عورت کے اختیارات

292

مولانامحمد اشرف علی قاسمی

عورت بے بس اور مجبور بھی نہیں ہے، اسلام نے اس کی عزتِ نفس کا پور ا خیال کیا ہے اور مختلف مواقع پر اپنے حق میں فیصلہ لینے کا اْسے پورا اختیار دیا ہے، ایک بالغ عورت خرید و فروخت کرنے، اپنے مال میں تصرف کرنے، اپنے مال سے صدقہ کرنے،ہدیہ دینے، اپنا نکاح کرنے یا کسی کو اپنے نکاح کا وکیل بنانے کا پور اختیار رکھتی ہے، ان سب چیزوں میں دوسرے شخص کا فیصلہ اس کی مرضی کے بغیر، اس پر نافذ نہیں ہوگا، خواہ فیصلہ کرنے والااس کا باپ ہو، بھائی ہو، شوہر ہو یا کوئی اور؛ اگرچہ نکاح کے باب میں مستحب، پسندیدہ اور حیا و صلہ رحمی کا تقاضا یہی ہے کہ عورت یہ معاملہ اپنے اولیا کے حوالے کردے؛ تاہم شرعاً اپنے نکاح کی مالک خود وہی ہے اور اس کی رضا و اجازت کے بغیر نکاح منعقد نہیں ہوگا۔
قرنِ اول میں اس اختیارکی کچھ عمدہ عملی مثالیں بھی ہمیں مل جاتی ہیں مثلاً: ام المومنین سیدہ ام سلمہؓ، پہلے ابو سلمہؓ کے نکاح میں تھیں، بیوہ ہوگئیں، عدت گذرنے کے بعد نبی اکرمؐ ان کے پاس تشریف لے گئے، ساتھ میں سیدنا عمرؓ بھی تھے۔ آپؐ نے انھیں نکاح کا پیغام دیا، آپ تصور کیجیے! یہ پیغامِ نکاح کائنات کی سب سے عظیم ہستی کی طرف سے تھا، جس کی خوشی ساری کامرانیوں کی کلید اور جس کے حکم کا انکار کسی صحابیؓ تو کیاکسی ادنیٰ مسلمان سے ممکن نہیں؛ پھر بھی ام سلمہؓ یہ کہتے ہوئے نکاح سے معذرت کرلیتی ہیں کہ:
’’آپ کا پیغامِ نکاح سر آنکھوں پر؛ تاہم میرے بچے زیادہ ہیں، میری عمر بھی اب نکاح کی نہیں رہی اور میرے اندر غیرت وحیا کا مادہ بہت زیادہ ہے، آپ کی زوجیت میں رہتے ہوئے اگر کبھی میری طرف سے آپ کو کوئی تکلیف پہنچ جائے تو یہ بات میرے لیے ناقابل ِتحمل ہوگی‘‘۔ (معجم طبرانی)
یہ سن کر آپؐ واپس تشریف لائے اور نہ ان پرکوئی دباؤ ڈالا اور نہ ہی کبیدہ خاطر ہوئے؛ ہاں! بعد میں عمرؓ کی کوشش اور نبی اکرمؐ کے ہمت بندھانے سے آمادہ ہوگئیں اور نکاح ہوگیا۔
مدینہ میں مغیث نامی ایک غلام شخص تھے، بریرہ نام کی ایک خوب صورت باندی سے ان کا نکاح ہوا، مغیث شکل و صورت کے خوبصورت نہ تھے۔ سیدہ عائشہؓ نے بریرہؓ کو خرید کر آزاد کر دیا تو اسلامی قانون کی رو سے انھیں مغیث کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا اختیار ملا، وہ مغیث سے بیزار تھیں اور ان سے چھٹکارہ چاہتی تھیں۔ ادھر شدتِ محبت کی وجہ سے مغیث کسی طرح انھیں کھونا نہیں چاہتے تھے۔ اب منظر یہ تھا کہ مغیث بریرہ کے پیچھے چکر لگاتے، روتے اور آنسوؤں سے رخسار ترکرلیتے اور لوگوں سے اپنی اہلیہ کو سمجھانے کی التجا کرتے رہتے۔ بات بارگاہِ رسالت مآب تک پہنچی۔ آپؐ کو مغیث کے حال پر ترس آگیا، آپ نے بریرہ کو بلوایا، مغیث بھی اس امید پر پہنچ گئے شاید بات بن جائے گی، آپ نے بریرہ سے کہا: ’’اللہ سے ڈر اور اپنے اختیار کو مغیث کے حق میں استعمال کرلے، نہ کہ ان کے خلاف؛ کیوں کہ یہ تیرے شوہر ہیں اور ان سے تیری اولاد بھی ہے‘‘۔
سیدہ بریرہؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ آپ کا حکم ہے یا سفارش اور مشورہ؟ آپ نے فرمایا: حکم نہیں، سفارش سمجھو۔ بریرہؓ نے فرمایا: پھر تو مجھے ان کی ضرورت نہیں؛ چناں چہ ان سے جدا ہوگئیں۔ (ابوداؤد،ترمذی،نسائی ابن ماجہ وغیرہ)
اللہ تعالی زوجین کو اپنے اوامر پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین!