پاکستان کی بڑی کرپٹو کرنسی فرم پکڑی گئی

97

پشاور(کامرس ڈیسک)خیبر پختونخوا کے علاقے شانگلہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملک کی بڑی ڈیجیٹل کرنسی فرم کو بے نقاب کرتے ہوئے 2 افراد کو گرفتار کرلیا۔سیکیورٹی حکام کے مطابق کرپٹو کرنسی بنانے والے گروہ کے 2 افراد بھی پکڑے گئے ہیں۔ اس فرم سے بِٹ کوائن ویب سائٹس پر فروخت اور کمیشن لینے کا کاروبار بھی کیا جا رہا تھا۔قانون نافذ کرنے والے اداروں نے خیبر پختونخوا کے علاقے شانگلہ میں پکڑی جا نے والی کمپنی کے گرفتار ملزمان کا تعلق لاہور اور اوکاڑہ سے ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں اس کرنسی کا استعمال غیر قانونی ہے۔ڈی پی او شانگلہ کا کہنا ہے کہ ویب سائٹس پر فروخت اور کمیشن لینے کا کاروبار کیا جا رہا تھا، جہاں ڈالر میں ادائیگی ہوتی تھی۔ مائیننگ فارم کا نظام اوکاڑہ سے آن لائن کنٹرول کیا جا رہا تھا۔ ان کے اکاؤنٹ میں ڈالر کی صورت میں ادائیگی کی جاتی تھی۔ڈی پی او کا مزید کہنا ہے کہ کرنسی کی خرید و فروخت پہلے ہی غیر قانونی قرار دے چکا ہے۔ مائننگ فرم میں65 یونٹس اور ہر یونٹ کے 12 چینل تھے، ایف آئی اے سائبر کرائم کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر رضوان کا کہنا ہے کہ شانگلہ سے گرفتار ملزم پہلے بھی گرفتار ہوچکا ہے۔ ملزم رومی دسمبر 2018 میں لاہور سے پکڑا گیا تھا۔ ملزم کے قبضے سے بٹ کوائن کی 8 مشین بھی برآمد ہوئیں۔ بٹ کوائن کی قیمت 20 لاکھ اور منی لانڈرنگ کا بڑا ذریعہ ہے۔ ملزم سے بِٹ کوائن کی 8 مشین برآمد ہوئی تھیں۔محمد رضوان نے بتایا کہ ملزم فروری 2019 میں ضمانت پر رہا ہوا تھااور چترال میں بھی اس کا نیٹ ورک پھیلا ہوا تھا۔