نقیب اللہ محسود کے قتل کو 2 برس بیت گئے

131

کراچی:جعلی پولیس مقابلے میں نقیب اللہ محسود سمیت 4 افراد کے قتل کو 2 برس بیت گئے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں پولیس گردی کا نشانہ بنے والے نقیب اللہ محسود کے قتل کو 2 برس بیت گئے لیکن انصاف اور جھوٹی تسلیوں کے علاوہ کچھ نہ ملا ، نقیب کے والد انصاف کی تلاش میں گزشتہ سال جہانِ فانی سے کوچ کر گئے  ۔

نقیب اللہ محسود کو 13 جنوری 2018کو ملیر کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے نوجوان نقیب اللہ محسود کو دیگر 3 افراد کے ہمراہ دہشت گرد قرار دے کرمقابلے میں ماردیا تھا۔27 سالہ نسیم اللہ عرف نقیب اللہ محسود کو اس وقت کے ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے جعلی پولیس مقابلے میں مار دیا تھا البتہ نقیب کی لاش کی شناخت 17 جنوری 2018 کو ہوئی تھی۔

یاد رے کہ سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے نقیب اللہ محسود کو تحریک طالبان کا کمانڈر ظاہر کیا تھا۔

نقیب اللہ کےقتل کےبعد اُن کی تصاویر اور جعلی پولیس مقابلے میں ہلاکت کی خبرسوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور لوگوں نے پولیس کو کڑی تنقید کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا جبکہ سول سوسائٹی نے واقعہ کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے پولیس کے اقدام کو ماورائے عدالت قتل قرار دیا۔

Image result for naqeebullah mehsud 2nd death anniversary

نقیب اللہ کے قتل کی خبر نے پوری قوم کو جنجھوڑ کررکھ دیا اورہر جانب سے پولیس کے اقدام کے خلاف آواز اٹھنے لگی جبکہ کراچی، اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے اوردھرنے بھی دیئے گئے۔

سپریم کورٹ پاکستان نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے واقعہ کی رپورٹ طلب کر لی جبکہ سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار سمیت جعلی پولیس مقابلے میں شریک دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا گیا جس کے بعد ملزمان کے خلاف دو مقدمات درج کرلیے گئے۔

اس وقت کے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے بھی واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے موجودہ آئی جی گلگت بلتستان اور اس وقت کے ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ثنا اللہ عباسی کی سربراہی میں 3 رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی اور پھر ایڈیشنل آئی جی آفتاب پٹھان کی سربراہی میں دوسری کمیٹی تشکیل دی گئی۔ جس نے تحقیقات کے بعد نقیب اللہ محسود کو بے قصوراوراس کی ہلاکت کو ماورائے عدالت قتل قرار دیا۔

Related image

کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں جعلی پولیس مقابلے کا انکشاف کرتے ہوئے نقیب اللہ کے پیش کیے گئے ریکارڈ کو بھی جعلی قرار دیا اور راؤ انوار کو عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی اور  بعد ازاں 20 جنوری کو راؤ انوار اور اُن کی ٹیم کو معطل کردیا گیا جبکہ راؤ انوار کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کر دیا گیا۔ اس تمام معاملے کے دوران پولیس افسر راؤ انوار نامعلوم مقام پر روپوش ہو گئے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے راؤ انوار کوتحفظ کی یقین دہانی کے بعد راؤ انوار نے خود کو اچانک ہی سپریم کورٹ کے سامنےسرنڈر کردیا۔

Image result for naqeebullah mehsud with father

دوسری جانب اے ٹی سی میں راؤ انوار کے خلاف سماعت جاری ہے تاہم راؤ انوار ضمانت پررہا ہیں۔

رواں ماہ راؤ انوار نے سپریم کورٹ سے اپنا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ مقدمہ کی سماعت سست روی سے جاری ہے اس لیے اُن کا نام ای سی ایل سے نکالا جائے تاہم عدالت نے اُن کی درخواست مسترد کردی  تھی۔