بنگلادیش کرکٹ ٹیم کا انکار

162

بنگلادیش کرکٹ ٹیم نے پاکستان میں ٹیسٹ سیریز کھیلنے سے انکار کردیا ہے اور بنگلادیشی کرکٹ بورڈ کے صدر نجم الحسن المعروف نظم الحسن نے اس امر کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت کی ایڈوائس پر ہم صرف ٹی ٹوئنٹی کھیل سکتے ہیں اور صرف ایک ہفتہ رکیں گے۔ بنگلادیش بورڈ کے صدر کا اعلان اس بات کا واضح پیغام ہے کہ بنگلادیش کرکٹ ٹیم کے دورے کو بھی حسینہ واجد حکومت سیاست کے لیے استعمال کررہی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ دبئی میں ان سے ملاقات بھی کریں گے۔ لیکن اس کا کیا فائدہ ہوگا جب نجم الحسن نے بتا ہی دیا ہے کہ حکومت کی ہدایت پر کرکٹ بورڈ پاکستان میں ٹیسٹ نہیں کھیل رہا ہے تو پھر ان سے ملاقات کے بجائے بنگلادیشی حکومت سے رابطہ کیا جائے اور ان سے سوال کیا جائے کہ وہ کھیل کو سیاست میں کیوں استعمال کررہی ہے۔ پاکستانی حکومت کو بنگلادیش کی حکومت سے بھی سوالات کرنے چاہییں بلکہ پاکستانی کرکٹ ٹیم اور بنگلادیشی ٹیم کے درمیان میچوں سے تو پاکستان کو انکار کردینا چاہیے۔ اگر بنگلادیش پاکستان سے محبت کے الزام میں اپنے مستند شہریوں کو موت کی سزائیں دے رہا ہے تو پاکستان اس پر سوال کرنے کا حق رکھتا ہے بلکہ یہ پاکستانی حکومت کا فرض بھی ہے۔ اگر بنگلادیشی حکومت کرکٹ ٹیم کو پاکستان میںکھیلنے سے منع کررہی ہے تو صرف ٹی ٹوئنٹی تو کرکٹ نہیں ہے اس سے بہتر ہے ایسی ٹیم نہ آئے۔ پاکستان میں بھارتی ایجنسیوں نے سری لنکا کی ٹیم پر حملہ کرایا تھا لیکن وہ ٹیم تو پاکستان بھی آئی اور ٹیسٹ بھی کھیل کر گئی۔ بنگلادیش ہو، بھارت ہو یا کوئی اور ملک یہ سب ایک ہی مفروضے کی بنیاد پر پاکستان آنے سے انکار کرتے ہیں کہ پاکستان میں امن وامان کی صورتِ حال درست نہیں اور کرکٹ ٹیم محفوظ نہیں۔ اس کو دشمن کی سازش سے زیادہ پاکستانی بورڈ اور حکومت کی ناکامی کہا جانا چاہیے۔ بھارت اور بنگلادیش میں جس قدر دھماکے اور قتل و غارت کے واقعات ہوتے ہیں تو ان ممالک میں غیر ملکی ٹیم محفوظ کیوں نہیں۔ امریکا میں تو آئے دن فائرنگ کے واقعات ہوتے ہیں۔ بنگلادیش میں طویل ترین ہڑتال ہے، بھارت میں ہندو مسلم سکھ سب احتجاج کررہے ہیں، کروڑوں مزدوروں نے گزشتہ ہفتے پورے بھارت میں مکمل ہڑتال کی تھی، پرتشدد واقعات پیش آئے تھے تو بھارت کھیل کے لیے محفوظ ملک کیونکر ہوسکتا ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ بنگلادیش کرکٹ ٹیم کی شکایت آئی سی سی میں کرے اور اپنے ملک کا کیس مضبوطی سے لڑے ورنہ انہیں منع کردیں کہ صرف ٹی ٹوئنٹی کھیلنے پاکستان آنے کی زحمت نہ کریں۔