نئی زرعی پالیسی سیڈایکٹ میں ترمیم کی ضرورت ہے،فریدہ راشد

99

اسلام آباد( کامرس ڈیسک)اسلام آباد ویمن چیمبر آف کامرس کی صدر فریدہ راشدنے کہا ہے کہ ملک بھر کی کاروباری برادری وزیر اعظم کی جانب سے زرعی شعبہ کی بحالی کے اقدامات کی بھرپور تائید کرتی ہے۔کسانوں کو کھاد کی مد میں چالیس ارب روپے کا ریلیف دینا خوش آئند ہے ۔حکومت نے گیس کی قیمت میں اضافہ نہ کر کے عوام دوستی کا ثبوت دیا ہے۔فریدہ راشد نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ زرعی شعبہ کو بہتر بنانے کے لیے زمینی حقائق کے مطابق نئی زرعی پالیسی ،سیڈ ایکٹ میں ترمیم، آڑھتیوں اور سود خوروں کا کردار کم کرنے اور منافع خوروں و ذخیرہ اندوزوں کی حوصلہ شکنی کی فوری ضرورت ہے۔ سب سے زیادہ روزگار فراہم کرنے والے زرعی شعبہ کی گرتی ہوئی کارکردگی ملکی معیشت اور برآمدات کے لیے بڑا خطرہ بن گئی ہے اس لیے اس کلیدی شعبہ کو فوری بیل آوٹ کرنا ضروری ہو گیا ہے۔گزشتہ سال زرعی شعبہ کی شرح نمو ایک فیصد سے کم رہی جبکہ بڑی فصلوں کی پیداوار میں مجموعی طور پر پانچ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔سال رواں میں بھی زرعی شعبہ حکومت کی بھرپور مداخلت کے بغیر قابل ذکر ترقی نہیں کر سکے گا ۔انھوں نے کہا کہ کپاس کی برآمد میں نمایاں مقام رکھنے والے پاکستان امسال ٹیکسٹائل کی صنعت کو رواں رکھنے کے لیے چار ارب ڈالر تک کی کپاس درآمد کرے گا ۔کپاس کی پیداوار میں بیس فیصد کمی سے جی ڈی پی کا نصف فیصد کم ہو جائے گاجو تشویشناک ہے۔گنے کی پیداوار بھی اطمینان بخش نہیں ہے جبکہ دیگر فصلوں کا حال بھی اطمینان بخش نہیں ۔انھوں نے کہا کہ سیڈ ایکٹ میں ترمیم سے ملک میں غیر معیاری بیج کی فروخت بند کی جا سکتی ہے جس سے پیداواراور کسانوں کی آمدنی بڑھے گی جبکہ قیمتیں کم ہو جائیں گی۔ زرعی اجناس کی قیمتیں بہت بڑھ گئی ہیں جس سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے مگر اس سے کاشتکاروں کو کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے۔