شہریت بل: بھارتی حکومت کو جواب جمع کرانے کے لیےمزید 4 ہفتوں کی مہلت

121

نیو دہلی: بھارتی سپریم کورٹ نے مودی حکومت کو شہریت قانون کے آئینی جواز کو چیلنج کرنے والی 144 درخواستوں کے جوابات  دینے کے لئے مزید چار ہفتوں کی مہلت دے دی ہے۔

عدالت نے تفریق پسندی کے شہریت قانون پر پابندی لگانے سے انکار کرتے ہوئے حکومت کو وضاحت دینے کے لئے مزید 4 ہفتوں کا وقت دے دیا ہے۔

غیر ملکی ذرائع کے مطابق اپوزیشن رہنماؤں، مسلم تنظیموں اور طلباء گروپوں نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ جب تک شہریت قانون کے خلاف لگائے گئے الزامات کا ازالہ نہیں ہوتا اس وقت تک اس قانون کو نافذ نہیں کیا جائے۔

اس درخواست کو عدالت نے یہ کہہ کر مسترد کردیا ہے کہ پانچ ججوں کی آئینی بنچ کو حکومت کی قانون سازی کے تمام جواز کو سننے کی ضرورت ہے جن کے بارے میں نقادوں کا کہنا ہے کہ اس کے ذریعے مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ شہریت ترمیمی قانون، جو دسمبر میں پارلیمنٹ سے منظور ہونے کے بعد 10 جنوری کو نافذ ہوا تھا،  پڑوسی مسلم ممالک پاکستان ، افغانستان اور بنگلہ دیش میں  مسلمانوں کو چھوڑ کر 6 مذہبی اقلیتوں کے لئے شہریت کی راہ ہموار کرتا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو اس قانون سے مستثنیٰ قرار دینا امتیازی سلوک ہے۔ مذہب پر شہریت کی بنیاد رکھنا ہندوستان کے سکیولر آئین کےاصولوں کی خلاف ورزی ہے۔