امریکی دوستی اور اس کا انجام

433

سمیع اللہ ملک
ہمسایہ ممالک خصوصابرادرمسلم ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کابنیادی ستون ہیں۔ پاکستان کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ اگر برادرممالک کے درمیان کوئی غلط فہمی یاتنازع ہے تواسے بات چیت کے ذریعے حل کرایاجائے۔پاکستان اورایران کے تعلقات تاریخی اورمثالی ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ ایران کواپنادوست اور بھائی سمجھا ہے۔دونوں ممالک نے ماضی میں ہرآزمائش اورمشکل گھڑی میں ایک دوسرے کابھرپورساتھ دیااورمددکی۔قیام پاکستان کا اعلان ہواتوسب سے پہلے ایران نے پاکستان کو تسلیم کیا۔اسی طرح جب ایرانی انقلاب آیاتوپاکستان نے فوری طورپرنئی حکومت کوتسلیم کیااوربھرپورتعاون کیا ۔ اسی طرح بہت سے عالمی معاملات پردونوں ممالک کا مؤقف ایک ہے۔
ایک طرف توبھارت دونوں برادرممالک کے درمیان اختلافات پیداکرنے کی کوشش کررہاہے،دوسری طرف امریکااورایران کی باہمی چپقلش کوبھی نظراندازنہیں کیاجاسکتا جہاں بغداد میں امریکی ڈرون حملے میں ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی اور عراق میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا پاپولرموبلائزیشن فورس (پی ایم ایف) کے ڈپٹی کمانڈرابومہدی المہندس جاں بحق ہوگئے ۔ابھی ایرانی ردِ عمل جاری تھاکہ امریکی فضائیہ نے ایک اورحملے میں حشد الشعیبی پیرا ملٹری فورس کے کمانڈر کو نشانہ بناڈالا جس سے خطے میں جنگ کے امکانات کاشدید خدشہ بڑھ گیا ہے۔ آخری اطلاعات کے مطابق بغدادمیں امریکی فوجی اڈے پردوراکٹ بھی فائرکئے گئے جس سے کوئی نقصان تونہیں ہواتاہم ایران پاسدارن انقلاب فورس کے نئے جنرل نے 55امریکی تنصیبات کی فہرست کو آیندہ نشانہ بنانے کاعندیہ دیاہے۔
ایران میں رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کے بعد اگر کسی شخصیت کو طاقتور سمجھا جاتا تھا تو وہ جنرل قاسم سلیمانی ہی تھے۔ پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ کے طور پر سلیمانی مشرقِ وسطیٰ میں اپنے ملک کی سرگرمیوں اور عزائم کے منصوبہ ساز اور جب بات امن یا جنگ کی ہو تو ایران کے اصل وزیرِ خارجہ تھے۔ ایران سے باہر اپنے مفادات کے لیے سرگرم رہتے تھے۔ شام، عراق، یمن اور افغانستان میں ایرانی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام کاروائیوں کے سربراہ تھے۔ انہیں شام کے صدر بشارالاسد کی ملک میں مزاحمت کاروں کے خلاف جنگ، عراق میں ایران نواز شیعہ ملیشیاؤں کے عروج، شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ کے علاوہ اور بہت سی کارروائیوں کا معمار بھی سمجھا جاتا تھا۔ وہ عموما ً شہرت کی چکاچوند سے دُور رہنے والی شخصیت سمجھے جاتے تھے، تاہم حالیہ برسوں میں وہ کھل کر سامنے آئے جب انہیں ایران میں ان کی داعش کے خلاف کاروائیوں کی بدولت شہرت اور عوامی مقبولیت ملی۔ وہ شخص جسے چند سال پہلے تک بہت سے ایرانی شہری راہ چلتے پہچان نہیں سکتے تھے، دستاویزی فلموں، وڈیو گیمز، خبروں اور پاپ گیتوں کا موضوع بن گیا۔
2013ء میں سی آئی اے کے سابق اہلکار جان میگوائر نے امریکی جریدے دی نیویارکر کو بتایا تھا کہ سلیمانی ،مشرقِ وسطی میں سب سے طاقتور کارندے تھے۔ فارسی کی ایک دستاویزی فلم کے لیے ایک انٹرویو میں عراق میں سابق امریکی سفیر رائن کروکر نے بھی کہا تھا کہ جنرل سلیمانی کا بغداد مذاکرات میں اہم کردار تھاجس کے اثر رسوخ کو افغانستان میں بھی محسوس کیا تھا۔ جب میں بطور امریکی سفیر افغانستان میں تعینات تھے، ایران میں میرے میل جول کے لوگوں نے مجھ پر واضح کیا کہ جنرل سلیمانی ہی وہ واحد طاقتور شخص ہے جوایرانی وزارت خارجہ اورحکومتی سیٹ اپ میں اہم فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کرشماتی شخصیت کے مالک سمجھے جانے والے جنرل سلیمانی کو جہاں پسند کرنے والے بہت تھے وہاں ناپسند کرنے والوں کی بھی کمی نہیں تھی۔
3جنوری 2020ء کومشہورامریکی اخبار ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ میں ’’ایرون بلیک‘‘ نے اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں انکشاف کیاہے کہ جنرل قاسم سلیمانی نے گزشتہ چند برس میں امریکاکے ساتھ کئی مشترکہ آپریشنز مکمل کیے ہیں۔ 30ستمبر2013ء کے مشہوراخبارنیویارکرمیں ڈیکسٹرفلکنز نے ’’دی شیڈوکمانڈر‘‘کے عنوان سے اسٹوری شائع کی جس میں اس نے انکشاف کیاکہ ’’ایک ایسا وقت تھا جب نائن الیون کے بعد افغانستان میں امریکا اور ایران کے درمیان اتحاد کرنے کے لیے قاسم سلیمانی ہی واحد ایرانی سرگرم امیدکی صورت میں سامنے آیاجوان دنوں مشرق وسطیٰ کو نئی شکل دے رہا ہے۔ اب وہ شام میں بشارالاسد کی جنگ میں ہدایات دے رہاہے اور جوایران کی قدس فورس کی قیادت کرتے ہوئے ملک کی سرحدوں سے باہر کاروائیاں کرنے کابھی انچارج ہے۔
رائن کروکر کے مطابق نائن الیون کے حملوں کے بعد ایرانی حکومت کے فوجی و سول عہدیداروں کا ایک گروپ قاسم سلیمانی کی قیادت میں جینوا میں ایک گمنام مقام پر ہفتے اور اتوار کے دن انتہائی خفیہ ملاقات کے لیے پہنچا۔ یہ ملاقات اس قدرخفیہ تھی کہ وہ خود جمعہ کے روز اور پھر اتوار کے روز واپس چلا گیا تھا، لہٰذا دفتر میں کسی کو پتا ہی نہیں چلا کہ میں کہاں ہوں ۔ ایرانی سلیمانی کو ’’حاجی قاسم‘‘ کہہ کرپکارتے تھے اور یہ کہ وہ امریکا کو اپنے باہمی دشمن، طالبان کو ختم کرنے میں مدد کے خواہاں ہیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد امریکا اور ایران کی جانب سے افغانستان میں طالبان کے خلاف آپریشنز میں ایک دوسرے کی مدد کرنا تھا۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ان کے لیے یہ سب حیران کن تھا کیونکہ ایران امریکا کے 1980ء میں اس وقت سفارتی تعلقات منقطع ہوگئے تھے جب تہران میں امریکی سفارتکاروں کوایک لمبی مدت کے لیے یرغمال بنالیاگیاتھا۔
کروکر کو یہ جان کر حیرت نہیں ہوئی کہ سلیمانی لچکدار ہے۔ انہوں نے کہا، ’’آپ 8 سال کی ظالمانہ جنگ کے باوجود عملی خیال کے بغیر نہیں رہتے۔‘‘ بعض اوقات سلیمانی کروکر کو پیغامات پہنچاتے تھے لیکن انہوں نے تحریری طور پر کچھ بھی معلومات دینے سے گریز کیا۔ کروکر کے مطابق ’’حاجی قاسم بہت ہوشیار ہے۔ وہ امریکیوں کے لیے کاغذی پگڈنڈی چھوڑنے والا نہیں ہے۔‘‘
ان کے مطابق ’’جنرل سلیمانی افغان طالبان کے خلاف بھرپور کارروائی کے حق میں تھے اور انہوں نے امریکیوں کو نقشے، طالبان اورالقاعدہ کے ٹھکانوں سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے ساتھ القاعدہ کاایک سہولت کاربھی امریکاکے حوالے کیا، جوایران کی حراست میں تھا۔ وہ ایران کی جانب سے افغانستان میں ہر قسم کا تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار تھے۔ جنرل قاسم سلیمانی نے اس کے بعد عراق میں بھی امریکا کے ساتھ مل کر اس شرط پرکام کیا کہ عراق میں ایران نواز ملیشیا اور ایسے تمام گروہ جن کا تعلق ایران کے ساتھ ہے، جن میں مجاہدین خلق بھی شامل تھے، کو تحفظ فراہم کیا جائے اور امریکا ان کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہ کرے۔ امریکی حملے کے بعد ایران میں ایک مضبوط حکومت جوکہ ایرانی اثر رسوخ کے تحت ہو، کو قائم کرنے میں بھی جنرل سلیمانی نے امریکا کے ساتھ مل کر کام کیا۔ کروکرکے مطابق ’’حاجی قاسم ہمارے تعاون پر بہت خوش تھا۔‘‘اسی طرح عراق میں داعش کے خلاف کارروائیوں میں بھی جنرل سلیمانی امریکاکے ساتھ مل کر کام کرتے رہے۔ عالمی سطح پر کئی آپریشن جن میں امریکا اور ایران کا مفاد مشترکہ تھا ان میں جنرل سلیمانی نے امریکیوں کے ساتھ معاملات طے کیے۔ اسی طرح شام اور یمن میں بھی جو خون ریزی ہوئی اس میں جنرل قاسم سلیمانی کابے رحم اور اہم ترین ہاتھ تھا۔
اس بہترین تعاون کے باوجود حالات اس وقت اچانک بدل گئے، جب 29جنوری 2002ء میں بش نے اپنی مشہور ’’برائی کے محور‘‘ تقریر میں عراق اور شمالی کوریا کے ساتھ ایران کانام بھی شامل کردیا۔ بش دشمنی میں اندھا ہو گیا تھا جبکہ ان تینوں ممالک کے شہریوں میں سے کسی نے بھی نیویارک اور واشنگٹن پر حملہ نہیں کیا ۔ بش نے 3900الفاظ پرمبنی اپنی تقریر میں جہاں ان 3 ریاستوں کو ’’برائی کے محور‘‘ قراردیاوہاں عراق کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی نشاندہی کرتے ہوئے اسے عالمی امن کے لیے ایک بہت بڑا اور بڑھتا ہوا خطرہ قراردیتے ہوئے ان ہتھیاروں کی تلاشی کاحکم دیتے ہوئے ایک نیامحاذجنگ کھول دیاکہ یہ ہتھیارکسی بھی وقت دہشت گردوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں جس سے وہ ہمیں اور ہمارے اتحادیوں کوبلیک میل کرسکتے ہیں اور اس معاملے پرہماری کوئی بھی سستی یابے حسی کی قیمت تباہ کن ہوگی۔
بش نے مزید کہا کہ ہم اپنے اتحادیوں سے مل کر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کو بنانے اور فراہم کرنے کے لیے مواد ، ٹیکنالوجی اور مہارت کودہشت گردوں کے ہاتھ لگنے نہیں دیں گے۔ کروکر کے مطابق یہ ایک ایسی تباہ کن تقریرتھی جس سے یہ تعاون یکسرختم ہوگیااورہماری تمام محنت پرپانی پھیر دیا گیا۔ بش کی تقریرسے اگلے ہی دن امریکی کمپاؤنڈ کابل میں سہولت کارسے میری ملاقات ہوئی تووہ بہت ہی غصے میں بولا ’’قاسم سلیمانی نے انتہائی غصے میں چیختے ہوئے پیغام دیاہے کہ امریکانے ہمیں بہت نقصان پہنچایا ہے اوروہ اب ان سیاسی خطرات کے بعدامریکاسے اپنے سمجھوتے اورتعلقات کا دوبارہ مکمل جائزہ لینے پرغورکررہے ہیں‘‘۔ کروکر نے سر ہلاتے ہوئے کہا ’’تقریر کے ایک لفظ نے تاریخ کو بدل دیا۔‘‘
فروری 2003ء میں عراق پر امریکی حملے سے ایک ماہ قبل سکرٹری خارجہ کولن پاؤل نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ ہم جانتے ہیں کہ آمر صدام حسین بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہیں اور وہ ایسے مزید ہتھیاربنانے کاارادہ رکھتے ہیں تاہم صدام نے محض دھوکا دیااورایسے ہتھیار کبھی نہیں ملے۔ گویا عراق پرحملہ ایک تاریخی غلطی قرارپایاجس کے لیے بعدازاں ٹونی بلیئرنے بھی معافی مانگی لیکن عراق کی تباہی کاذمے دارکون ہے؟
ان دنوں ٹرمپ مواخذے کی تحریک سے نجات اوراگلے انتخابات میں کامیابی کے لیے مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر ایسی جنگی مہم شروع کرنا چاہتا ہے جس سے اس کے اسلحہ کی فروخت کے لیے سعودی عرب اور دیگر ممالک کے ساتھ ایران کی چپقلش میں اضافہ ہو اور یہ خطہ ایک بار پھر خونریزی کا شکار بن جائے اوراس کے لیے ایک بڑی قربانی کی ضرورت تھی اور امریکانے اپنی روایت برقراررکھتے ہوئے قاسم سلیمانی کو ’’بلی کابکرا‘‘بناکراس کی قربانی کر دی۔ ایرانی حکومت نے عوامی دبا ؤکے ہاتھوں مجبورہوکرانتقامی کارروائی کرتے ہوئے امریکی فوجی اڈے پر کئی میزائل داغے اور80افراد کی ہلاکت کا دعوی بھی کردیاگیاجس کے جواب میں فوری طورپرامریکی صدرٹرمپ نے ایرانی دعوے کی تردیدکرتے ہوئے جنگ سے گریزکاعندیہ دے دیاہے اورایران نے بھی مزیدجنگ کی توسیع سے منہ پھیرنے کااعلان کردیاہے گویاخطے میں مزیدجنگ کاخدشہ دم توڑتا نظر آرہا ہے۔ اِدھرہمارے وزیراعظم نے بھی مصالحتی کرداراداکرنے کے لیے وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کوایران،سعودی عرب اورامریکا جانے کی تاکیدکردی ہے۔
امریکی اپنی خارجہ پالیسی کوڈسپوز ایبل ڈپلومیسی کہتے ہیں۔ ان کافلسفہ ہے خریدو، استعمال کرواورپھینک دو، چنانچہ یہ لوگ اپنے دوستوں کوکاغذکے گلاس، پلیٹ، ٹشو اورگندی جراب سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔یہ لوگ ہمیشہ کیس ٹوکیس اورپراجیکٹ ٹوپراجیکٹ چلتے ہیں۔ جنرل قاسم سلیمانی وہ پہلے رہنما یا فوجی جنرل نہیں جنہیں امریکی دوستی کی سزا ملی ہے اس سے پہلے جنرل اگستو پنوشے ،جنرل رضاشاہ پہلوی، فلپائن کافرنینڈ مارکورس، رہوڈیشیا میں بشپ ایبل منرور یوا ، نکاراگوا کا اناس تاسیوسو اورجنرل نوریگا ہوں، یہ لوگ اس وقت انہیں دوست سمجھتے تھے، جب تک وہ ان کے لیے خدمات سر انجام دیتے رہے اورجس دن انہیں محسوس ہواکہ یہ شخص ان کی ’’ذمے داری‘‘بنتاجارہاہے، یہ اس کے ساتھ پھر ایسا ہی سلوک کرتے ہیں، جیسا سلیمانی کے ساتھ کیا اور اس کے بعدیہ ان کی قبروں پر ’’سابق ‘‘کی مہر لگا دیتے ہیں۔ یہ ہے امریکی دوستی اوراس کاانجام۔ امریکا پچھلے 220 برس سے ’’دوستی‘‘ کے اسی فلسفے پرکاربند ہے اور اس نے آج تک کسی شخص کے لیے اپنی یہ پالیسی نہیں بدلی۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ معاون نائب امریکی وزیرخارجہ ایلس ویلزنے اپنے ٹویٹ میں جو ’’پاکستانی فوجی تربیتی پروگرام بحالی‘‘ کو امریکی قومی سلامتی کومحفوظ بنانے سے مشروط رکھاہے اور پومپیو کے فون پررابطے سے مجھے اپنے سپہ سالارقمرباجوہ کی یوم دفاع پرتقریرکاوہ تاریخی جملہ بھی یادہے جس میں انہوں نے پاکستان کی قربانیوں کاذکرکرتے ہوئے اب مغرب اور امریکا کو ’’ڈومور‘‘ کا مشورہ دیا تھا۔ امریکاسے وفاداری کی اب تک ہم نے جو بھاری قیمت چکائی ہے، اب ہم مزیداس کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ اس لیے ہمارے فوجی ترجمان کابروقت یہ بیان کہ ’’ہم اپنی سرزمین کسی بھی برادرملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے‘‘قابل تحسین ہے۔