نئے سال میں اپنے پیاروں کو بتا دیں

280

طوبیٰ ناصر

انسان کی سب سے بڑی ضرورت اس دنیا میں انسان ہے۔ انسان ایک دوسرے کے دکھ درد بانٹے اور ایک دوسرے کی خوشی میں خوش ہوں تاکہ خوشی اور سکون کی مدت انسانوں کی زندگی میں زیادہ دیر تک ٹھہری رہے۔
کبھی ہم نے یہ سوچا ہے ایک پورے دن میں اور رات سونے تک ہمیں اپنے ارد گرد کتنے انسانوں کی ضرورت پڑتی ہے؟ ان گنت باتیں اور کتنے ہی کام ایسے ہوتے ہیں جو ہمارے گرد رہنے والے انسانوں سے مکمل ہوتے ہیں۔کیا ہم ایک دن اپنی زندگی انسانوں کے بغیر تصور کر سکتے ہیں؟ یقیناً اگر ایسا ہو تو ہم پاگل ہو جائیں اور خود سے باتیں کرنے لگیں۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس دنیا میں، انسانوں میں،خاندان میں اور رشتوں میں رکھا ہے تاکہ ہم انسان کی پہچان کر سکیں اس سے جڑے رشتے اور اس کے حقوق وفرائض کا خیال رکھیں۔ہمارے ہونے سے ہمارے اردگرد رہنے والے انسانوں کو فرق پڑے،وہ ہمارے ہونے سے خوش ہوں۔وہ ہمارے ہونے سے مکمل ہوں ۔
ہمارے رشتوں کو ہماری توجہ کی ضرورت ہے وہ خوش رہنے کے لیے کسی اپنے کا چہرہ تلاش کرتے ہیں، رونے کے لیے ایک مہربان آغوش چاہتے ہیں وہ اپنی امید کو اس لیے تھامے بیٹھے ہیں کہ انھیں ایک مظبوط سہارے کی ضرورت ہے تو چلیں۔۔۔۔ کسی کا ہاتھ پکڑ کر اسے چلنا سکا دیں، کسی روتی آنکھ کے آنسو اپنے ہاتھ سےصاف کر دیں،خوش رہیں اور خوشیاں بانٹتے رہیں کے زندگی اور ساتھ کی مدت تھوڑی ہے جو لوگ آج ہمارے ساتھ ہیں وہ کل نہیں ہوں گے۔
لوگ چلے جاتے ہیں لیکن ہمیشہ اپنے پیچھے بہت سی یادیں چھوڑ جاتے ہیں۔
ہماری زندگیوں میں مختلف راستوں پر ان کے نقش رہ جاتے ہیں ہم جب ان راستوں سے گزرتے ہیں ان باتوں کو سنتے ہیں تو ہمیں ان کی یاد آتی ہے تب ہمارا دل کرتا ہے ہم ایک بار پھر سے اس وقت میں پہنچ جائیں اور ان لمحوں کو ایک بار پھر سے جی لیں۔ وہ لوگ،وہ رشتے جو ہماری زندگی میں اہم تھے جن کے ہونے سے ہماری زندگیوں میں فرق پڑتا تھا ان کو بتا سکیں کے آج ہمیں ان کی کمی محسوس ہوتی ہے۔
بےشک رشتے یاد رہنے کے لیے وقت اور چیزوں کے محتاج نہیں ہوتے وہ ہر پل جا کر بھی ہمارے ساتھ ہوتے ہیں۔ ان کے ہونے کا احساس ہمارے ساتھ ہوتا ہے۔
زندگی گزرتے ہوئے احساس تو نہیں ہوتا لیکن گزر جانے کے بعد آخر میں ہمارے لیے کوئی نہ کوئی حسرت چھوڑ ہی جاتی ہے یا اس اچھے وقت کے گزر جانے کا افسوس جس وقت کو ہم جینا چاہتے ہیں۔
موت اپنے اندر ایک بہت بڑی ٹریجڈی ہے جو انسان کی زندگی کو ہلا کر رکھ دیتی ہے ۔ ایک انسان جو کل ہمارے سامنے تھا آج وہ نہیں ہے۔ وہ روح جس سے ہمارا رشتہ ہے وہ اپنے جسم کو چھوڑ کر جا چکی ہے اور ہم اسے روک بھی نہیں سکتے وہ جانے سے پہلے ہم سے پوچھتی ہے نہ ہمیں بتاتی ہے اس کے جانے کا پتا تو ہمیں تب چلتا ہے جب جسم ہر احساس سے عاری ہو چکا ہوتا ہے تب ہم اس جسم کے پاس بیٹھ کر رونا شروع کر دیتے ہیں تب ہم بولتے ہیں جانے والے کو ایسے نہیں جانا تھا وہ ہمارے لیے اہم تھا،وہ ہمیں بہت پیارا تھا اس کا ہونا ہماری زندگی کے لیے ضروری تھا لیکن تب کیا فائدہ؟ جانے والا تو جا چکا ہوتا ہے اب ہمارے رونے سے کیا ہو گا۔منیر نیازی اسی لیے تو کہا ہے۔۔۔۔
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں
ضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہو
اسے آواز دینی ہو اسے واپس بلانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
مدد کرنی ہو اس کی یار کی ڈھارس بندھانا ہو
بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
بدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہو
کسی کو یاد رکھنا ہو کسی کو بھول جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہو
حقیقت اور تھی کچھ اس کو جا کے یہ بتانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں
ہمارا ہر اختلاف،غصہ انا تب تک ہوتی ہے جب تک سانس چل رہی ہوتی ہے اس کے رکتے ہی ہر اختلاف بھلا دیا جاتا ہے لیکن اس سب میں جو کمی رہ جاتی ہے وہ یہ کے جب ہم کسی اپنے کے جنازے کے پاس بیٹھ کر روتے ہیں تو ہم اسے کچھ نہیں دے سکتے لیکن وہی اختلاف اگر ہم زندگی میں چھوڑ دیں اور اپنے پیاروں کو جا کر گلے لگا لیں اور انھیں بتا دیں کہ وہ کتنے اہم ہیں ہمارے لیے تو وہ روح کی خوشی ہماری زندگی تو نہیں بڑھا سکتی لیکن ہماری زندگی کی قیمت ضرور بڑھا دیتی ہے تو اس لیے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے اپنے پیاروں کو ضرور بتا دیں کہ وہ ہمارے لیے کتنے اہم ہیں۔