آٹے کے بحران اور مہنگائی کی ذمے دار حکومت ہے، حافظ نعیم الرحمن

154
کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم کی زیر صدارت قبا آڈیٹوریم میں سیاسی کمیٹی کا اجلاس ہورہا ہے

کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ آٹے کی قیمتوں میں اضافے اور گندم کی قلت کے باعث پیدا ہونے والے بحران کی ذمے دار حکومت ہے ۔ حکومت کی نا اہلی ، بد انتظامی اور نا قص پالیسیوں کے باعث بجلی ، گیس ، پیٹرول ، گھی ، خوردنی تیل ، گوشت سبزی ، دودھ کے بعد آٹے کی قیمتوں میں اضافے نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے ۔ خدشہ ہے کہ اگر حکومت نے گندم کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور اس کی دستیابی کو فوری طور پر یقینی بنانے کی کوشش نہ کی تو آٹے کے بحران میں مزید اضافہ ہو جائے گا اور آٹے جیسی بنیادی ضرورت زندگی عوام کی دسترس سے دور ہو جائے گی ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ گندم کی قلت اور آٹے کی قیمتوں میں چڑھائو کے حوالے سے بہت پہلے سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا مگر حکومت نے کوئی نوٹس نہیں لیا اور عوام کی مشکلات اور پریشانیوں کے حل کے حوالے سے مجرمانہ غفلت و لاپروائی کے اپنے رویے کو ترک نہیں کیا اور اس لیے ایک ہفتے کے دوران فی کلو آٹے کی قیمت میں 8سے 10روپے اضافہ ہو گیا ۔ روٹی کی قیمتیں بھی بڑھنے لگیں اور عوام کے لیے روٹی کا حصول بھی مشکل ہو گیا ۔ اشیا صرف بالخصوص غذائی اجناس کی قیمتیں پہلے ہی آسمان سے باتیں کر رہی تھیں اور حکومت کی جانب سے چیک اینڈ بیلنس کا نظام اور قیمتیں کنٹرول کرنے کا کوئی انتظام نہ ہونے کی وجہ سے شہری گرانی کا شکار ہیں، آٹے کے بحران کو بھی ختم کرنے کے لیے حکومت نے تا حال کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکمرانوں اور اسمبلیوں میں موجود نمائندوں نے عوامی مسائل پر مکمل چشم پوشی اختیار کی ہوئی ہے ۔ پیپلز پارٹی ، ایم کیو ایم اور تحریک انصاف تینوں اقتدار میں ہیں اور تینوں حکمران پارٹیاں عوام کو ریلیف دینے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوگئی ہیں اور ان پارٹیوں اور ان کی حکومتوں سے عوام مکمل طور پر مایوس ہو گئے ہیں ۔
کراچی(اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی سندھ نے کراچی تا کشمور امن وامان کی بگڑتی صورتحال اور بلدیاتی مسائل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ 18ویں ترمیم کے مطابق بلدیاتی اختیارات اور وسائل نیچے کی سطح پر منتقل کرکے عوام کے بنیادی مسائل کو حل کیا جائے۔ یہ مطالبہ جماعت اسلامی سندھ کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا جو کہ قبا آڈیٹوریم میں کنوینر کمیٹی حافظ نعیم الرحمن کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ حافظ نعیم الرحمن نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت جاگیرداری نظام نے پورے صوبے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، مہنگائی، بے روزگاری، لاقانونیت اور امن وامان کی خراب صورتحال سے عوام سخت پریشان ہیں، حکومت میں شامل ٹولہ عوام کے مسائل حل اوران کو تحفظ دینے کے بجائے اپنی کرپشن کو چھپانے میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی نااہلی اور اختیارات اور فنڈز نہ ملنے کی وجہ سے پورے صوبے میں بلدیاتی ادارے مفلوج اور تھر کے مناظر پیش کررہے ہیں۔ صوبائی دارالحکومت کراچی کچرا کنڈی میں تبدیل ہوگیا ہے، جماعت اسلامی کے رہنما نے مطالبہ کیا کہ عدالتی حکم کے مطابق نہروں وکینالوں پر انسداد تجاوزات سے قبل لوگوں کو متبادل جگہ فراہم کی جائے۔