کراچی میں خوفناک آتشزدگی ،200 سے زائد جھونپڑیاں جل کر خاکستر

134

کراچی(رپورٹ /محمد علی فاروق )تین ہٹی پل کے نیچے قائم جھگیوں میں رات گئے اچانک آگ بھڑک اٹھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے جھگیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔آتشزدگی کے باعث 200 جھگیاں اور ان میں موجود سامان جل کر خاکستر ہوگیا جبکہ 450 سے 500 افراد متاثر ہوئے، تاہم معجزانہ طور پر کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔آگ لگتے ہی جھگیوں کے مکینوں میں چیخ و پکار مچ گئی جبکہ خواتین چھوٹے بچوں کو سینے سے لگائے جان بچانے کے لیے محفوظ مقام کی جانب دوڑتی ہوئی دکھائی دیں۔ دیگر مکین جھگیوں سے قیمتی سامان نکالنے کی کوششیں کرتے رہے تاہم جان بچانے کے لیے انھیں بھی اپنا سامان چھوڑ کر وہاں سے ہٹنا پڑا۔جھگیوں کے مکین اپنا مال اسباب جلتا دیکھ کر زارو قطار روتے رہے جبکہ خواتین شدت غم سے نڈھال ہوگئیں۔

متاثرین کے مطابق آگ نے ہمارے سروں سے چھت چھین لی اب اس سرد موسم میں اپنے بال بچوں کے ساتھ کہاں جائیں۔ فائر بریگیڈ کے مطابق لیاقت آباد میں تین ہٹی کے قریب لیاری ایکسپریس وی کے فلائی اوور کے نیچے ندی کنارے ہندو باگڑیوں کی کچی آبادی میں رات ساڑھے 10 بجے آگ لگ گئی۔پولیس کے مطابق آبادی کے ساتھ ہی مرکزی شاہراہ پر پولیس چیکنگ میں مصروف تھی کہ آگ کے شعلے دیکھ کر پولیس اہلکار فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے اور اس دوران فائر بریگیڈ کو بھی آگ بجھانے کے لیے طلب کیاگیا۔فائر بریگیڈ کے عملے کے پہنچنے اور رات سوا 11 بجے تک آگ بجھانے کی کوششوں تک کچی آبادی کی لگ بھگ ایک سو سے زائد جھونپڑے جل کر خاکستر ہوگئے تاہم فائر فائٹرز نے 4 سے زائد گاڑیوں کی مدد سے رات گئے تک آگ مکمل طور پر بجھادی۔

فائر بریگیڈ کے مطابق آگ بجھانے کے لیے پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی تھی جس پر واٹر بورڈ حکام سے رابطہ کیا گیا۔ ایم ڈی واٹر بورڈ اسداللہ خان کی ہدایت پر واٹر بورڈ کے ٹینکرز کے ذریعے پانی کی کمی پوری کی گئی۔لیاقت آباد تھانے کے ایس ایچ او انسپکٹر لیاقت حیات خان کے مطابق آتشزدگی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔انہوں نے بتایا کہ پولیس نے بروقت پہنچ کر پوری آبادی کو خالی کرا لیا تھا اور علاقہ مکینوں کی مدد سے آبادی کے بیشتر مکینوں کا سامان بھی بچا لیا تاہم بیشتر جھونپڑوں کا سامان بھی مکمل طور پر جل گیا۔فائر برگیڈ کے مطابق آگ لگنے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہوسکی پولیس اس سلسلے میں تحقیقات کر رہی ہے۔

دوسری جانب سندھ کے وزیراطلاعات سعید غنی نے متاثرہ مقام کا دورہ کیا اور متاثرین سے ملاقات کی اور انہیں ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سعید غنی نے کہاکہ جب واقعہ ہوا تو میں انتظامیہ سے رابطہ میں تھا، بڑا واقعہ تھا شکر ہے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔انہوں نے کہاکہ مجھے فائر بریگیڈ کے مسائل کے حوالے سے علم ہے، فائر بریگیڈ کو پہلے بھی گاڑیاں دی ہیں مزید بھی دیں گے،مگر معمول کا آپریشن کے ایم سی کی ذمہ داری ہے۔سعید غنی نے کہا کہ مختلف وجوہات ہیں یہاں پر لوگ ایسے بیٹھ جاتے ہیں،ہر کسی کو قبضہ مافیا نہیں کہا جاسکتا،ان کو اٹھانے کے لیے بھی کوئی لائحہ عمل ہونا چاہیے، اس موقع پرکمشنر کراچی و سیکرٹری بلدیات بھی موجود تھے۔

۔تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز ہوئی آتشزدگی سے 200جھگیاں جل گئی تھیں۔اسسٹنٹ کمشنر اور سب ڈویژنل مجسٹریٹ لیاقت آباد فہیم خان کے مطابق اس آبادی کے پرانے رہائشی پھول فروش بیٹوں ولد موتی لال نے بیان دیا ہے کہ کہ وہ اس آبادی میں اپنی فیملی کے ساتھ رہائش پذیر ہے ان کی والدہ گزشتہ رات ان کے ماموں کے گھر گئی ہوئی تھی۔پھول فروش بیرجو کے مطابق اس کے بھائی پھول بیچنے کے لئے گئے ہوئے تھے جبکہ ایک بھائی کھلونے بیچنے گیا تھا گھر میں اس کی چھوٹی بہن اور 9 سالہ بھتیجی تھی۔

بیرجو کے مطابق اس نے تیل منگوایا اس کی بہن نے چراغ جلایا اور پیٹی پر رکھ دیا جس کے بعد وہ روٹیاں لینے چلا گیا جبکہ بھتیجی کھیلنے کے لیے باہر نکلی تو تیل ختم ہونے پر بجھنے سے قبل چراغ سے شعلہ لپکا جس سے جھگی کو آگ لگ گئی۔بیرجوکے مطابق آگ تیز ہوا کی وجہ سے پوری آبادی میں پھیل گئی اور جب وہ روٹیاں لے کر واپس آیا تو پوری آبادی شعلوں کی لپیٹ میں تھی۔ایس ڈی ایم لیاقت آباد فہیم خان کے مطابق یہ ابتدائی شہادت سامنے آئی ہے تاہم اس سلسلے میں تحقیقات جاری ہیں۔فہیم خان کے مطابق ابتدائی سروے کے مطابق علاقے میں جلنے والی جھگیوں کی تعداد  180  سے زائد ہے اور آگ سے 200 سے زائد خاندان  متاثر ہوئے ہیں۔