مخالفین کا قتل امریکی خارجہ پالیسی کی بنیاد

415

 امریکا کی تاریخ کا ادراک رکھنے والوں کے نزدیک پچھلے دنوں امریکی صدر ٹرمپ کے ہاتھوں ایران کے جنرل قاسم سلیمانی کا ڈرون کے ذریعہ ماورائے عدالت قتل کوئی پہلا قتل نہیں بلکہ حقیقت میں امریکا کے مخالفین، اس کے نظریاتی دشمنوں کو نشانہ بنا کر انہیں صفحہ ہستی سے مٹانے کا عمل امریکا کی خارجہ پالیسی کی بنیاد رہا ہے۔ عین ممکن ہے کہ بہت سے لوگ بھول گئے ہوں کہ 1934 میں نکاراگوا پر امریکا کے تسلط کے خلاف تحریک کے سربراہ ساں ڈینو کو امریکا نے قتل کراکے راہ سے ہٹا دیا تھا۔ ممکن ہے کہ اب بھی لوگوں کو یاد ہے کہ ویت نام کی جنگ کے دوران فینکس پروگرام کے تحت امریکا کے دشمنوں کی نشاندہی کے دوران ہزاروں ویت نام کے حامیوں کو بے رحمانہ قتل عام کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اور 1963میں جنوبی ویت نام کے وزیر اعظم نگو ڈینہ ڈیم کو سی آئی نے قتل کرادیا تھا کیونکہ وہ امریکی پالیسی پر عمل پیرا نہیں تھے۔ پھر کانگو کے حریت پسند رہنما پیٹرس لوممبا کا جنوری 1961 میں کاتنگا کے جنگل میں ہولناک قتل غالباً بہت سے لوگوں کو یاد ہے۔ اس قتل کا حکم صدر آیزن ہاور نے دیا تھا اور سی آئی اے کے زیر نگرانی انجام پایا تھا۔ پھر ارجنٹینا کے مشہور مارکسسٹ انقلابی چے گیورا کو کون بھلا سکتا ہے جنہوں نے فیڈل کاسترو کے ساتھ مل کر کیوبا میں انقلاب برپا کیا اور جب وہ عالمی انقلاب کے سفر پر نکلے اور کانگو کنشا میں کامیاب انقلاب کے بعد بولیویا پہنچے تو 8 اکتوبر 1967 کو صدر لنڈن جانسن کے حکم پر سی آئی اے نے بولیویا کی فوج کی مدد سے چے گیورا کو گھیر لیا گیا اور امریکا کے نظریاتی دشمن چے گیورا کو گولی مار کر ہلاک کردیاگیا۔
ماضی میں اتنی دور کیوں جائیں، صدر اوباما کے دور کو لیں جب امریکا کے مخالفین کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنانے کی مہم بڑے پیمانہ پر شروع ہوئی۔ صدر اوباما کے دور میں پاکستان سے لے کر یمن اور صومالیہ تک 545 ڈرون حملے ہوئے جن میں تین ہزار سات سو ستانوے افراد ہلاک ہوئے۔ گو پاکستان میں ڈرون حملوں کا سلسلہ صدر بش کے دور میں شروع ہوا تھا لیکن اوباما کے دور میں اتنے زیادہ حملے ہوئے کہ اس کی بنا پر ان حملوں کو ڈرون جنگ قرار دیا گیا تھا۔ اس جنگ کے دوران القاعدہ کے ایمن الزواہری سمیت طالبان کے 16کمانڈر مارے گئے تھے اور داعش کے 4۔ امریکی تنظیم Reprieve کے مطابق القاعدہ کے رہنما ایمن الزواہری کی تلاش اور قتل کے دوران امریکی فوج کی کارروائی میں 76معصوم بچے اور 79بے گناہ راہ گیر جاں بحق ہوئے تھے۔ یہی صدر اوباما کا دور تھا جب امریکی نیوی سیلز نے پاکستان کے چھاونی شہر ایبٹ آباد پر حملہ کر کے اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا تھا۔ اور پچھلے دنوں
ٹرمپ نے اسامہ بن لادن کے بیٹے حمزہ کو ہلاک کرنے کا اعلان کیا تھا۔
ٹرمپ نے صدر بننے کے بعد مارچ 2018 میں حکم دیا تھا کہ امریکی ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد نہ بتائی جائے۔ اس دوران صومالیہ میں امریکی ڈرون حملوں کی تعداد دوگنی ہوگئی تھی اور یمن میں تین گنا اضافہ ہوا تھا۔ اعداد وشمار کے اس آئینے سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکی حکومت اپنے مخالفیں، دشمنوں اور نظریاتی حریفوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے ان کے قتل کو اپنی پالیسی کی بنیاد تصور کرتی ہے اور اس کا اعتراف کرنے سے نہیں ہچکچاتی۔ صدر ٹرمپ نے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی بغداد کے ہوائی اڈہ کے باہر ہلاکت کے اقرار میں زیادہ دیر نہیں کی البتہ اس بات کے شکوک و شبہات روز بروز بڑھتے جارہے ہیں کہ جنرل سلیمانی کی ہلاکت کا جواز کیا تھا۔ ٹرمپ اور ان کے وزیر خارجہ پومپیو کا کہنا ہے کہ جنرل سلیمانی امریکا کے خلاف کسی بڑے حملہ کی منصوبہ بندی کے لیے بغداد آرہے تھے۔ پومپیو کا اصرار تھا کہ ان کا ارادہ بغداد میں امریکی سفارت خانہ کو نشانہ بنانا تھا۔ لیکن ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جنرل سلیمانی، امریکا کے کئی سفارت خانوں کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔ ٹرمپ اور پومپیو دونوں اس سلسلے میں کوئی ٹھوس شہادت پیش کرنے میں اب تک ناکام رہے ہیں۔ وزیر خارجہ پومپیو نے امریکی کانگریس کے آٹھ چنیدہ اراکین کے ٹولہ کے سامنے جو خفیہ انٹیلی جنس کی شہادتیں پیش کی ہیں ان کے بارے میں خود کانگریس کے اراکین کا کہنا ہے کہ انہیں ان کی معتبری پر یقین نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اور پومپیو کی طرف سے انٹیلی جنس ایجنسیوں کی اطلاعات کا حوالہ دیا جارہا ہے۔ اور ماضی میں صدام حسین کے جوہری اسلحے کے بارے میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جو اطلاعات تھیں وہ کس قدر معتبر تھیں ان کی حقیقت سب پر واضح ہو چکی ہے۔
ٹرمپ نے جنرل سلیمانی کے منصوبہ کے بارے میں جو جواز پیش کیا تھا اب خود ان کی کابینہ کے وزیر ان کی معتبری کے بارے میں شکوک ظاہر کر رہے ہیں، صد ٹرمپ نے جنرل سلیمانی کی ہلاکت کا یہ جواز پیش کیا تھا کہ ایرانی منصوبہ چار امریکی سفارت خانوں کو نشانہ بنانے کا تھا۔ لیکن امریکی وزیر دفاع مائیک ایسپر کا کہنا ہے کہ انہوں نے چار امریکی سفارت خانوں پر حملہ کے خطرے کے بارے میں شہادت نہیں دیکھی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ پومپیو نے بھی وثوق سے اس کی تصدیق نہیں کی ہے کہ ایران کا منصوبہ چار امریکی سفارت خانوں کو نشانہ بنانے کا تھا۔ اس بارے میں بھی ابہام ہے کہ ایرانی جنرل سلیمانی کس مقصد کے لیے بغداد آرہے تھے۔ عراق کے وزیر اعظم المحدی نے کہا ہے کہ جنرل سلیمانی، ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے بارے میں سفارتی کوششوں کے لیے بغداد آرہے تھے۔ لیکن امریکیوں کا کہنا ہے کہ بات صحیح نہیں۔ ظاہر ہے امریکی یہ کیسے قبولیں گے کہ جنرل سلیمانی امن مشن کے لیے بغداد آرہے تھے۔