تحریک لبیک کے 86کارکنوں کو 4ہزار 738سال قید و جرمانے کی سزا

149

راولپنڈی (خبر ایجنسیاں)انسداد دہشت گردی کی عدالت نے الزامات ثابت ہونے پر تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ خادم حسین رضوی کے بھائی اور بھتیجے سمیت 86 افراد کو مجموعی طور پر 4 ہزار 738 سال قید کی سزا سنا دی۔جمعرات کو راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر ایک کے جج شوکت کمال ڈار نے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے رات گئے فیصلہ سنایا جس کے بعد تمام مجرمان کو جیل منتقل کردیا گیا۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے توہین مذہب کیس میں آسیہ بی بی کی بریت کے فیصلے کے خلاف مذہبی جماعتوں خاص طور پر تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے احتجاج اور دھرنے دیے گئے تھے۔دوران احتجاج ملک کے اعلیٰ اداروں، ان کے سربراہان کے بارے میں نامناسب اور اشتعال انگیز گفتگو کی گئی تھی جبکہ مختلف مقامات پر سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا تھا جس کا مقدمہ تھانہ پنڈی گھیب میں درج کیا گیا تھا۔نومبر 2018 میں خادم حسین رضوی کی گرفتاری کے بعد سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، توڑ پھوڑ، پولیس مزاحمت اور دہشت گردی کے ساتھ دیگر الزامات کا مقدمہ درج کرتے ہوئے ان کے بھائی امیر حسین اور بھتیجے محمد علی سمیت 80 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا تھا۔مقدمے کی تقریباً سوا سال تک سماعت جاری رہنے کے بعد راولپنڈی کی خصوصی عدالت نے جمعرات کو فیصلہ سناتے ہوئے مقدمے میں نامزد تمام 86 ملزمان کو مجموعی طور پر 4 ہزار 738 سال قید کی سزا سنا دی۔عدالت نے علامہ خادم حسین رضوی کے بھائی علامہ امیر حسین رضوی اور بھتیجے محمد علی سمیت تمام ملزمان کو جرم ثابت ہونے پر 55، 55 سال قید با مشقت کی سزا سنائی اور مجموعی طور پر ایک کروڑ 29 لاکھ 25 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے کی بھی ہدایت کی۔جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں مجرموں کو مجموعی طور پر 146 سال مزید قید کی سزا کاٹنا ہو گی جبکہ عدالت نے تمام مجرمان کی منقولہ و غیر منقولہ جایداد ضبط کرنے کا بھی حکم دیا۔عدالتی فیصلے کے بعد مجرمان کو تین گاڑیوں میں ایلیٹ فورس کی سیکورٹی میں اٹک جیل بھجوا دیا گیا۔لاہور میں سیکورٹی فورسز کی جانب سے 2018 میں کریک ڈاون کرکے خادم حسین رضوی کی گرفتاری کے بعد تحریک پاکستان اور تحریک لبیک یارسول اللہ کے کارکنوں نے پرتشدد احتجاج کرتے ہوئے پولیس سے جھڑپوں میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔ملتان روڈ پر پولیس سے جھڑپوں میں ایک کانسٹیبل شدید زخمی ہوگیا جسے ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جبکہ شہر کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو دیکھتے ہوئے رینجرز نے لاہور کے اہم علاقوں کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔