مودی سرکار کا شاہین باغ دھرنا ختم کرانے کا نیا حربہ

270
نئی دہلی: شاہین باغ کے علاقے میں متنازع قانون کے خلاف دھرنے کو گزشتہ روز 38دن مکمل ہونے کے باوجود ہزاروں مسلمان بچے، عورتیں، بزرگ اور مرد اپنی شناخت کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہیں

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) متنازع شہریت ترمیمی قانون کے خلاف دہلی کے شاہین باغ میں 38روز سے خواتین کی منفرد تحریک جاری ہے۔ اسے ختم کرنے کے لیے مختلف طریقوں کی ناکامی کے بعد مودی حکومت نے اب بچوں کا حربہ آزمانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارتی ادارے قومی کمیشن برائے تحفظ اطفال نے شاہین باغ کے علاقے جنوب مشرقی دہلی کے انتظامی مجسٹریٹ سے کہا ہے کہ مظاہرے میں شامل بچوں کی نشاندہی کرکے ان کی ذہن سازی کریں اور ضروری ہوتو چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو 10روز کے اندر جواب دینے کے لیے کہا گیا ہے۔ دریائے جمنا کے کنارے واقع شاہین باغ میں خواتین گزشتہ 38روز سے مسلسل دھرنا دیے ہوئے ہیں۔ دہلی کی شدید سردی اوربارش بھی ان کا حوصلہ پست نہیں کرسکی۔ اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ حکومت کا نیا ہتھکنڈا بھی ناکام ہوگا۔ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کرنے والوں میں جہاں بزرگ خواتین ہیں وہیں ایسی مائیں بھی ہیں جواپنے بچوں کو بھی دھرنے میں ساتھ لے کر آتی ہیں۔ بعض بچے تو ایک ماہ سے بھی کم عمر کے ہیں۔ قومی کمیشن برائے تحفظ اطفال نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ہرلین کور کو ہدایت کے ساتھ ایک وڈیو بھی بھیجی ہے، جس میں بچے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ وڈیو میں بچے یہ کہتے ہوئے سنائی دے رہے ہیں کہ ان کے والدین نے بتایا ہے کہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ ان سے شہریت کے دستاویزات دکھانے کو کہیں گے اور اگر وہ دکھا نہیں پائے، تو انہیں حراستی مراکز میں بھیج دیا جائے گا، جہاں انہیں نہ تو کھانے کو ملے گا اور نہ پہننے کے لیے کپڑے۔ کمیشن کی چیئرپرسن نے کہا ہے کہ ضروری ہوا تو ان بچوں کے والدین کی بھی کونسلنگ کی جاسکتی ہے۔ خیال رہے کہ چائلڈ ویلفیئر کمیٹیاں ہر ضلع میں قائم ہیں اور وہ جووینائیل جسٹس قانون 2015ء کے تحت بچوں کی دیکھ بھال جیسے امور کے لیے کام کرتی ہیں۔ شاہین باغ دھرنے کے منتظمین میں سے ایک شاہین کوثر نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جب یہاں مائیں ہیں تو بچے بھی ہوں گے۔ اسٹیج سے بار بار کی ہدایت کے باوجود وہ ایسا کرتے ہیں، لیکن بچوں کو بھی حالات کا علم ہونا چاہییں۔ انہیں بھی معلوم ہونا چاہیے کہ کیا اچھا ہے اور کیا برا۔ خیال رہے کہ مودی حکومت اور حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی شاہین باغ میں خواتین کے دھرنے کو ختم کرنے کے لیے کئی حربے آزما چکی ہے۔ پہلے اسے صرف مسلمانوں کا احتجاجی مظاہرہ کہا گیا، لیکن جب وہاں قرآن، بائبل، ہون اور شبد کیرتن کے پروگرام ہوئے اور بڑی تعداد میں غیرمسلم شریک ہونے لگے تویہ حربہ ناکام ہوگیا۔ اس کے بعد کشمیری پنڈتوں کی مہاجرت کا معاملہ اٹھایا گیا، لیکن مخالفین کو اس وقت منہ کی کھانی پڑگئی جب کشمیری پنڈتوں کے کئی رہنما اظہار یکجہتی کے لیے شاہین با غ پہنچ گئے۔ دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل نے اپنے دفتر میں شاہین باغ کی نمایندہ خواتین سے ملاقات کی اور ان سے احتجاج ختم کرنے کی اپیل کی، لیکن ان خواتین کا کہنا ہے کہ وہ متنازع شہریت قانون واپس لیے جانے تک یہاں سے اٹھنے والی نہیں ہیں۔ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف شاہین باغ کی خواتین کا مظاہرہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط ہوتاجارہا ہے۔