ایک فیصد افراد کے پاس 98 فیصد سے زیادہ دولت

329

لندن: عالمی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کے محض ایک فیصد امیر افراد کے پاس باقی 98 فیصد افراد سے دگنی دولت موجود ہے جب کہ محض 22 امیر ترین مرد حضرات براعظم افریقا کی مجموعی خواتین سے زیادہ امیر ہیں۔

برطانیہ کے مالیاتی و اقتصادی ادارے آکسفیم کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق سال 2019 میں دنیا بھر میں ارب پتی افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا اور گزشتہ ایک دہائی میں ارب پتی لوگوں کی تعداد میں دگنا اضافہ دیکھنے میں آیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2019 کے اختتام تک دنیا بھر میں 2150 افراد ارب پتی اور کھرب پتی تھے جن کی مجموعی دولت دنیا کے 6 ارب 90 کروڑ افراد سے دگنی تھی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ارب پتی افراد سمیت مجموعی طور پر دنیا کے ایک فیصد امیر ہی دنیا کی زیادہ تر دولت پر قابض ہیں۔

رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں کاروبار، دولت اور کمائی کا غیر منصفانہ نظام رائج ہے اور دولت و کمائی کی صنفی بنیادوں پر بہت زیادہ تفریق پائی جاتی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں محض 18 فیصد خواتین حکومتی وزارتوں کے قلمدان سنبھالتی ہیں جب کہ صرف 24 فیصد خواتین ہی پارلیمنٹ کا حصہ ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ جن ممالک نے رپورٹ کی تیاری کے وقت ادارے سے ڈیٹا شیئر کیا ان ممالک میں صرف 34 فیصد خواتین ہی منیجر کے عہدوں پر تعینات ہیں تاہم رپورٹ میں ڈیٹا فراہم کرنے والے ممالک کا تذکرہ نہیں کیا گیا۔