جواب کون دے گا؟

221

غزالہ اسلم

’’امی ناشتہ دو! اسکول کو دیر ہو رہی ہے‘‘ طلحہ نے ماں کو زور زور سے ہلایا۔ نیلو فر حماد کے سنگ پھولوں سے بھرے پودوں کے قریب بینچ پر بیٹھی تھی ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی ’’کیا ہوا کیوں پاگلوں کی طرح چلا رہے ہو؟‘‘ نیلو فر غصے سے بولی۔ ’’امی سات بج چکے ہیں مجھے اسکول جانا ہے میرا ٹیسٹ ہے جلدی ناشتہ دو‘‘ طلحہ نے اپنا یونی فارم استری کرتے ہوئے کہا۔ ’’اچھا دیتی ہوں‘‘ نیلو فر اٹھ کر باورچی خانے میں چلی گئی بیٹے کو بھیج کر وہ دوبارہ نیند کی وادی میں کھو گئی۔
کئی گھنٹے بعد موبائل کی گھنٹی سے آنکھ کھلی۔ ’’ہیلو کون؟‘‘ بند آنکھوں سے پوچھا ’’نیلی جان میں تمہارا دیوانہ حماد بول رہا ہوں، کیسی ہو؟ ناشتہ کر لیا؟‘‘ ’’نہیں ابھی تو نہیں کیا‘‘ نیلی نے جمائی روکتے ہوئے کہا۔ ’’اچھا میں تھوڑی دیر میں حلوہ پوری لے کر آرہا ہوں مل کر ناشتہ کرتے ہیں‘‘ حماد نے جواب دیا۔ ’’ٹھیک ہے‘‘ نیلی نے خوشی سے کہا۔
پھرتی سے منہ ہاتھ دھو کر کپڑے بدلے اور ہلکا سا میک اپ کر لیا۔ پلنگ کی چادر درست کررہی تھی کہ دروازہ ہلکے سے بجا، نیلی نے آہستہ سے دروازہ کھولا۔ حماد شاپر اٹھائے اندر آگیا۔ دروازہ بند کرکے دونوں ناشتہ کرنے لگے۔ باتوں باتوں میں کافی وقت گزر گیا، اچانک نیلی نے گھڑی کی طرف دیکھا ساڑھے بارہ بج رہے تھے۔ ’’حماد اب تم جائو طلحہ کے آنے کا وقت ہو رہا ہے۔‘‘ نیلی نے گھبراتے ہوئے کہا۔
’’اف ہو یہ طلحہ تو میرا رقیب بن گیا ہے‘‘ حماد نے منہ بناتے ہوئے کہا ’’اچھا ناراض نہ ہو رات کو ہم فون پر خوب باتیں کریں گے‘‘ نیلی نے مسکراتے ہوئے کہا اور حماد چلا گیا۔
نیلوفر ایک غریب گھرانے کی لڑکی تھی۔ پندرہ سال کی ہوئی، آٹھ جماعت پڑھ لیں تو اپنے جیسے غریب گھرانے سے رشتہ آیا ماں باپ نے اپنا بوجھ ہلکا کیا اور نیلوفر بیاہ کر سکھر سے کراچی آگئی۔ افضل پانچ جماعت پاس الیکٹریشن تھا، گھر میں صرف بوڑھی ماں تھی سیدھا سادا تیس 30 سالہ آدمی تھا۔ صبح دس بجے کام پر جاتا رات کو آٹھ بجے آجاتا معقول آمدنی تھی آسانی سے گزارہ ہو جاتاگھر اپنا تھا۔ افضل کی ماں اکثر بیمار رہتی جگر کا عارضہ لا حق تھا۔ نیلو فر نے شادی کے چوتھے دن سے سارے گھر کاکام سنبھال لیا۔ ہر لڑکی کی طرح نیلو فر کی خواہش تھی کہ افضل اس کی تعریفیں کرے، گھمانے لے جائے، تحفے لا کر دے مگر افضل ان سب معاملوں میں کورا تھا نہ اس کے پاس موٹر سائیکل تھی نہ ہی اس کے گھومنے پھرنے کا شوق تھا۔ صبح کام پر جانے سے پہلے سودا سلف لا دیتا، رات کو آتے ہوئے ناشتے کا سامان لے آتا کھانا کھا کر ٹی وی دیکھتا، ماں سے خیریت پوچھتا، نیلو فر سے دو چار باتیں کرکے سو جاتا۔ ہر پندرہ دن بعد اماں کو معائنے کے لیے اسپتال جانا ہوتا تو آدھے دن کی کام کی چھٹی کرکے رکشے پر لے جاتا، کبھی نیلو فر نے سموسے یا بریانی کی فرمائش کر دی تو اسے یاد ہی نہیں رہتا۔ نیلو فر کو اپنی زندگی میں بہت یکسانیت لگتی تھی۔ کراچی میں اس کا کوئی رشتہ دار یا سہیلی بھی نہیں تھی کہ اس کے گھر کبھی چلی جائے۔
ایک دن اس کے پہ در پہ الٹیاں ہونے لگیں۔ شام کو افضل آیا تو اماں نے قریبی لیڈی ڈاکٹر کے پاس بھیجا دونوں کو۔ خوش خوش واپس آکر اماں کو دادی بننے کی خوشخبری سنائی۔ افضل اتوار کو سودے کے ساتھ کبھی سیب، کبھی کیلے لے آتا۔ نیلو فر کو اصرار کرکے کھلاتا نیلو فر خوش ہو جاتی۔ ایک رات اماں کی طبیعت خراب ہوئی خون کی الٹیاں ہو گئیں افضل پڑوسی کے رکشا میں بٹھا کر سول اسپتال لے گیا۔ ڈاکٹر نے کافی ٹیسٹ اور الٹرا سائونڈ کرائے، تو پتا چلا کہ جگر نے 70 فیصد کام کرنا چھوڑ دیا ہے، اب ان کے جگر کا آپریشن کرنا پڑے گا ورنہ جان جانے کا خطرہ ہے، علاج کے لیے پانچ لاکھ روپے درکار تھے۔ افضل دوائیاں وغیرہ دلا کر اماں کو گھر لے آیا مگر مسلسل سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔ اماں دوائی کھا کر سو گئیں تو افضل کمرے میں آیا اور نیلو فر کو ساری بات بتائی وہ بھی پریشان ہو گئی۔ سونے کا زیور بھی نہ تھا اس کے پاس کہ وہی بیچ دیتے۔
روز کام سے آکر کبھی کسی دوست، کبھی کسی جاننے والے کے پاس قرض مانگنے جاتا مگر اس کے دوست بھی اس کی طرح سفید پوش تھے اور پانچ لاکھ بڑی رقم تھی آخر کار اس نے ایک دوست کے مشورے سے مکان گروی رکھ کے پیسوں کا انتظام کر لیا۔ ادھر نیلو فر کی ڈلیوری کے دن بھی قریب تھے۔ ’’جب تک نیلو فر فارغ نہیں ہو جاتی میں آپریشن نہیں کرائوں گی‘‘ اماں نے فیصلہ کن لہجے میں کہا۔ افضل نے ڈاکٹر سے مشورہ کرکے 2 مہینے بعد کی تاریخ اماں کے آپریشن کے لیے لے لی۔
تھوڑے دن بعد نیلو فر کو اللہ نے بیٹے کی نعمت سے نواز دیا۔ گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اماں اور افضل نے مشورہ کرکے طلحہ نام رکھا۔ محلے میں مٹھائی بانٹی آخر کار اماں کو اسپتال داخل کرنے کی تاریخ آگئی۔ کل آپریشن تھا، نیلو فر نے اماں کا بیگ تیار کر دیا اور بہت دعائوں کے ساتھ اماں کو اسپتال روانہ کیا۔ چھوٹے بچے کی وجہ سے نیلو فر گھر میں تھی افضل اماں کے ساتھ تھا۔ چھ گھنٹے کے آپریشن کے بعد ڈاکٹروں نے باہر آکر افضل کو کامیاب آپریشن کے اطلاع دی۔ اماں خیریت سے تھیں۔ رات کو اماں کو ہوش آیا تو افضل نے ان سے تھوڑی باتیں کیں۔ پھر دوائوں کے زیرِ اثر وہ سو گئیں۔ ایک ہفتے بعد ڈاکٹر نے اماں کو گھر جانے کی اجازت دی۔ اماں خیریت سے گھر آگئیں۔ نیلو فر نے محلے کی عورتوں کو جمع کرکے قرآن خوانی کی اور آلو کی بریانی سے سب کی تواضع کی۔ دن تیزی سے گزرنے لگے اماں کی صحت کافی بہتر ہو گئی تھی۔ طلحہ گھٹنوں گھٹنوںچلنے لگا تھا۔ افضل کو قرض اتارنے کی فکر نے زیادہ کام کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ رات بارہ بجے تک وہ کام کرکے گھر آتا کھانا کھاتے ہی سو جاتا نہ نیلو فر کے لیے اس کے پاس وقت تھا نہ طلحہ کے لیے۔
چھ ماہ کے عرصے میں صرف ایک لاکھ کا قرضہ اترا تھا افضل کے چند دوست دبئی جا رہے تھے کسی ایجنڈ کے ذریعے افضل کو پریشان دیکھ کر اسے بھی ساتھ چلنے کی پیشکش کردی۔ اماں اور نیلو فر نے افضل کو سمجھایا کہ یہیں رہ کر کمائو آہستہ آہستہ قرض اتر جائے گا۔ مگر قرض ایک سال کے وعدے پر لیا گیا تھا اگر وقت پہ ادا نہ کیا جاتا تو وہ آدمی مکان خالی کرا لیتا۔ سر چھپانے کا ٹھکانہ بھی ہاتھ سے نکل جاتا۔ اس لیے افضل نے دبئی جانا مناسب سمجھا اور تیاری شروع کردی۔
جس دن افضل کی روانگی تھی اسی دن طلحہ آٹھ ماہ کا ہو گیا تھا۔ اماں بہت فکر مند تھیں، نیلو فر نے رو رو کر آنکھیں سجا لی تھیں۔ افضل نے سامان کا بیگ تھاما، اماں کو سلام کیا، طلحہ کو گلے لگایا اور نیلوفر کو ایک سال میں واپسی کا جگنو تھما کر دروازے سے باہر نکل گیا۔
’’نیلو فر بیٹی نہ رو نماز پڑھ کر اللہ سے دعا کرو، اللہ اسے کامیاب کرے اور خیریت سے لے جائے تاکہ جلد سے جلد قرض اتر جائے اور وہ واپس آجائے۔‘‘ اماں نے سمجھایا۔
دوسرے دن افضل نے فون کرکے اپنے خیریت سے پہنچنے کی اطلاع دی۔ ہر ماں افضل دس ہزار روپے گھر کے خرچے اور اماں کی دوائوں کے لیے بھیجتا اور 40 ہزار قرض کی ادائیگی کے لیے۔ مہینے میں ایک دفعہ فون کرتا۔ جس دن افضل کا فون آتا وہ دن گویا عید کا دن ہوتا نیلو فر اور اماں کے لیے۔ طلحہ اب بولنے لگا تھا۔ روز ابا، اماں کرتا۔ نیلو فر اور اماں کا دل بہلا رہتا خدا خدا کرکے ایک سال گزرا اور سارا قرض ادا ہو گیا۔ افضل نے اگلے مہینے کی 25 تاریخ کو گھر واپسی کی اطلاع دی۔ 24 کی رات کو دبئی ایئرپورٹ فون کیا کہ دو گھنٹے بعد کی فلائٹ سے وہ روانہ ہو جائے گا۔ ’’صبح تک میں کراچی میں ہوں گا۔ تم لوگ ائیرپورٹ نہ آنا میں خود ہی ٹیکسی کرکے آجائوں گا۔‘‘ افضل نے کہا۔ نیلوفر نے سارے گھر کی صفائی کی۔ افضل کی پسند کے شامی کباب اور ہری مرچ قیمہ بنایا۔ اپنے اور طلحہ کے اچھے سے کپڑے استری کرکے رکھے۔ صبح جلدی اٹھ کر اماں کو ناشتا کرایا۔ طلحہ کو تیار کرکے خود بھی افضل کی پسند کا سرخ جوڑا پہن کر تیار ہو گئی۔ طلحہ ٹی وی کے ریموٹ سے کھیل رہا تھا کہ اچانک بٹن دب جانے کی وجہ سے ٹی وی آن ہوگیا۔ بریکنگ نیوز چل رہی تھی ’’دبئی سے کراچی آنے والا طیارہ لینڈنگ سے تھوڑی دیر قبل گر کر تباہ۔ تمام مسافر اور عملے افراد کے ہلاک ہو جانے کا خدشہ‘ جہاز مکمل تباہ ہوگیا…
اماں اور نیلوفر چیخیں مار کر ایک دوسرے سے لپٹ گئیں‘ رو رو کر دونوں کا برا حال تھا۔ شام تک ایک آس تھی شاید افضل بچ گیا ہو مگر انتظامیہ نے مرنے والے افراد کے ناموں کی فہرست جاری کر دی جس میں افضل کا نام بھی شامل تھا۔ تمام لاشیں جل کر کوئلہ ہوگئی تھیں۔ ناقابل شناخت‘ ادھوری لاشیں اجتماعی قبر میں دفنا دی گئیں۔ صدمے سے نیلوفر اور اماں کی بہت بری حالت تھی۔ لوگ آرہے تھے تعزیت کے لیے۔ نیلوفر کے میکے سے کوئی نہ آسکا کیوں کہ اس کے ابا اسپتال میں آئی سی یو میں داخل تھے۔ اماں کی طبیعت خراب رہنے لگی تھی۔ اکلوتے بیٹے کی موت کا صدمہ ناقابل برداشت تھا۔ نیلوفر عدت میں تھی‘ پھر بھی اماں کا خیال رکھ رہی تھی۔ صبح نیلوفر چائے بنا کر اماں کے پاس آئی تو ان کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں۔ رات کو نہ جانے کس پہر وہ خاموشی سے اس دُنیاسے رخصت ہوگئیں۔ نیلو فر نے بڑی ہمت کرکے پڑوسن کو آواز دی۔ ان کے آتے ہی وہ بے ہوش ہوگئی۔
قیامت در قیامت تھی جو نیلو فر پر گزر گئی تھی۔ طلحہ کو محلے کی خاتون سنبھال رہی تھیں۔ نیلوفر کو ہوش آیا تو عورتوں کے کہنے پر اپنے میکے فون کیا۔ وہاں سے اس کے باپ کے انتقال کی اطلاع مل گئی۔ غم کے ان کربناک لمحات میں اس کے اپنے بھی اس کے پاس نہ تھے۔ اماں کی تدفین کے چھٹے دن طلحہ کو بخار ہوگیا تو نیلوفر کو ہوش آیا۔ اس نے اپنے آپ کو سنبھالا اور طلحہ کو دوائی دی۔ وہ ٹھیک ہوگیا۔ نیلوفر کی عدت پوری ہوگئی۔ اس نے گھر پر سلائی کرنی شروع کردی۔ زندگی کی گاڑی رینگنے لگی۔ پریشانی کے ان دنوں میں حماد اسے اسپتال میں ملا۔ جب وہ طلحہ کو دوائی دلوانے گئی تھی۔ دو سالہ طلحہ ٹائیفائیڈ میں مبتلا روئے جارہا تھا۔ نیلوفر اسے سنبھالتی ہوئی پریشان کھڑی تھی۔ حماد نے اس کی پرچی بنوانے میں مدد دی۔ ڈاکٹر تک رہنمائی کی‘ وہ اسی اسپتال میں وارڈ بوائے تھا۔ دوائی دلا کر رکشا میں بٹھایا‘ اپنا موبائل نمبر دے کر نیلوفر کا نمبر لے لیا۔ ابتدا میں بہت ضرورت کے وقت نیلوفر حماد کو کال کرتی۔ آہستہ آہستہ دونوں میں دوستی بڑھتی گئی۔ حماد کی چار بہنیں تھیں وہ اکلوتا تھا اس کے والد انتقال کر چکے تھے گھر کی ساری ذمہ داری اس پر تھی۔
طلحہ اسکول جانے لگا تو نیلوفر حماد پر شادی کے لیے زور ڈالتی تو وہ انتظار کرنے کا کہتا کیوں کہ اس کی ماں بہنوں کی شادی سے پہلے اس کی شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ وقت گزرتا رہا‘ ایک ایک کرکے حماد کی چاروں بہنوں کی شادی ہوگئی‘ دونوں کی دوستی کو آٹھ سال ہو گئے تھے‘ طلحہ کی آج دسویں سالگرہ تھی۔ نیلوفر نے بریانی بنائی تھی۔ طلحہ کے ٹیوش جانے کے بعد حماد کو بلایا بریانی کھاتے ہوئے حماد نے نیلو کی بہت تعریف کی۔ ہر مہینے تنخواہ ملنے حماد نیلی کے لیے کوئی نہ کوئی تحفہ لاتا۔ نیلو فر کے حسن میں قصیدے پڑھتا۔ نیلی گھنٹو حماد کی باتوں کے سحر میں کھوئی رہتی۔ طلحہ ابھی تک اس تعلق سے لاعلم تھا کیوں کہ حماد ہمیشہ اس کی غیر موجودگی میں گھر آتا تھا۔ رات کو طلحہ کے سونے کے بعد نیلی گھنٹوں موبائل پر حماد سے باتیں کرتی اس وجہ سے صبح جلدی نہ اٹھ پاتی۔ طلحہ کی طرف سے اس کی توجہ ہٹتی جارہی تھی۔ طلحہ اپنے ِکپڑے بھی خود استری کرلیتا۔
آج نیلوفر نے پکا ارادہ کر لیا تھا کہ وہ حماد سے شادی کی بات منوا کر ہی رہے گی۔ صبح گیارہ بجے وہ حماد سے ملنے اسپتال چلی گئی۔
’’حماد آخر تم کب اپنی امی کو لے کر ہمارے گھر آئو گے؟ اب تو تمہاری چاروں بہنوں کی بھی شادیاں ہوگئیں‘ کب تک تمہارا انتظار کروں؟‘‘ نیلی نے آنکھوں میں آنسو بھر کر کہا۔
’’نیلی میں نے امی کو تمہارے بارے میں بتایا ہے ان کو اس شادی پر صرف ایک اعتراض ہے وہ ہے طلحہ۔‘‘ حماد نے آخر کار وہ بات بتا دی جسے وہ کئی مہینوں سے چھپا رہا تھا۔
’’کیا مطلب…؟‘‘ نیلی نے حیرانی سے کہا۔
’’وہ میری شادی کسی کنوری لڑکی کرنا چاہتی ہیں کیوں کہ میں غیر شادی شدہ ہوں‘ میں نے انہیں اپنی محبت کا واسطہ دے کر تم سے شادی کے لیے راضی کیا ہے مگر وہ کسی اور کی اولاد کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ طلحہ کی وجہ سے سب رشتے داروںکو بھی پتا چل جائے گا کہ تم پہلے سے شادی شدہ اور ایک بچے کی ماں ہو‘ لوگ باتیں بنائیں گے۔ امی کس کس کو جواب دیں گی۔‘‘ طلحہ نے بے بسی سے کہا۔
’’میںکیا کروں‘ میری سمجھ میں کچھ نہیںآرہا‘ طلحہ کی پھوپھی یا چچا بھی نہیں ہیں کہ ان کے پاس چھوڑ دوں۔ میرے میکے والے بھی مجھے پلٹ کر دیکھنے تک نہیں آئے اپنی غربت کی وجہ سے وہ طلحہ کو کیا رکھیں گے۔‘‘ نیلی رونے لگی۔
’’اچھا تم رو نہیں میری جان! میں تمہاری آنکھوں میں آنسو برداشت نہیں کرسکتا‘ ٹھنڈے دل سے سوچو کوئی نہ کوئی حل نکل آئے گا۔‘‘ حماد نی اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا۔
گھر آکر نیلی اسی مسئلے پر غور کرتی رہی مگر کچھ سمجھ نہ آیا۔ اسی ذہنی دبائو میں وہ اکثر طلحہ کو ڈانٹ دیتی۔ پورا ایک مہینہ گزر گیا۔ اس مسئلے کا کوئی حل سمجھ نہ آیا۔ اس دن وہ طلحہ کا یونیفارم خریدنے بازار جارہی تھی راستے میں نالہ آیا جس پر لکڑی کا ایک تختہ رکھا ہوا تھا۔ دونوں نے اس تختے پر پائوں رکھے اور نیلوفر نے طلحہ کو ہلکے سے دھکا دیا وہ لڑکھڑا کر سیدھا نالے میں گرا۔ تیز پانی کے ساتھ بہتا چلا گیا‘ اس کے منہ سے آواز بھی نہ نکل سکی۔ شدید گرمی کی وجہ سے آس پاس کوئی نہ تھا۔ نیلوفر تیزی سے چلتی سے دھڑک رہا تھا۔ اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا۔ بے اختیار اس نے حماد کو فون کیا۔
’’ہاں نیلی کیا حال ہے؟‘‘ حماد نے کہا۔
’’وہ طلحہ… وہ… وہ…‘‘ نیلی ہکلائی۔
’’کیا ہوا طلحہ کو؟‘‘ حماد نے پوچھا۔
’’بس تم جلدی سے میرے پاس آجائو۔‘‘ نیلی رونے لگی۔ حماد فوراً آگیا۔ نیلی نے روتے ہوئے اسے ساری بات بتا دی۔
’’نیلی یہ تم نے کیا کردیا‘ میں نے تم سے قتل کرنے کو تو نہیں کہا تھا‘ چلو پولیس کو اطلاع کرتے ہیں‘ کیا پتا وہ زندہ ہو۔‘‘ حماد جلدی سے بولا۔
’’نہیں پانی کا بہائو بہت تیز تھا‘ وہ فوراً بہتا ہوا آگے چلا گیا تھا‘ وہ نہیں بچا ہوگا۔‘‘ نیلی نے روتے ہوئے کہا۔
’’اسکول والے‘ محلے والے‘ رشتہ دار ان سب کو کیا جواب دو گی‘ چلو تھانے رپورٹ درج کرانے چلتے ہیں‘ تم کہنا غلطی سے نالے میں گر گیا ہے۔‘‘ حماد بولا۔
’’دونوں تھانے گئے‘ رپوٹ لکھوائی‘ پولیس نے نالے میں کرین کے ذریعے طلحہ کی تلاش کا کام شروع کردیا۔ دو دن بعد نالے اسے طلحہ کی لاش برآمد ہوگئی۔
نیلوفر کا رو رو کر برا حال تھچا۔ اب حماد اور نیلی کی شادی میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی مگر ضمیر کے کچوکے ناقابل برداشت تھے۔ پولیس نے معمولی سی مار پیٹ کے بعد نیلو سے سب کچھ اگلوا لیا۔
شیطان کے بہکاوے میں آکر اٹھایا ہوا ایک قدم اسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے لے گیا اور ماں کی ممتاز کو دنیا میں بدنام کروا گیا۔
نیلوفر کا اعترافِ جرم جب ٹی وی پر نشر ہوا تو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کی مائوں نے دانتوں تلے انگلی دبا لی۔
یہ ایک واقعہ اپنے پیچھے بہت سے سوال چھوڑ گیا۔ کیا ہمارا معاشرہ اتنا زوال پزیر ہوگیا ہے؟ کیا ہماری عورت نفس کی غلام بن چکی ہے؟ کیا حماد کی ماں ایک یتیم بچے کو قبول نہیں کرسکتی تھی؟ کیا کوئی ماں اپنی اولاد کے ساتھ ایسا کر سکتی ہے…؟ جواب کون دے گا میں یا آپ…؟
ہوئی گھر واپس آگئی۔ دروازہ بند کرکے پلنگ پر گر گئی۔ اس کا دل زور زور