الیکٹرک کا عوام پر ظلم k

216

قاسم جمال
کے ای ایس ای کی نج کاری کرتے ہوئے حکومت نے یہ عذر پیش کیا تھا کہ حکومت سبسڈی کی رقم دے دے کر تنگ آچکی ہے اور یہ رقم عوام کی بہبود کے لیے خرچ کی جائے گی۔ نج کاری کرتے وقت اس بات کی بھی ضمانت دی گئی کہ کے ای ایس سی میں کام کرنے والے ملازمین کی ملازمتوں کو بھی تحفظ فراہم کا جائے گا۔ لیکن جب حکمرانوں کی بے حسی کرپشن کک بیک کی وجہ سے کے ای ایس سی، کے الیکٹرک بن گئی اس دن سے کے الیکٹرک کے ملازمین کے ساتھ ساتھ عوام الناس کے ساتھ جو ظلم اور درندگی ولوٹ مار کی گئی وہ ناقابل بیان ہے۔ کراچی کے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا گیا۔ اوور چارجنگ، اوورلوڈ، بجلی چوری، کنڈا سسٹم کے نام پر کو لوٹ مار کی گئی کہ الامان الحفیظ، کے الیکٹرک کے 7ہزار سے زائد ملازمین کو بیک جنبش قلم نوکریوں سے برطرف کردیا گیا جبکہ اربوں روپے کے الیکٹرک کو صرف اس لیے دیے گئے تھے کہ وہ ملازمین کو نوکریوں سے بے دخل نہیں کریںگے۔
کے الیکٹرک نے کراچی میں بجلی فراہم کرنے کے بجائے تانبے کے اربوں روپے کے تار بیچ کر پورے شہر میں غیر معیاری سلور کے تار لگا دیے۔ جو انتہائی ناکارہ اور ناقص ثابت ہوئے اور معمولی بارش اور فالٹ پر وہ ٹوٹ جاتے جس پر عوام کو شدید پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری جانب کراچی کے عوام کے الیکٹرک کی جانب سے اوور بلوں ودیگر چاجز پر بے حد پریشان اور مشکلات کا شکار تھے اور ان کی کوئی شنوائی نہیں ہو رہی تھی۔ ایسے میں جماعت اسلامی کراچی کے عوام کی آواز بنی اور اس کی پبلک ایڈ کمیٹی نے بھرپور مہم چلائی اور قانونی چارہ جوئی کی۔ احتجاجی مظاہرے، دھرنے دیے گئے۔ جماعت اسلامی کے امیر سمیت سیکڑوں کارکنان کی گرفتاریاں کی گئیں اور انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا شاہراہ فیصل پر ہونے والے پرامن احتجاجی پر پولیس نے براہ راست مظاہرین پر فائرنگ اور شدید شیلنگ کی جس سے جماعت اسلامی کے نائب امیر سمیت کئی کارکنان شدید زخمی ہوئے۔ لیکن جماعت اسلامی اپنے موقوف سے پیچھے نہیں ہٹی اور پرامن جدوجہد جاری رکھی۔ جماعت اسلامی کی پرامن جدوجہد اور قانونی چارہ جوئی کے نتیجے میں عدالت عالیہ نے میٹر رینٹ صارفین کو واپس کرنے کے احکامات صادر فرمائیں اور اس مد میں عوام کو کے الیکٹرک پیسے واپس کرنے پر مجبور ہوئی۔ ابھی نئے سال کے آغازپرکے الیکٹرک نے عوام پر ایک نیا ظلم ڈھایا سابقہ حکمرانوں کے بعد اب موجودہ حکمرانوں نے بھی کے الیکٹرک کو نوازنے کا نیا کھیل شروع کردیا ہے۔ کوارٹر ایڈجسٹمنٹ چارجز کے نام پر بجلی کی قیمت فی یونٹ 4.90 روپے کا اضافہ کرکے کل 106 ارب روپے اور فیول ایڈجسٹمنٹ چاجز کے نام پر فی یونٹ1.50روپے کا اضافہ کر کے 21ارب روپے کے ساتھ کُل 127ارب روپے کی ڈکیتی کا پروگرام ترتیب دیا گیا ہے اور کراچی کے غریب عوام کے نام پر قومی خزانے کو چونا لگایا جارہا ہے۔ اور موجودہ حکومت کے الیکٹرک کو نوازنے کے لیے یہ کھیل کھیل رہی ہے۔ نئے ٹیرف کے نام پر بجلی گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے جس کی وجہ سے عوام ہلکان ہورہے ہیں، صنعتوں کا پہیہ جام ہورہا ہے عوام کو بے روزگاری کی دلدل میںدکھیلا جا رہا ہے۔ حکومت نے حج سبسڈی واپس لے لی ہے لیکن کے الیکٹرک کے مالک ابراج گروپ کو سبسڈی دی جارہی ہے اور دوسری جانب ابراج گروپ نے بھی الیکشن مہم کے نام پر پارٹی فنڈ کے نام پر اربوں روپے جمع کروائے ہیں۔
نجکاری کے بعد ایک نجی کمپنی کو معاہدوںکے برخلاف کئی گنا زیادہ سبسڈی دینا باعث تعجب اور حیرت انگیز ہے۔ عوام باشعور ہیں اور اس سارے کھیل سے بخوبی واقف بھی ہیں۔ تحریک انصاف اپنے بیانیے سے ہٹ چکی ہے۔ سبسڈی کی رقم تحریک انصاف یا عمران خان کے ذاتی فنڈ سے نہیں دی جا رہی بلکہ سبسڈی کی یہ رقم قومی خزانے ہی سے ادا کی جائے گی اور یہ رقم قوم نے اپنے خون پسینے کی کمائی کے ذریعے ٹیکسوں کی مد میں قومی خزانے میں جمع کرائی تھی لیکن ’’دادا جی کی دوکان پر فاتحہ‘‘ کے مصداق حکمرانوں نے وہی کام کیا جو ان کے سابقین کر رہے تھے۔ عوام کو اب اپنے شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے دوست اور دشمن کی تمیز کرنا ہوگی۔ کراچی کے مظلوم عوام جو ٹیکسز کی مد میں قومی خزانے کو روزانہ کے حساب سے اربوں روپے جمع کراتے ہیں اور قومی معیشت میں ان کا حصہ 75فی صد سے بھی زائد ہے لیکن اس شہر کے مسائل اور مشکلات ختم ہونے کو نہیں آرہے ہیں۔ نعمت اللہ خان ایڈوکیٹ کی شہری حکومت کے بعد اس شہر کے مسائل کے حل کے لیے کسی بھی بلدیاتی حکومت نے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی اور بہتی گنگا سے سب نے ہاتھ دھوئے۔ اب جب کہ امکان ہے کہ ماہ اگست میں بلدیاتی انتخاب کرائے جائیںگے۔ سیاسی بازی گر ایک نئے روپ میں عوام کی ہمدردیاں سمیٹنے مینڈکوں کی طرح بلوں سے نکل آئیںگے۔ کوئی لسانیت کے نام پر اور کوئی مظلومیت کا رونا رو کر عوام کو بے وقوف بنائیں گے۔
پرویز مشرف نے اپنے لاڈلے مصطفی کمال کو شہر کی ترقی اور خوشحالی کے لیے 200 ارب دیے اور ان 200 ارب کی رقم کتنی لندن سرکار کو گئی اور کتنی لیاقت قائم خانی اور کرپٹ افسران کے بھینٹ چڑھائی گئی۔ جبکہ نعمت اللہ خان کے دور نظامت میں صرف 29ارب روپے میں ریکارڈ ترقیاتی کام کیے گئے اور نعمت اللہ خان کے دور نظامت کو بین الاقوامی طور پر سرہایا گیا اور ان کے دور کو کراچی کو عوام ابھی تک یاد کرتے ہیں۔ اہل کراچی کے پاس موقع ہے کہ ایک بار پھر نعمت اللہ خان کے دور کی یاد کو تازہ کریں اور بلدیاتی انتخاب میں دیانت دار قیادت کو منتخب کریں۔ کراچی کے بیٹے کراچی کو بچانے کے لیے میدان میں نکلیں کراچی کی ترقی پاکستان کی ترقی اور خوشحالی ہے۔ حکمران کراچی کی عوام کے ساتھ رحم کریں اور کراچی کے ساتھ کوئی اور نیا تجربہ نہ کریں۔ کراچی اور اہل کراچی کو تجربوں کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے۔ kالیکٹرک کی نج کاری فوری طور پر ختم کی جائے اور کے الیکٹرک کو قومی تحویل میں لیا جائے اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کی جائے اور کے الیکٹرک میں اربوں روپے کی ہونے والی کرپشن کو بے نقاب کیا جائے اور بارش کے دوران بجلی کے کرنٹ سے ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کو معاوضہ اور انہیںکے الیکٹرک میں ملازمت بھی دی جائے۔ کراچی میں بلدیاتی انتخاب شفاف طریقے سے کرائیں جائیں تاکہ کراچی ایک بار پھر روشنیوں کا شہر بن سکے اور یہاں ترقی اور خوشحالی کا دور پھر آئے۔