارداتوں میں ملوث ہیں اور ایس ایچ او بلدیہ ٹاو¿ن کو احکامات جاری کیے جائیں کہ وہ رحمت مسعود اور اس کے ساتھیوں کے خلاف فوری طورپر قانونی کارروائی عمل میں لائیں۔