شام میں بمباری 19 شہری جاں بحق،25 زخمی

223
حلب: اسدی فوج کی بم باری کا نشانہ بننے والی عمارت ملبے کا ڈھیر بن گئی ہے‘ شہری دفاع کے رضاکار آگ پر قابو پا رہے اور لاش منتقل کررہے ہیں

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) شام میں بم باری سے مزید 19 شہری شہید اور 25 سے زائد زخمی ہوگئے۔ مقامی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق روس کے لڑاکا طیاروں نے منگل کے روز ایک بار پھر جنگ بندی کے باوجود شام کے 2 شمالی صوبوں حلب اور ادلب میں مختلف مقامات پر آبادیوں کو بمباری کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں بچوں اور خواتین سمیت 12 شہری مارے گئے، جن میں میاں بیوی اور 6 بچوں پر مشتمل ایک گھرانا بھی شامل ہے۔ یہ گھرانا فضائی حملوں کے ڈر سے ایک عمارت میں پناہ گزیں تھا۔ شامی مبصربرائے انسانی حقوق اور الجزیرہ کے مطابق روسی طیاروں نے مزاحمت کاروں کے زیرانتظام شمال مغربی صوبہ ادلب کے مختلف شہروں اور قصبات میں بمباری کی، جس میں بچی سمیت 5 افراد جاں بحق ہوئے۔ جب کہ صوبہ حلب کے مغربی علاقے میں روس کے کئی فضائی حملوں میں 10 بچوں سمیت مزید 14 افراد مارے گئے۔ فضائی حملوں کے نتیجے میں مکانات سمیت کئی املاک ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔ زخمیوں میں کئی کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ واضح رہے کہ حزب اختلاف کی مختلف مزاحمتی تنظیموں کے زیرانتظام صوبہ ادلب میں اتوار 12 جنوری سے روس کی ثالثی میں نئی جنگ بندی کا آغاز ہوا تھا، اور روسی اور اسدی افواج نے مزاحمت کاروں کے زیرانتظام علاقوں پر حملے روکنے سے اتفاق کیا تھا۔ ادلب میں اس وقت 30 لاکھ سے زائد افراد موجود ہیں، جن میں دیگر علاقوں سے آنے والے لاکھوں پناہ گزین بھی شامل ہیں۔ گزشتہ برس کے اواخر میں کشیدگی میں اضافے کے بعد سے ادلب کی آبادی کے لیے بھی مشکلات میں اضافہ ہوچکا ہے۔ شمالی شام میں امدادی تنظیموں کے گروپ کا کہنا ہے کہ 12 جنوری کو جنگ بندی کے بعد سے بشارالاسد، روس اور ایران کی افواج اور ملیشیاؤں کے نتیجے میں ایک ہفتے کے دوران 50 شہری جاں بحق اور 31 ہزار سے زائد نقل مکانی کرچکے ہیں۔