EOBI کا قبلہ درست کیا جائے

98

سوشل سیکورٹی کی نج کاری کسی صورت قبول نہیں اور سوشل سیکورٹی کے جو اسپتال نجی کمپنی کے حوالے کیے گئے ہیں ان کو فوری طور پر سوشل سیکورٹی کے ادارے کے حوالے کیا جائے۔ میٹرو لاہور کے محنت کشوں کو ان کی 3ماہ سے رُکی ہوئی تنخواہ فوری طور پر ادا کی جائے۔ حکومت بند کارخانوں کو جلد از جلد چلانے کی حکمت عملی طے کرے تاکہ بڑھتی ہوئی بے روزگاری پر قابو پایا جا سکے۔ محکمہ محنت تمام رجسٹرڈ ٹریڈ یونینز کے ان کے دستور کے مطابق خفیہ بیلٹ کے ذریعے انتخابات کروائے تاکہ مزدوروں کی حقیقی قیادت کو آگے آنے کا موقع مل سکے۔ تمام مستقل اسامیوں پر کام کرنے والے عارضی
ملازمین کو مستقل کیا جائے۔ زرعی شعبہ اور غیر رسمی شعبوں پر لیبر قوانین کا اطلاق کیا جائے اور ان تمام ورکرز کو سوشل سیفٹی نیٹ میں COVER کیا جائے۔ ای او بی آئی کی کنٹری بیوشن کم از کم ماہانہ تنخواہ کے حساب سے کی جائے۔ تمام ورکرز کی EOBI میں رجسٹریشن کو یقینی بنایا جائے اور ان کو EOBI پنشن کارڈز بھی جاری کیے جائیں اور 60 سال کی عمر کے بعد EOBI پنشن سے کٹوتی کو ختم کر کے تمام پنشنرز کو یکساں شرح سے پنشن ادا کی جائے۔ EOBI کے تمام دفاتر کو کرائے کی عمارتوں سے ادارے کی اپنی عمارتوں میں منتقل کیا جائے تاکہ ادارے کو کرایہ کی مد میں ہر ماہ ادا کیے جانے والے کروڑوں روپے کی بچت ہو سکے۔ تمام EOBI پنشنرز کو ہیلتھ کارڈ جاری کیے جائیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے 2010 میں EOBI میں ہونے والے اربوں روپے کے غبن کا از خود نوٹس لیا تھا جو آج تک فیصلہ طلب ہے جس کی وجہ سے EOBI کے اربوں روپے کے اثاثے اور جائیدادیں منجمد پڑی ہیں۔ ہماری عدالت عظمیٰ سے استدعا ہے کہ وہ اس کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد کر کے اس کیس کا فیصلہ کرے تاکہ محنت کشوں کا اربوں روپے کا منجمد سرمایہ حرکت میں آکر مزدوروں کی فلاح پر خرچ ہو سکے۔ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ لاہور میں ماہ فروری 2020 میں منعقد ہونے والے فیض امن میلہ میں بھر پور شرکت کی جائے گی۔ اجلاس میں مزدور رہنمائوں محمد حنیف رامے، محمد اکبر، الطاف حسین بلوچ، چودھری محمد یعقوب، منظور احمد، محمد اکبر، پاکستان ریلوے کے علاوہ دیگر مزدور رہنمائوں نے بھی شرکت کی۔