شہریت بل کیخلاف بھارتی پنجاب میں قرار داد منظور

320
بھارت: متنازع شہریت قانون کے خلاف سورت میں جلسہ ہورہا ہے‘ مشرقی پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ امریندر سنگھ پیش کردہ قرارداد پر بحث کررہے ہیں

چندی گڑھ (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت کی ریاست پنجاب کی اسمبلی نے متنازع شہریت بل کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی۔ پنجاب میں انڈین نیشنل کانگریس برسر اقتدار ہے، جس کے وزیر برہم مہندرا نے قرارداد ایوان میں پیش کی، جسے منظور کر لیا گیا۔ صرف بھارتیہ جنتا پارٹی کے ارکان نے قرارداد کی مخالفت کی۔ مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی اتحادی جماعت شیرومانی اکالی دل نے قرارداد کی مخالفت کی، لیکن شہریت ترمیمی بل میں تبدیلی کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی کے پارلیمانی رہنما نے شہریت ترمیمی بل میں دیگر مذہبی اکائیوں کی طرح مسلمانوں کو بھی شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ شہریت بل کی منظوری سے ملک بھر میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ عوام میں غم و غصہ ہے اور مظاہروں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مظاہروں میں تمام مکاتب فکر کے افراد شامل ہیں، جو مرکزی حکومت کی اس قانون سازی سے نالاں ہیں۔ بھارتی ریاست کیرالا کے بعد پنجاب دوسری ریاست ہے، جہاں متنازع شہریت بل کے خلاف اسمبلی نے قرارداد منظور کی ہے۔ قراداد میں کہا گیا ہے کہ شہریت ترمیمی قانون بھارت کے سیکولر زم کے دعوے پر بدنما داغ بن کے ابھرے گا، اور اس قانون سے جمہوریت اور جمہوری رویے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ اگر ضرورت محسوس ہوئی تو اس قانون کے خلاف عدالت عظمیٰ سے بھی رجوع کیا جائے گا۔ ریاست کیرالا نے بل کے خلاف عدالت عظمیٰ سے بھی رجوع کر رکھا ہے۔ متن میں کہا گیا ہے کہ شہریت بل بھارت کی نظریاتی بنیاد سیکولر زم سے متصادم ہے، جس کے تحت بھارتی آئین تشکیل دیا گیا۔ قرارداد میں شہریت بل کو مذہب پر مبنی امتیازی سلوک اور بھارت کے بعض طبقوں کو ثقافتی اور لسانی طور پر تقسیم کرنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ اسے جمہوریت کے بنیادی تقاضوں کے منافی بھی کہا گیا ہے۔ ریاستی اسمبلی کی قرارداد میں وفاقی حکومت سے متنازع شہریت قانون واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مسلمان رہنماؤں نے اس بل کو مذہب کے نام پر بھارت کو تقسیم کرنے اور اسے ہندو ریاست بنانے کی سازش بھی قرار دیا ہے۔ بھارت کی 6 ریاستوں نے متنازع شہریت بل پر عمل سے انکار کر دیا ہے۔ ان ریاستوں میں پنجاب، مغربی بنگال، مدھیہ پردیش، کیرالا اور چھتیس گڑھ کی حکومتیں شامل ہیں۔ بھارتی پارلیمان نے 12 دسمبر 2019ء کو یہ بل منظور کیا تھا، جس کے تحت پاکستان، افغانستان اور بنگلادیش کی 6 مذہبی اقلیتوں کے افراد کو بھارت کی شہریت دینے کی منظوری دی گئی تھی۔ اس فہرست میں مسلمانوں کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔ اس بل کو بھارت کی حزب اختلاف کی جماعتیں بھارت کا سیکولر تشخص مسخ کرنے کے مترادف قرار دے رہی ہیں۔ حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ مذہب کی بنیاد پر بھارت کی نظریاتی اساس کو متاثر کر رہی ہے۔ مذکورہ بل کے خلاف بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سمیت اتر پردیش، آسام اور دیگر ریاستوں میں احتجاج اور مظاہرے جاری ہیں، جب کہ اس دوران پُرتشدد واقعات کے نتیجے میں درجنوں افراد مارے بھی جا چکے ہیں۔