سندھ حکومت گندم بحران اور نرخوں میں اضافہ روکنے میں ناکام ہوچکی ،طاہر مجید

92

حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی ضلع حیدرآباد حافظ طاہر مجید نے کہا ہے کہ حکومت گندم کے بحران اور نرخوں میں اضافے پر قابو پانے میں ناکام ہو چکی، کرپٹ افسران گندم کی غیر منصفانہ تقسیم کا سلسلہ بند کرنے کو تیار نہیں، کسی بھی سطح پر کوئی اقدامات نہیں کیے جارہے، محکمہ خوراک سندھ کی عاقبت نا اندیش پالیسیوں سے آٹے کی صورتحال مزید ابتر ہوسکتی ہے۔ اپنے ایک بیان میں حافظ طاہر مجید کا کہنا تھا کہ ذخیرہ اندوزوں نے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کردیا ہے۔ محکمہ خوراک سندھ کے کرپٹ افسران خواب غفلت سے بیدار ہونے کے لیے نہ تو تیار دکھائی دے رہے ہیں اور نہ ہی گندم کی غیر منصفانہ تقسیم کا جاری سلسلہ بند کرنے کو تیار ہیں جس کی وجہ سے محکمہ خوراک سندھ کے افسران کی ناقص حکمت عملی، فوڈ گرین گودام سے پتھر، مٹی ملی گندم کی آٹا چکیوں کو فراہمی جیسی صورتحال نے رہی سہی کسر پوری کردی ہے۔حیدر آباد کی اوپن مارکیٹ سے گندم غائب کرکے 100 کلو گندم کی بوری پر مزید 200 روپے کا اضافہ کردیاہے ۔ گزشتہ دو روز
قبل 5000 روپے میں فروخت ہونے والی 100 کلو گندم کی بوری کے نرخ 5200 سو روپے کردیے گئے ہیں۔جس میں مزید اضافہ ہونے کا اندیشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ گندم کے نرخوں نے ماضی کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ ذخیرہ اندوزوں کی جانب سے اوپن مارکیٹ میں گندم کے نرخوں میں من مانا اضافہ اور گندم بحران پر قابو پانے میں حکومت ناکام ہو چکی ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں آٹا چکی مالکان، دکاندار اور صارفین کے درمیان تلخ کلامی کے واقعات بھی سامنے آرہے ہیں۔ اس سے قبل کہ حیدر آباد میں گندم بحران پر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آئے انتظامیہ اس سے بچنے کے حوالے سے اس جانب بھی فوری توجہ دے اور انتظامات کو یقینی بنائے تاکہ کسی ناخوشگوار واقعہ پیش آنے سے روکا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ خوراک سندھ کی گندم کی غیر منصفانہ تقسیم اور افسران کی ہٹ دھرمی اس تمام صورتحال پیدا کرنے کا سبب ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے فوری نوٹس نہ لیا گیا تو آنے والے چند دنوں میں گندم کا بحران مزید شدت اختیار کرسکتا ہے۔