سندھ میں وہی افسر چلے گا جو نمائندوں کی پالیسی پر عمل کرے گا،مراد علی شاہ

101
کراچی: وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ سند ھ اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کررہے ہیں

کراچی(نمائندہ جسارت) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ میں وہی افسر چلے گا جو نمائندوں کی پالیسی پر عمل کرے گا۔ ان کے بقول سندھ حکومت انسپکٹر جنرل پولیس کلیم امام پر عدم اعتماد کا اظہار کرچکی ہے اس لیے انہیں عہدے پر رہنے کا کوئی حق نہیں۔جمعرات کو سندھ اسمبلی میں پی ٹی آئی کے رکن خرم شیر زمان کی جانب سے آئی جی سندھ کے تبادلے سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پر وزیراعلیٰ سندھ برس پڑے۔ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ کچھ عرصہ قبل ایک دہشت گرد کے پاس اخباری نمائندے کو رسائی بھی دی گئی جس کا مقصد مجھے بدنام کرنا تھا،پولیس میں کچھ کالی بھیڑیں بھی ہیں، میرے پاس اکتوبر میں ایکڈاک آئی کہ پولیس ہمارے خلاف من گھڑت کیس بنائے گی، میں نے ایک اچھے افسر سے انکوائری کروائی مگر وہ انکوائری رپورٹ مجھے آج تک نہیں ملی کیونکہ وہ رپورٹ آئی جی نے دبالی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سندھ کابینہ نے آئی جی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے لیکن بڑے افسوس کی بات ہے کہ کلیم امام اب اوچھی حرکتوں پر اترآئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے آئی جی کو چلانے کی کوشش کی مگر وہ اس قابل نہیں کہ انہیں سندھ میں مزید رکھاجائے،آئی جی اب پارٹی بن چکے ہیں، وہ اپوزیشن کے ارکان سے رابطے کرتے رہے ہیں، ہم افسران کو سیاست میں حصہ نہیں لینے دیں گے۔ وزیراعلیٰنے کہا کہ چاہتا ہوں کہ پولیس آزادی سے کام کرے لیکن پولیس پارٹی بن جائے خاص طور پر آئی جی تو وہ پریشان کن ہے، صوبے امن وامان کی صور تحال بہت زیادہ خراب ہے، آئی جی کی نااہلی کی وجہ سے پولیس میں مسئلے کھڑے ہورہے ہیں۔مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ آئی جی نے چیف سیکرٹری کو خط لکھا کہ میں کپتان ہوں لیکن میری مرضی نہیں چلتی، مجھ سے پوچھے بغیر افسران کی خدمات واپس کیں اور بڑی ہوشیاری سے آئی جی کا خط میڈیا میں لیک کیا گیا، مجھے نہیں پتا آئی جی سندھ فون پرکس کس سے باتیں کرتے تھے، کرکٹ کی باتیں کرکے پتا نہیں کس کو خوش کرنا چاہتے تھے۔وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ آئی جی کو ہٹانے کا فیصلہ یکطرفہ نہیں، آئی جی کلیم امام کی تبدیلی کے حوالے سے قانون پرعمل کیا، اس حوالے سے وزیراعظم سے باقاعدہ مشاورت ہوئی، وزیراعظم سے 3 سے 4 مرتبہ بات ہوئی، وزیراعظم سے کہا کہ آئی جی کی نااہلی سے مسائل پیدا ہورہے ہیں، جب کراچی کے حالات خراب ہوتے ہیں تو مجھ سے سوال ہوتا ہے، وزیراعظم نے خود کہا کہ آئی جی کے تبادلے پر نام بھیج دیں، ہم نے 3 نام بھیجے تھے لیکن وفاق نے 5 نام مانگے، یقین ہے کہ وزیر اعظم بیرون ملک دورے سے واپس آکر نئے آئی جی کی منظوری دے دیں گے۔