شام میں بم دھماکہ 3 ترک فوجیوں سمیت 10 جاں بحق

175
ادلب: روس اور بشارالاسد کی افواج کے حملوں کے خلاف شامی شہری نمازِ جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) شام میں مزاحمت کاروں اور تُرک فوج کے زیرانتظام علاقے میں ایک کار بم حملے میں 3 تُرک فوجیوں سمیت 10افراد جاں بحق ہوگئے۔ خبررساں اداروں کے مطابق تُرک وزارت دفاع نے جمعہ کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ یہ حملہ جمعرات کی شب کیا گیا۔ یہ کار بم دھماکا اس وقت کیا گیا، جب ایک شاہراہ پر تُرک فوجی تلاشی لے رہے تھے۔ جب کہ شامی مبصر برائے انسانی حقوق نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ شمال مشرقی شہر رقہ کے نواحی قصبے سلوک میں ترکی نواز شامی تنظیم احرار الشرقیہ کے مرکزی دفتر کو نشانہ بنایا گیا، جس میں تنظیم کے 7 ارکان اور 3 تُرک فوجی مارے گئے۔ اس علاقے میں تُرک فوج اور مزاحمت کاروں نے رقہ شہر کے شمال میں واقع تل ابیض کے دیہی علاقے میں امریکا نواز کرد اکثریتی ملیشیا شامی جمہوری فوج کے زیر کنٹرول دیہات پر گولہ باری بھی کی۔ اس کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان کا علم نہیں ہو سکا۔ جب کہ حسکہ صوبے میں تل تمر کے اطراف میں تُرک فوج اور شامی جمہوری فوج کے درمیان گولہ باری کا تبادلہ ہوا۔ دوسری جانب اقوام متحدہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ برس دسمبر سے شام کے صوبے ادلب میں اسدی فوج کی کارروائیوں کے نتیجے میں ساڑھے 3 لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ جمعرات کے روز اقوام متحدہ نے کہا کہ لڑائی میں شدت کے نتیجے میں انسانی صورتحال خراب ہوتی جارہی ہے۔ ادلب کے جنوبی علاقوں میں اسدی اور روسی افواج دسمبر سے مسلسل فضائی حملے کررہی ہیں۔