ناروے: دہشت گرد تنظیم کی ایک مشتبہ رکن کو پناہ دینا حکومت کو مہنگا پڑ گیا

206

ایک دہشت گرد جنگجو کی بیوی اور دو بچوں کی وطن واپسی حکومت میں اختلاف کا باعث بن گئی۔

غیر ملکی ذرائع کے مطابق نارویجین حکومت اور اس کی حمایتی دائیں بازو پروگریس پارٹی کے مابین دہشت گرد جنگجو کی 29 سالہ بیوی اور اس کے دو بچوں کی رہائش تنازعہ کا شکار ہے۔

حکومت کے حمایتی نارویجین وزیر خزانہ سیو جینسن اور ان کی پروگریس پارٹی نے حکومت سے مستعفیٰ ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم کسی بھی ایسے شخص کو اپنے ملک میں نہیں رہنے دے سکتے جس کا تعلق کسی دہشت گرد تنظیم سے ہو۔

ان کا کہنا ہے کہ بچوں کو تو ناروے میں رہائش دی جاسکتی ہے لیکن ماں غیر ملکی ہے اور شام کے دہشت گرد گروہ النصرہ فرنٹ سے تعلق رکھتی ہے۔ ہم ان لوگوں کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کرتے جو رضاکارانہ طور پر دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہوئے ہیں تاہم حکومت نے ان اعتراضات کو نظر انداز کرتے ہوئے والدہ کی واپسی کی منظوری دے دی ہے اور موقف اختیار کیا ہے کہ ماں کو علیحدہ کرنا بچوں کے لیے مضر ثابت ہوگا۔

ماں نے اپنے بچوں کو چھوڑنے سے انکار کردیا ہے اورالزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے اپنی مرضی کے خلاف شام میں رکھا گیا تھا۔

خاتون پر الزام ہے کہ وہ شام کے حکومت مخالف گروہ النصرہ فرنٹ کی رکن ہیں۔ جمعہ کی رات کو جب وہ اپنے پانچ سالہ بیٹے اور تین سالہ بیٹی کے ساتھ ناروے آرہی تھیں تو انہیں  گرفتار کرلیا گیا تھا لیکن  بعد میں انہیں اپنے بچوں کے ساتھ ناروے واپس لایا گیا کیونکہ ان کا پانچ سالہ بیٹا مبینہ طور پر شدید بیمار تھا۔ پروگریس پارٹی بچوں کو واپس لانے کے حق میں ہے جبکہ ماں کی واپسی کی تاحال مخالف ہے۔

خیال رہے کہ غیر ملکی جنگجوؤں کے تقریباً 28000 بچے شامی کیمپوں میں مقیم ہیں جن میں سے 20،000 کا تعلق عراق سے ہیں۔