اے سی سی اے کا ڈیووس میں پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع پر زور

99

کراچی(اسٹاف رپورٹر)دی ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس(اے سی سی اے) کے اعلیٰ عہدیداران سوئزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں جاری عالمی اقتصادی فورم سے باہر،پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع کو فروغ دینے کے علاوہ پائیدار کاروباری طریقوں اور پاکستان میں اکاؤنٹنسی کی اہمیت پرزوردینے کی غرض سے ڈیووس میں ہیں۔ عالمی اقتصادی فورم کے چار روزہ اجلاس کا آج آخری دن ہے۔ڈیووس میں موجود ایسوسی ایشن کے عہدیداران میں اے سی سی اے پاکستان کے ہیڈ سجید اسلم، گلوبل ہیڈ آف پبلک افیئرز، انتھونی والٹرز، کونسل کی رکن عائلہ مجید ایف سی سی اے، اے سی سی اے ک سینئر رکن، کبیر نقوی ایف سی سی اے کے علاوہ ایپروڈ لرننگ پارٹنرز دی ملینیم یونیورسل کالج کے چیف ایگزیکٹو آفیسر چودھری، فیصل مشتاق (ستارۂ امتیاز) کے علاوہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے متعدد پارٹنر ایمپلائرز مثلاً اخوت فاؤنڈیشن کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب، واجد مرزا، پارٹنر آرتھر لارنس اور دین لیدر (پرائیویٹ)لمٹیڈ کے ڈائریکٹر، عرفان منیرشامل تھے۔ڈووس-کلاسٹرز میں منعقد ہونے والے متعدد ایونٹس میں اے سی سی اے پاکستان کے ہیڈ سجید اسلم نے مختلف رہنماؤں سے ملاقات کی اوراُن پر پاکستان کے عالمی آؤٹ سورسنگ اور شیئرڈ سروس سینٹرز کے لیے ایک مرکز بننے کی گنجائش پر زور دیا۔ اسی کے ساتھ انہوں نے اُن رہنماؤں پر اس بات کے لیے بھی زور دیا کہ پاک-چین اکنامک کوریڈور (سی –پیک) کے جاری اور آئندہ کے پروجیکٹس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے زبردست اقتصادی مواقع میں بھی شرکت کی جا سکتی ہے۔دی ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس نے پاکستان میں سی پیک پر جامع تحقیق کی ہے اور شنگھائی اسٹاک ایکسچینج، سنگاپور اکاؤنٹنسی کمیشن، شنگھائی نیشنل اکاؤنٹنگ انیشی ایٹو، ای وائے، ڈیلوائٹ، لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز (لمز) اور پاکستان –چائنا انسٹی ٹیوٹ کی شراکت میں کی گئی اس تحقیق کے نیتجے میں چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو پر کارآمد فکری رہنمائی پیدا ہوئی ہے۔