EOBI پنشن کی فراہمی ہماری اولین ذمہ داری ہے،اظہر حمید

338

چیئرمین ای او بی آئی اظہر حمید نے ادارہ کے افسران کو تلقین کی ہے کہ بزرگ محنت کشوں اور ان کے لواحقین کو پنشن کی فراہمی ہماری اولین ذمہ داری ہے اوراس ضمن میں کسی قسم کی کوتاہی اور لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بزرگ ملازمین ہمارے وطن کا قیمتی اثاثہ ہیں جنہوں نے اس ملک کی تعمیر وترقی میں اپنا فعال کردار ادا کیا ہے ۔ہمارا فرض ہے کہ ان کے ساتھ عزت و تکریم کے ساتھ برتائو کیا جائے۔ وہ صدر دفتر کراچی میں اپیلیٹ اتھارٹی کے تحت بیمہ دار افراد اور ادارہ میں رجسٹر شدہ آجران کی اپیلوں کی سماعت کر رہے تھے۔ اس موقع پر ادارہ کے بورڈ آف ٹرسٹیز میں صوبہ سندھ سے ملازمین کے نمائندہ شوکت علی بھی موجود تھے۔ اپیلوں کی سماعت کے پہلے مرحلہ میں علاقائی دفتر کریم آباد کے 8 بیمہ دار افراد اورعلاقائی دفتر ناظم آباد کے 8 بیمہ دار افراد کی پنشن اپیلوں اور 11 آجران کی اپیلوں کی سماعت کی گئی۔ دوسرے مرحلہ میں علاقائی دفتر سٹی کے 9 بیمہ دار افراد کی پنشن اپیلوں اور علاقائی دفتر کورنگی کے 9 آجروں کی اپیلوں کی سماعت کی گئی۔ جبکہ تیسرے مرحلہ میں علاقائی دفتر حیدر آباد میں حیدرآباد، کوٹری اور لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والے 10 بیمہ دار افراد اور ان کی بیوگان کی پنشن اپیلوں کی سماعت کی گئی۔ چیئرمین ای او بی آئی نے بیمہ دار افراد کی اپیلوں کو ہمدردی سے بغور سنا اور دستاویزی شہادتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کے حق میں فیصلے صادر کیے۔ جس پر بیمہ افراد میں مسرت کی لہر دوڑ گئی۔ اگلے مرحلہ میں بلوچستان کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے بیمہ دار افراد اور آجران کی اپیلوں کی سماعت علاقائی دفتر حب (لسبیلہ) اور کوئٹہ میں منعقد ہوگی۔ اپیلیٹ اتھارٹی کے روبرو اپیلوں کی سماعت کے دوران عبدالاحد میمن ڈائریکٹر قانون اور رجسٹرار اپیلیٹ اتھارٹی نے چیئرمین ای او بی آئی کی معاونت کی۔ دوران سماعت محمد نعیم شوکت ڈائریکٹر کوآرڈینیشن، علاقائی سربراہان مزمل کامل ملک (کریم آباد)، غلام عابد مری (ناظم آباد)، سید علی متقی شاہ (سٹی)، نوید فیاض (کورنگی)، عبدالقادر سومرو (حیدرآباد)، علی انور جمالی (کوٹری) اور مقبول احمد (لاڑکانہ) بھی موجود تھے۔ واضح رہے کہ ای او بی آئی کے کسی بھی علاقائی دفتر سے بیمہ دار فرد کے پنشن دعویٰ مسترد ہونے کی صورت میں ضعیف العمر ملازمین فوائد قانون مجریہ1976کے تحت اپیلوں کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں۔ جس کے تحت کوئی بھی متاثرہ بیمہ دار فرد یا آجر کسی قسم کی فیس یا وکیل کے بغیر سادہ کاغذ پر درخواست کے ذریعہ اپنی شکایت کے ازالہ کو لے کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں اعلیٰ افسران کی سطح پر قائم ایڈجوڈیکیٹنگ اتھارٹی سے باآسانی رجوع کرسکتا ہے ۔ جس میں متاثرہ بیمہ دار فرد اور آجران کے کیسز کی بغور شنوائی کرکے ان کی مکمل دادرسی کی جاتی ہے۔ اس سطح پر بھی اپیل مسترد ہونے کی صورت میں بورڈ آف ٹرسٹیز کے تحت ای او بی قانون کی دفعہ 35 کے تحت قائم اپیلیٹ اتھارٹی ملک کے چھوٹے اور بڑے شہروں میں متاثرہ بیمہ دار افراد اور آجران کی اپیلوں کی سماعت کرتی ہے۔ جس میں بیشتر بیمہ دار افراد اور آجران کی شکایات کا میرٹ پر ازالہ ہوجاتا ہے۔ چیئرمین ای او بی آئی اظہر حمید نے اس موقع پر آجران سے اپیل کہ انہیں خدا تعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ انہیں ان کے ملازمین پر نگہبان مقرر کیا ہے۔ لہٰذا آجران کی قانونی و اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ قومی فریضہ سمجھتے ہوئے اپنے اداروں میں خدمات انجام دینے والے جملہ ملازمین کی ای او بی آئی میں رجسٹریشن کو یقینی بنائیں بلکہ ان کی مد میں باقاعدگی سے ای او بی آئی کو مقررہ کنٹری بیوشن کی ادائیگی کریں۔ تاکہ ای او بی آئی کا پنشن فنڈ مستحکم ہوسکے اور ادارہ لاکھوں بزرگ پنشن یافتگان اور ان کے لواحقین کو پنشن کی فراہمی میں اپنا فعال کردار ادا کرتا رہے۔