قوم مسائل کی زد میں، ابھی نہیں تو کبھی نہیں

320

محمد اکرم خالد
موجودہ حکومت نے بے روزگاری بھوک سے تنگ عوام کے لیے لنگر خانوں شیلٹر ہوم جیسی اسکیموں کا اعلان کر کے یہ تو ثابت کر دیا ہے کہ یہ حکومت بھی ماضی کی حکومتوں کی طرح امیر غریب کے فرق کو ختم کرنے میں ناکام رہی ہے اسی طرح ہم پاکستان کو غریب معاشی بحران کی زد میں مبتلا ملک ثابت کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں مگر ہمارے ہی میڈیا چینلز پر ریٹنگ کی دوڑ میں بڑے بڑے انعامی شوز کی بھر مار جہاں ایک سوال پر ہزاروں لاکھوں کے مفت انعامات دیے جاتے ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ پاکستان میں اشرافیہ کے پاس لوٹانے کو بہت کچھ موجود ہے مگر غریب کو سرکس کیے بغیر کچھ نہیں حاصل ہوسکتا اگر ان شوز کا انعقاد کر نے والے اس غریب قوم کی فلاح بہبود کا کام اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کریں تو دنیا کی ریٹنگ سے زیادہ ان کو آخرت میں اس کا اجر حاصل ہوسکتا ہے۔ مگر اس ملک و قوم کی یہ بد قسمتی ہے کہ حکمران ہوں یا فلاحی ادارے یا این جی اوز ہر ایک اس دنیا میں غریب کی مدد فوٹو سیشن کے بغیر انجام دینے سے قاصر رہا ہے جب تک ہم غریب کے مسائل کو دنیا میں نیلام نہ کریں اُس وقت تک غریب کی مدد ناممکن ہے ہم اس کی تذلیل کو فوٹو سیشن کا نام دیتے ہیں اگر اس ملک کی اشرافیہ بڑے بڑے نیلام گھر شوز کا انعقاد کرنے کے بجائے غریب بے بس عوام کی مدد بغیر فوٹو سیشن بغیر نیلام گھر کے انجام دے سکیں تو ایک بے بس مجبور غریب انسان کی مدد کے ساتھ ساتھ معاشرے میں اس کی عزت نفس کو بھی محفوظ رکھا جاسکتا ہے اور دوسرا اس نیکی کا ثواب نیلام گھر شو سے زیادہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ ہزاروں لڑکیاں کو جہیز نہ ہونے کی وجہ سے بڑھتی عمر کا سامنا ہے اسی طرح لاکھوں بے روزگار نوجوان روزگار نہ ہونے کی وجہ سے جرائم کی جانب بڑھ رہے ہیں اگر کروڑوں روپے خرچ کر کے نیلام گھر شوز یا گیت سنگیت کی محفلیں سجائی جاسکتی ہیں تو کیوں اس رقم سے جہیز نہ ہونے کی وجہ سے شادی سے محروم ہزاروں بچیوں کی شادی ہزاروں بے روزگار نوجوانوں کو چھوٹے چھوٹے کاروبار کراکر دیے جاسکتے ہیں بے گھر افراد کی مدد کی جاسکتی ہے۔
ماضی کی حکومتوں نے عوام کی فلاح بہبود کی جو اسکیمیں معتارف کرائیں یا موجودہ حکومت نے جو روزگار کے نام پر کامیاب نوجوان اسکیم متعارف کرائی ان سے چند غریب افراد کو یقینا فائدہ حاصل ہوا ہوگا جبکہ ان اسکیموں کا بڑا حصہ سیاسی بنیادوں پر تقسیم ہوجاتا ہے موجود وزیر اعظم کی کامیاب نوجوان اسکیم میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس اسکیم سے محروم کر دی گئی ہے اس اسکیم کا پر چار تو بہت کیا جارہا ہے مگر ذاتی مشاہدے کی بنیاد پر عرض کر رہا ہوں کہ بینکوں میں یہ اسکیم بند کر دی گئی ہے جس سے لاکھوں بے روزگار نوجوان محروم رہے ہیں۔ اس وقت ملک میں معاشی سیاسی بحران کے ساتھ ساتھ غربت مہنگائی کا بحران بڑی تیزی سے بڑھ رہا ہے نوکری پیشہ حضرات ہوں یا مزدور پیشہ یا چھوٹے دکاندار ہوں ہر ایک کو گھر کا نظام چلانا مشکل ہوگیا ہے بچوں کی تعلیم علاج روٹی کپڑا پچاس ہزار کمانے والے کے لیے بھی پورا کرنا مشکل ترین ہوگیا ہے گزشتہ روز وزیر اعظم نے تاجر برداری سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ میں اپنی ذاتی تنخواہ میں اپنا گھر بڑی مشکل سے چلا رہا ہوں اگر ملک کا وزیر اعظم اپنے گھریلومعاشی مسائل کو اشرافیہ کی زندگی گزارتے ہوئے پورا کرنے سے قاصر ہے تو سوچا جائے ایک غریب مزدور پیشہ افراد یا ایک سرکاری ملازم سمیت پنشن کی بنیاد پر اپنی زندگی بسر کرنے والے بزرگ حضرات کا چولہا کیسے چلتا ہوگا۔
بدقسمتی سے سیاستدانوں نے ہمیشہ اس قوم کی غربت کی تذلیل کی ہے کبھی ٹاک شو پر کبھی پارلیمنٹ میں تو کبھی بڑے بڑے جلسوں میں غریب کے مسائل کا مذاق اُڑایا گیا ہے بڑی بڑی قیمتی گاڑیوں میں شیشے کے محل میں رہنے والے بیرون ملک اثاثے بنانے والے سیکڑوں کمپنیوں کے مالک ہوں یا کرکٹ کے میدان سے کروڑوں روپے بنانے والے نااہل کھلاڑی ہو، شوبز سے تعلق رکھنے والے حضرات ہوں بڑی بڑی این جی اوز جو غریب کے نام پر اشرافیہ سے بھیک مانگ کر اپنی ذات پر خرچ کرتی ہوں یا وہ فلاحی ادارے جو غریب کے نام پر قائم تو ضرور کیے گئے ہوں مگر ان سے ذاتی فائدہ حاصل کیا جارہا ہو ہر ایک نے اس مسائل زد قوم کو مایوسی نا اُمیدی کے سوا کچھ نہیں دیا ہے۔
ہم اپنے دشمن کو ہر محاذ پر شکست تو دے سکتے ہیں مگر ہم اس غربت کے نظام کو کب شکست دینے کے قابل ہوںگے یاد رکھا جائے یہ قوم غریب نہیں ہے اس قوم کو غریب بنادیا گیا ہے اس قوم کو غربت کی طرف دھکیل دیا گیا ہے جس قوم کے سیاستدان ملک و بیرون ملک اثاثے رکھنے کے قابل ہوسکتے ہیں جس ملک کا میڈیا جس ملک کی اشرافیہ نیلام گھر شوز پر کروڑوں روپے خرچ کر سکتی ہو جس ملک کے کھیل کے میدانوں پر کروڑوں روپے ہر ماہ خرچ کیا جاتا ہو۔ اس ملک کو غربت زدہ قرار دے کر اپنی سیاسی دکانیں چمکانے والوں کو اب یہ سوچنا ہوگا کہ یہ ملک اللہ کی نعمتوں سے مالا مال قدرتی وسائل رکھنے والا ملک ہے اس کو غربت کا سامنا نااہل نالائق حکمرانوں کے سبب تو ہوسکتا ہے تو اس ملک پر اللہ کی رحمت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ لہٰذا حکمرانوں سمیت ہر با اثر افراد جن کو اللہ نے اپنی رحمت سے نوازہ ہے ان کو ایک بار اس ملک و قوم کے لیے بھی سوچنے کی ضرورت ہے۔ اگر ابھی نہیں تو پھر کبھی نہیں۔