عراق بھر میں مظاہرے پھر شروع 3 ہلاک درجنوں زخمی

175
بغداد: حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہونے پر دارالحکومت کی سڑکیں میدانِ جنگ بنی ہوئی ہیں

بغداد (انٹرنیشنل ڈیسک) عراق میں ایک بار پھر عوامی احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق دارالحکومت بغداد میں پیر کے روز پُرتشدد احتجاج کے دوران مزید 3 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ سیکورٹی فورسز نے صبح ہی شہر کے راستے بند کردیے اور اس دوران سیکورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی۔ سیکورٹی فورسز کی مظاہرین کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں، جن سے دارالحکومت کے اہم راستے محمد القاسم روڈ اور بغداد کو ناصریہ سے ملانے والی قومی شاہراہ بند ہوگئی۔ اس کے علاوہ میسان اور دارالحکومت بغداد کو جوڑنے والا راستہ بھی بند کر دیا گیا۔ اس دوران عراقی سیکورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے گولیاں اور آنسو گیس کے گولے داغے۔ عراقی سیکورٹی میڈیا نے باور کرایا ہے کہ بغداد کی کارروائیوں کا مقصد ان تمام راستوں کو کھولنا ہے، جن کو مظاہرین نے بند کرنے کی کوشش کی۔ عراقی سیکورٹی فورسز نے راستے بند کرنے کی کوشش کرنے والے ایک گروپ کو حراست میں لے لیا۔ ادھر مظاہرین نے واسط صوبے کے دارالحکومت کوت میں بھی مرکزی راستے بند کر دیے۔ ملک کے جنوبی علاقوں میں بھی کشیدگی بڑھ جانے کے باعث سیکورٹی فورسز کو بھاری تعداد میں تعینات کیا گیا۔ مظاہرین نے دیوانیہ کو عراق کے دیگر صوبوں سے ملانے والے قومی شاہراہ کو بھی بند کر دیا۔ واضح رہے کہ مظاہرین کی جانب سے اپنے مطالبات پر عمل کے لیے ملکی حکام کو دی گئی پیر کے روز تک کی مہلت دی گئی تھی۔ ان مطالبات میں سرفہرست سیاسی جماعتوں کے کوٹے اور سیاسی شخصیات سے دور ایک عارضی حکومت تشکیل دینا، قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کا اجرا اور مظاہرین کے قتل اور کارکنان کے اغوا کی تحقیقات کرانا ہے۔ اس سے قبل اتوار کے روز بھی جنوب میں کئی صوبوں میں راستے اور پلوں بند کر دیے گئے تھے، جب کہ اسکولوں اور دفاتر کو تالا لگا دیا گیا تھا۔ ذی قار اور دیوانیہ میں مظاہرین کفن پہن کر سڑک پر نکلے۔ انہوں نے باور کرایا کہ یہ پیر کے روز مظاہروں کے لیے سرکاری لباس ہے۔