پنوعاقل میں بجلی کا کام کرنے والا مزدور کرنٹ لگنے سے چل بسا

84

سکھر( نمائندہ جسارت) پنوعاقل میں پرائیویٹ بجلی کا کام کرنے والا فرد گیارہ ہزار وولٹیج کی تاروں سے کرنٹ لگنے سے جاں بحق، نعش گھر پہنچنے پر کہرام، چیف ایگزیکٹو آفیسر سیپکو کے واضح احکامات کے کوئی بھی پرائیویٹ شخص بجلی کے کھمبوں پر چڑھ کر کام نہیں کرے گا پنوعاقل میں سیپکو کے اہلکاروں نے گیارہ ہزار وولٹیج کی لائن میں پیدا ہونے والی خرابی دور کرنے کے لیے خود بجلی کے کھمبے پر چڑھ کر درست کرنے کے بجائے علاقے میں بجلی کا پرائیویٹ کام کرنے والے شخص کو بجلی کے کھمبے پر چڑھا دیا مذکورہ شخص بجلی کے کھمبے پر کام کررہا تھا کہ اچانک کرنٹ لگنے کے باعث وہ گر پڑا اور فوت ہوگیا متوفی کی شناخت یوسف ملک کے نام سے کی گئی ہے جس کی نعش فوری طور پر پنو عاقل اسپتال لائی گئی جہاں سے نعش پوسٹ مارٹم کے بعد ورثاء￿ کے حوالے کردی گئی ہے واضح رہے کہ نہ صرف پنوعاقل بلکہ سکھر اور روہڑی میں بھی سیپکو کی جانب سے بجلی کی لائنوں میں پیدا ہونے والی خرابی دور کرنے کے لیے پرائیویٹ لوگوں کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں اور تربیت یافتہ سیپکو کا عملہ گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کرنے یا دفاتر میں حاضری بھروانے تک محدود ہے۔