حکمرانوں کا خمار اور تبدیلی کا بخار اتر چکا، سراج الحق

279
امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق پشاور پریس کلب میں میٹ دی پریس سے خطاب کررہے ہیں

پشاور( نمائندہ جسارت) امیر جماعت ا سلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ جماعت اسلامی مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف تحریک چلائے گی ۔ اب عوام کے پاس جماعت اسلامی کے علاوہ دوسرا کوئی آپشن نہیں رہا۔ جماعت اسلامی چہروں کے بجائے نظام کی تبدیلی کی جدوجہد کر رہی ہے ۔ اپوزیشن صرف جماعت اسلامی ہے باقی سب ایک چھتری تلے جمع ہیں ۔ اِدھر اُدھر سے پرزے پکڑ کر بنایا گیا جہاز رن وے ہی پر کھڑا رہے گا اڑ نہیں سکتا ۔ قوم کے 15 ماہ ضائع ہو گئے حکومت ابھی تک کوئی ایک کام سنجیدگی سے نہیں کر سکی ۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق 2020 ء میں بھی معاشی شرح نمو افریقہ کے قحط زدہ ممالک جیسی رہے گی اور عوام کو کوئی ریلیف نہیں ملے گا ۔ احتساب بند کمروں میںنہیں ہوتا ، احتساب کا نعرہ ایک مذاق بن گیاہے احتساب کے لیے بنائے گئے ادارے پسند و ناپسند کی بنیا د پر سیاست میں ملوث ہو گئے ہیں۔جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق ان خیالات کااظہار انہوں نے پشاور پریس کلب کے نو منتخب عہدیداروں کے ساتھ میٹ دی پریس پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پرڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی محمد اصغر ، ساتویں بار پشاور پریس کلب کے صدر منتخب ہونے والے سید بخا ر شاہ اور جنرل سیکرٹری عمرا ن یوسفزئی ، ، امیر جماعت اسلامی پشاور عتیق الرحمن اورپریس کلب کی گورننگ باڈی کے ارکان بھی موجود تھے ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ حکومت نے ملک کو مسائل کی دلدل میں دھکیل دیاہے ۔ حکومت 15 ماہ میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دے سکی ۔ مہنگائی اور بے روزگاری کے مارے عوام کی سمجھ میں سونامی کا اصل مطلب اب آیاہے ۔ جھونپڑے سے لے کر بنگلوں تک مہنگائی کے سونامی نے تباہی مچادی ہے اور سفید پوش طبقہ بھی نان شبینہ کا محتاج ہوگیاہے ۔ 70 روپے کلو آٹے پر پورا ملک سناٹے میں آگیاہے اور لوگوں کے چہرے زرد پڑ گئے ہیں ۔ وزیراعظم کہتے تھے کہ گھبرانا نہیں ، قبر میں سکون ملے گا مگر اب حکومت نے ڈیتھ سر ٹیفکیٹ کی فیس بھی3 سو سے بڑھا کر 12 سو روپے کردی ہے ۔ لوگوں کے لیے جسم و جان کا رشتہ قائم رکھنا مشکل ہوگیا ہے ۔15 ماہ میں حکومت کے کسی وزیر نے پہلا سچ بولا ہے کہ حکومت ناکام ہوگئی ہے اور وزرائے اعلیٰ بادشاہ بن کر بیٹھے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ پورا سچ یہ ہے کہ وزرائے اعلیٰ ہی نہیں ، تمام حکومتی وزرا بادشاہ ہیں جنہیں عوام کی کوئی پروا نہیں ۔ اب تو خود وزیر دفاع کہتے ہیں کہ حکومت صرف اپنی مدت پور ی کرنا چاہتی ہے ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ حکومت کو ووٹ اور سپورٹ دینے والے رو رہے ہیں ۔ حکمرانوں کا خمار اور تبدیلی کا بخار اتر چکاہے ۔ حکومت نے ایک کروڑ نوکریاں اور50 لاکھ گھر دینے کا وعدہ کر کے 34 لاکھ لوگوں سے روزگار اور 10 لاکھ سے زیادہ لوگوں سے چھت چھین لی ہے ۔ پاکستان گندم پیدا کرنے والا دنیا کا آٹھواں بڑا ملک ہے مگر عوام روٹی کے نوالے نوالے کو ترس رہے ہیں ۔گزشتہ ایک سال میں آٹے کی قیمت میں900 روپے من اضافہ ہوا ۔ ڈاکٹرز اور انجینئرز ملک سے بھاگ رہے ہیں ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ حکمران کہتے ہیں کہ ہم سابق حکومتوں کے قرضوں کے بوجھ میں دبے ہوئے ہیں مگر 15 ماہ میں حکومت چھلانگ لگا کر 31 ہزار ارب روپے سے 42 ہزار ارب تک پہنچ گئی ہے ۔ کاروبار ٹھپ ہوچکے ہیں ۔ کراچی کی مصروف ترین بند ر گاہ ویران پڑی ہے اب تو اخبارات اور چینلز بھی ڈائون سائزنگ پر مجبور ہو گئے ہیں۔ جو لوگ سمجھتے تھے کہ حکومت کے سقراط و بقراط چند ماہ میں ملک کو معاشی ٹائیگر بنادیں گے اب ان سے نجات کی دعائیں مانگ رہے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ حکومت نے گورنر ہائوسز کو یونیورسٹیاں بنانے ، بیرونی دورے کم کرنے اور غیر ملکی دوروں میں عام جہازوں میں سفر کرنے کے دعوے کیے تھے ان کا کیا بنا ؟۔ انہوںنے کہاکہ کرپشن کے خاتمے کے دعوے کرنے والوں نے کرپشن میں اضافہ اور رشوت کے ریٹس بڑھا دیے ہیں ۔ پاکستان کو مدینے جیسی ریاست بنانے کے دعویداروں نے حج و عمرے کے کرایوں میںاضافہ کر کے مدینہ جانے والوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیاہے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ جماعت اسلامی کراچی سے چترال تک مظلوم و محروم عوام کو منظم کرے گی ہم زیر زمین سرگرمیوں اور ڈرائنگ روم کی سیاست کے قائل نہیں ۔ انہوںنے کہاکہ چوروں کے ذریعے چوری ، ظالموں کے ذریعے ظلم اور کرپٹ لوگوں کے ذریعے کرپشن ختم نہیں ہوسکتی ۔ انہوں نے کہاکہ ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل اور پلڈاٹ سمیت قومی و عالمی اداروں اورعدالت عظمیٰ نے اعتراف کیاہے کہ جماعت اسلامی دیانتدار ، حقیقی جمہوری اور آئین پر پورا اترنے والی جماعت ہے ۔ قوم آزمائے ہوئوں کو آزمانے کے بجائے ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے جماعت اسلامی کا ساتھ دے ۔