صنعتکاربرادری نے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز مسترد کردیے،فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ

353
نیپرا کا فیصلہ صنعتوں کو تباہ کرکے حکومت کو ناکام بنانے کی سازش ہے، سلیمان چاؤلہ
بجلی کے نادہندہ اداروں کا بوجھ صنعتوں پر ڈالناسراسر ناانصافی ہے،

سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے صدر محمد سلیمان چاؤلہ نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا)کے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز وصولی کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے فوری طور پر فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور وزیراعظم عمران خان سے درخواست کی ہے کہ کے الیکٹرک کو3سال کے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز وصول کرنے کی اجازت کو منسوخ کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔

سلیمان چاؤلہ نے ایک بیان میں کہاکہ نیپرا کی جانب سے کے الیکٹرک کو جولائی 2016سے جون2019تک 3سال کے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز وصول کرنے کی اجازت دینا سمجھ سے بالاتر ہے بلکہ یہ اقدام صنعتوں کو تباہ کرکے موجودہ حکومت کو ناکام بنانے کی سازش لگتا ہے کیونکہ وزیراعظم عمران خان نے متعدد بار اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ملک میں کاروباری وصنعتی سرگرمیوں کا فروغ چاہتے ہیں

ملکی برآمدات میں نمایاں اضافے کے لیے کاروبار کرنے کو آسان بناتے ہوئے صنعتکاروں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے خواہش مند ہیں۔وزیراعظم کے خیالات کے برعکس ملکی اداروں کے صنعت دشمن اقدامات یقینی طور پر غور طلب ہیں کیونکہ اس قسم کے اقدامات سے تاجربرادری میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان صنعتی سرگرمیوں میں رکاوٹوں کو دور کرنے کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے تاجروصنعتکاربرادری میں پائی جانے والی بے چینی کو دور کریں۔

صدر سائٹ ایسوسی ایشن نے کہاکہ یہ سراسر ناانصافی ہے کہ کے الیکٹرک کی اپنی مالی مشکلات کو دور کرنے کے لیے صارفین پر بلاوجہ بوجھ لاد دیا جائے بلکہ ہونا یہ چاہیے کہ کے الیکٹرک کے نادہندہ سرکاری اداروں پر واجب الادا بجلی کے بلوں کی فوری ادائیگی کے احکامات جاری کیے جاتے

عوامی اور ملکی مفاد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ناہندہ اداروں کے بقایات کی وصولی کی بجائے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کی مد میں کے الیکٹرک کو کراچی کے صارفین سے 18ارب روپے وصول کرنے کا متنازع فیصلہ کرلیا گیا جسے تاجربرادری ہر گز قبول نہیں کرے گی اور کراچی سے اسلام آباد میں ہر مضبوط فورم پر اس کے خلاف آواز بلند کرے گی۔

انہوں نے وزیراعظم عمران خان سے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کے نیپرا کے فیصلے کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ ملک کو اقتصادی طور پر مستحکم کرنے کے لیے کاروبار وصنعت کو مستحکم کرنا ضروری ہے اور اگر کاروبار وصنعت کو جان بوجھ کر تباہ کرنے کے اقدامات اسی طرح جاری رہے تو ملکی معیشت کو شدید بحرانوں کا سامنا کرنا پڑے گا جبکہ برآمدات بھی رکاوٹ کا شکار ہوجائے گی۔