سندھ حکومت ورلڈ بینک کےتعاون سے 33 ارب روپے کی لاگت سےمنصوبہ شروع کریگی، سید ناصر حسین شاہ

275

کراچی(اسٹاف رپورٹر)صوبائی وزیر بلدیات ہاؤسنگ و ٹاؤن پلاننگ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ سندھ حکومت ورلڈ بینک کے تعاون سے کراچی میں لوکل کونسل بشمول کے ایم سی، ڈی ایم سیز اور ڈسٹرکٹ کونسل کے کام کرنے کی صلاحیتوں میں اضافہ کیلیے 33 ارب روپے(33.600 امریکی ڈالر) کی لاگت سے کمپیٹیٹو اینڈ لائیور ایبل سٹی آف کراچی (کلک) کا منصوبہ شروع کری گی،

یہ منصوبہ چھ سال کے عرصے میں مکمل کیا جائے گا جس کے تحت شہر کے مووجدہ اسٹرکچر کو گراس روٹ کی سطح تک بہتر بنایا جائے گا،

ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعہ کے روز سندھ سیکریٹریٹ میں کلک پروجیکٹ کی لانچنگ کی تقریب کا افتتاح کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ورلڈ بینک کے ریجنل ڈائریکٹر جان روم، سیکرٹری بلدیات روشن علی شیخ، پروجیکٹ ڈائریکٹر کلک زبیر چنہ، ایم ڈی واٹر بورڈ اسداللہ، اسپشل سیکریٹری لوکل گورنمنٹ (ٹیکنکل) سید محمد طٰحٰہ کے علاوہ بلدیاتی اداروں کیسربراہان و دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے،

وزیر بلدیات نے اس موقع پر پروجیکٹ کی تفصیلات کے بارے میں بتایا کہ کلک پروجیکٹ کی کل لاگت 33.600 بلین روپے (240 ملین یو ایس ڈالر) ہے جس میں سے 1.400 بلین روپے حکومت سندھ اپنے سالانہ ترقیاتی پروگرام سے فراہم کرے گی۔ اور 230 ملین یو ایس ڈالتر ورلڈ بینک اپنے انویسٹمنٹ فنانسنگ کے ذریعہ فراہم کرے گا،

پروجیکٹ اپنے آغاز سے 6 سال میں مکمل ہوگا۔ حکومت سندھ کو کراچی میں لوکل کونسل (کے ایم سی، ڈی ایم سیز اور ڈسٹرکٹ کونسل) کے افعال میں بہتری کیلیے ورلڈ بینک کا تعاون درکار ہے اس پروجیکٹ کی تکمیل کے بعد اسے صوبے بھر میں پھیلایا جائے گا،

وزیر بلدیات نے کہا کہ یہ منصوبہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے وڑن کے مطابق ہے جس کے تحت عوام کو ان کی دہلیز تک سہولیات کی فراہمی ہے اور عوام کی زندگی کے معیار کو بہت ربنانا ہے اور تمام تر بلدیاتی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ صوبے کے انفرااسٹرکچر کی بہتری اور معیاری سہولیات کی فراہمی بھی اسی وڑن کا حصہ ہے،

انھوں نے کہا کہ کلک پروجیکٹ میں شامل تمام بلدیاتی اداروں کو فنڈز کارکردگی کی بنیادوں پر فراہم کیئے جائیں گے جس ادارے کی کارکردگی بہتر نہیں ہوگی اگلی دفعہ اس ادارے کا فنڈ اچھی کاررکدگی والے ادارے کو دے دیئے جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ کے۔فور پروجیکٹ پر کام ہو رہا ہے اور 265 ایم جی ڈی فیز ون کے منصوبے کو ضرور مکمل کیا جائے گا،

وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے مزید کہا کہ پانی کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے حب ڈیم سے کراچی پانی کی فراہمی کے دوران کافی پانی ضایع ہوجاتا ہے جس پر کام جاری ہے۔ پانی کی کمی کو پورا کرنے کیلیے ہالیجی جھیل کی استعداد بڑھا رہے ہیں جبکہ ڈی سیلی نیشن پر بھی کام ہو رہا ہے۔ ٹریٹمنٹ پلانٹس پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں،

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری روشن شیخ نے کہاکہ یہ اسٹریٹجک پارٹنرشپ ہے جوکہ کراچی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے۔ حکومت نے کراچی کیلیے میگاپروجیکٹ شروع کیئے ہیں جبکہ کئی میگاپروجیکٹ کا گزشتہ دنوں افتتاح بھی کیا گیا ہے۔ 300 بلین روپے کے پروجیکٹ ایک سے دو سال میں کراچی میں شروع کئے جارہے ہیں تاہم تمام پروجیکٹ کی کامیابی کا دارومدار تمام اسٹیک ہولڈرز کے بھرپور تعاون پر ہے،

جسکی سپورٹ کے بغیر کوئی بھی پروجیکٹ ناممکن ہے۔ سیکرٹری بلدیات نے اپنے خطاب میں پروجیکٹ کے بنیادی اجزاء کے بارے میں بتایا کہ لوکل گورنمنٹ ڈپارٹمنٹ کے تحت کراچی میں کام کرنے والی لوکل کونسلز کے ڈھانچہ میں بہتری لاکر ان کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے اس جزو کی لاگت 181.86 ملین یو ایس ڈالر ہے۔ ایکسائیز اینڈ ٹیکسیشن
ڈپارٹمنٹ کے پراپرٹی ٹیکس نظام میں بہتری لانا ہے اس پروجیکٹ کی لاگت 40.4 امریکی ڈالر ہے،

پروجیکٹ کا تیسرا جزو انویسٹمنٹ ڈپارٹمنٹ کے سندھ انویسٹمنٹ پورٹل میں بہتری لانا ہے جس پر 17.2 ملین یو ایس ڈالر ہے۔ اس پروجیکٹ کا مقصد لوکل گورنمنٹ ڈپارٹمنٹ کو معاملات میں تعاون فراہم کرنا ہے،

کے ایم سی اور دیگر چھ ڈی ایم سیز اور ضلع کونسل میں ادارہ جاتی ترقی /نظم وضبط میں بہتری لاکر اپنے مالیاتی وسائل کو مضبوط کرتیہوئے ڈھانچہ کو ترقی دے کر اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرسکیں۔ لوکل گورنمنٹ ڈپارٹمنٹ میں پی پی پی موڈ کا قیام، اور سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے لیے تکنیکی مدد شامل ہے،

پروجیکٹ ڈائریکٹر کلک زبیر چنہ نے اس موقع پر پروجیکٹ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہ پروجیکٹ کے تحت لوکل کنسلز اپنے ذیلی پروجیکٹس میں مندرجہ ذیل شعبوں پر توجہ دیں گے۔ سڑکوں کے ڈھانچے پر 35 فیصد شہر میں طوفانی بارشوں میں نکاسی آب کے لیے 15 فیصد، پارکوں اور عوامی مقامت کیلئے 20 فیصد، عوامی مقامات کیلیے 10 فیصد اور آگ بجھانے اور قدرتی آفات سے نمٹنے کیلیے 10 فیصد توجہ دیں گے۔ تقریب سے ریجنل ڈائریکٹر ورلڈ بینک جان روم نے بھی خطاب کیا۔