پاکستان رینجرز ( سندھ ) اور سی ٹی ڈی پولیس ، کالعدم تنظیم کے2 انتہائی مطلوب دہشت گرد گرفتار ،

303

کراچی (اسٹاف رپورٹر ) پاکستان رینجرز ( سندھ ) اور سی ٹی ڈی پولیس کی اورنگی ٹاون میں مشترکہ کاروائی کر کے کالعدم تنظیم کے2 انتہائی مطلوب ملزمان کو گرفتار کر لیا ، ملزم ۔ منصور احمد عرف بلال عرف ابراہیم عرف شیخ بھائی جان کی گرفتاری پر گورنمنٹ آف سندھ نے 30 لاکھ روپے انعام مقرر کر رکھا جبکہ ملزم فضل غنی عرف شفیق عرف نجیب کی گرفتاری پر گورنمنٹ آف سندھ نے 20 لاکھ روپے انعام مقررکیا تھا ۔

ترجمان پاکستان رینجرر ( سندھ ) کے مطابق پاکستان رینجرز(سندھ) نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر سی ٹی ڈی پولیس کے ساتھ اورنگی ٹاو¿ن کے علاقے بسم اللہ کالونی میں مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم کے 2انتہائی مطلوب ملزمان منصور احمد عرف بلال عرف ابراہیم عرف شیخ بھائی اور فضل غنی عرف شفیق عرف نجیب کو گرفتارکیا۔ ملزمان سی ٹی ڈی کی جاری کردہ ریڈ ب±ک میں مطلوب دہشت گرد کی فہرست میں شامل ہیں اور ملزمان کا تعلق TTP استاد اسلم گروپ سے ہے۔ ابتدائی تفتیش کے دوران ملزمان نے دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے،ترجمان رینجرز کے مطابق منصور احمد عرف بلال عرف ابراہیم عرف شیخ بھائی جان کاتعلق TTP استاد اسلم گروپ سے ہے۔ ملزم انتہائی عسکری تربیت یافتہ ہے اور متعدد بار افغانستان اور وزیر ستان جاتا رہاہے۔ کراچی میں TTPاستاد اسلم گروپ کا امیر ہے اور جندوللہ گروپ کے امیر ثاقب عرف انجم اور تحریک طالبان سوات کے کراچی کے عسکری امیر سلمان عرف یاسر کا قریبی ساتھی ہے۔ گرفتار ملزم کراچی میں دہشت گردی کی متعددکاروئیوں میں ملوث ہے۔منصور احمد عرف بلال عرف ابراہیم کا نام CTD سندھ پولیس کی ریڈ بک میں سیریل نمبر 25 اور صفحہ نمبر 56 پر انتہائی مطوب ملزمان کی فہرست میں شامل ہے اور ملزم کی گرفتاری پر گورنمنٹ آف سندھ نے 30 لاکھ روپے انعام مقرر کر رکھاہے۔جبکہ فضل غنی عرف شفیق عرف نجیب کا تعلق بھی TTP استاد اسلم گروپ سے ہے اور منصور احمد عرف بلال کا انتہائی قریبی ساتھی ہے اور منصور احمد عرف بلال کے ہمراہ دہشت گردی کے تما م کاروئیوں میں ملوث رہا ہے۔ ملز م ٹر یننگ یافتہ ہے اور دہشت گردی کی کارروائیوں کے بعد چمن بلوچستان اور سپن بلدک افغانستان میں روپوش رہا ہے۔ ملزم جند اللہ گروپ کے کراچی کے امیر ثاقب عرف انجم کا قریبی ساتھی ہے جوگرفتار ملزم فضل غنی عرف شفیق کا نام CTD سندھ پولیس کی ریڈبک میں سیریل نمبر 6 اور صفحہ نمبر18 پر انتہائی مطوب ملزمان کی فہرست میں شامل ہے اور ملزم کی گرفتاری پر گورنمنٹ آف سندھ نے 20 لاکھ روپے انعام مقرر کر رکھاہے۔

ملزمان نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ 15مئی 2011ءکو سول اسپتال کراچی میں پولیس حراست میں زیر علاج اپنے ساتھی علاو¿ الدین کو رہا کروانے کے لئے ملزمان نے پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنایا اور اپنے ساتھی کو چھڑوا کر لے گئے تھے۔ 25مئی 2015ءکو پاکستان رینجرز (سندھ) نے انٹیلی جنس ادارے کے ساتھ ملکر ملزمان کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع پر اورنگی ٹاو¿ن کے علاقہ شاہ محلہ فقیر کالونی میں آپریشن کیا۔ رینجرز اور ملزمان کے درمیان مقابلہ ہوا جس کے نتیجے میں ملزمان کے تین ساتھی ناصر ڈا ڈا،انور حسین عرف دیوانہ اور عبد السلام عرف سلام ہلاک جب کہ ملزمان کے ساتھی ارشد عرف خا لد اور شہزادہ عرف عابد تراہ گرفتار کئے گئے تھے اور مذکورہ دونوں ملزمان دوران مقابلہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

ملزمان کے گھر سے 3عدد بی ایم میزائل، 55کلو بارود،4عدد کلاشنکوف، 8عدد پسٹلز،ایک عدد ایل ایم جی، 10عدد ہینڈ گرنیڈ،یوریا کھاد، پر ائما کارڈ،ڈینونیٹر ز،بال بیرنگ اور نٹ بولٹ بھی بر آمد ہو ئے تھے۔24اپریل2017ءکو پاکستان رینجرز (سندھ) نے مصدقہ انٹیلی جنس اطلاع پر صدر ٹاو¿ن تھانہ پریڈی کے علاقے اردو بازار میں ایک فلیٹ میں ملزمان کی اطلاع پر ریڈ کیاتھا جس کے دوران رینجرز اور ملزمان کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہواتھاجس میں ملزمان کے ساتھی نعیم عرف ماما، عبدالحفیظ عرف پہلوان، محمد زاہد آفریدی عرف سپن عرف حمید اور زاہد آفریدی کی بیوی اور ایک بیٹی ہلاک ہوئے تھے جب کہ ملزمان فرار ہونے میں کامیا ب ہو گئے تھے۔

ترجمان رینجرز کے مطابق 21نومبر 2012ئکو تھانہ پیر آباد کے علاقہ اورنگی ٹاو¿ن پونے پانچ کی مرکزی امام بارگاہ کے اندر بلاک بم نصب کر کے بلاسٹ کیا گیا تھا جس سے کو ئی جانی نقصان نہیں ہواتھا۔ 29جنوری 2014?کو نارتھ ناظم آباد کے علاقہ میں صائمہ ٹاور ریلوے لائن کے قریب رینجرز چیک پوسٹ پر بلاک بم بلاسٹ اور رینجرز ہیڈ کوارٹرز ناظم آباد میں خود کش حملہ ہوا تھا جس میں ملزمان کے ساتھی شیر بہادر اور جنداللہ گروپ کے کمانڈر ثاقب عرف انجم ملوث تھے۔ اس کارروائی میں ملزمان نے بلاک بم فراہم کیاتھا۔اس کارروائی میں 3رینجرز اہلکار اور ایک پولیس اہلکار شہید جب کہ 7افراد زخمی ہوئے تھے۔

21نومبر 2014ءکو تھانہ اورنگی ٹاو¿ن کے علاقہ اور نگی ٹاو¿ن نمبر 5میں ایک سیاسی جماعت کے رکن سازی کیمپ پر ہینڈ گرنیڈ بلاسٹ کیاتھا جس سے سیا سی جماعت کے 12کارکنان زخمی ہو گئے تھے۔3فروری 2015ءکو تھانہ سائٹ اے کے علاقہ حبیب بینک چورنگی کے نزدیک رینجرز کی موبائل پر ایک بلاک بم نصب کر کے بلاسٹ کیا تھا جس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

27مارچ2015ءکو تھانہ شاہ لطیف ٹاو¿ن کے علاقہ قائد آباد مرغی خانہ میں نیشنل ہائی وے پر SSU رزاق آباد پولیس ٹریننگ سنٹر کے اہلکاروں کی گاڑی کو بارودی موٹر سائیکل بلاسٹ کر کے تباہ کیاتھا جس کے نتیجے میں دو اہلکار شہیدجب کہ 15اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔ ملزمان 2014 ء اور 2015 ءکے دوران میٹروول،سعید آباد اور مومن آباد کے علاقوں میں اغواء برائے تاوان کی متعدد وارداتوں میں ملوث رہے ہیں جس میں مغویان کورہا کرنے کے عوض کروڑوں مالیت کا تاوان بھی وصول کیا ۔

ملزمان 2012ءاور 2013ءکے دوران میٹروول،بنارس چوک،رشیدآباد اور کورنگی کے علاقوں میں لاکھوں روپے مالیت کی بنک ڈکیتوں میں بھی ملوث رہے ہیں۔ ملزمان کے قبضے سے اسلحہ اور ایمونیشن بھی بر آمد کر لیا گیا ہے اورملزمان کو قانونی کارروائی کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ عوام سے اپیل ہے کہ ایسے عناصر کے بارے میں اطلاع فوری طور پر قریبی چیک پوسٹ،رینجرز ہیلپ لائن 1101 یا رینجرز مددگار واٹس ایپ نمبر03479001111 پر کال یا ایس ایم ایس کے ذریعے دیں۔آپ کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔