یہ تھے غفور صاحب

100

سعود ساحر
محترم پروفیسر غفور احمد کو ہم سے جدا ہوئے 7برس بیت گئے۔ یہ کوئی ایسی مدت نہیں جو ذہنوں میں محفوظ اپنے بزرگوں کی مشفق ومہربان شخصیتوں کی یادوں کو دھندلا کرسکے۔ میں اور میرے طرح پروفیسر غفور احمد کے لاکھوں چاہنے والوں کے دل کی صدا یہی ہے رفیّدو لے نہ ازل دل ما۔ بلکہ ایک بڑی سچائی اور حقیقت یہ ہے کہ دو صدیوں بعد جب بھی پاکستان کی پارلیمانی تاریخ پوری جزئیات کے ساتھ قومی اسمبلی کی لائبریری کی فائلوں میں مدفون صفحہ قرطاس پر لائی جائے گی تو 70ء کے بعد جن چند پارلیمنٹرینز کا نام ہر ہر سطر پر جگمگاتا نظر آئے گا ان میں پروفیسر غفور احمد کا نام پہلے نمبر پر ہوگا۔ ایک نظریاتی تنظیمی لحاظ سے منفرد اور چاروں طرف سے تنقید کا نشانہ بننے والی سیاسی جماعت کے پارلیمانی لیڈر کے طور پر محترم غفور احمد اپنی بات برملا کہنے والے وہ قادر الکلام انسان تھے کہ قومی اسمبلی میں پیش ہونے والے کسی مسودہ قانون، کسی اہم قومی مسئلے پر ہونے والی بحث میں حصہ لیتے تو اپنی جماعت کی پالیسی کے تحت حمایت کرتے یا مخالفانہ نقطہ نظر پیش کرتے تو ان کے بدترین سیاسی مخالف بھی ان کی بات پوری توجہ سے سنتے، پارلیمانی ضابطہ کار اخلاقیات کے مسلمہ اصولوں کے تحت بات کرتے کہ ان کی بات تسلیم کی جائے یا اکثریت کے زعم میں نہ ماننے کا وتیرہ اختیار کیا جائے ان کی شائستہ کلامی اور انداز بیان کی داد ضرور دی جاتی۔ دلوں کو فتح کرنے کا یہی اسلوب تھا جو پروفیسر غفور احمد کو پارلیمنٹ کے دونوں گوشوں میں ممتاز کرتا اور لائق تعظیم بناتا تھا۔ وہ لگی لپٹی رکھنے کے عادی نہ تھے۔ ابہام سے پاک اپنی جماعت کی پالیسی کے مطابق دو ٹوک انداز میں اپنا موقف بیان کرتے مگر اس احتیاط کے ساتھ کہ مخالف فریق کی دل آزاری بھی نہ ہو اور اسمبلی میں پیش معاملے کی قباحتیں اس کے مضمرات اور نتائج بھی واضح ہو جائیں حزب اختلاف کے دوسرے محترم ارکان بھی بات تو وہی کرتے مگر جوش خطابت میں گاہے احتیاط کا دامن تھامنا دشوار ہو جاتا تو ایوان کا ماحول تلخ بھی ہوتا اور دو طرفہ جملہ بازی تکرار کا باعث بھی ہوتی۔
مجھے نہیں یاد کہ پروفیسر غفور احمد کی تقریر کے دوران کسی نقطہ اعتراض، وفاقی وزراء کی تقریر کے دوران پوائنٹ آف آرڈر، وقفہ سوالات، کسی تحریک التوا پر محترم غفور احمد کی منہ سے کوئی ایسا کلمہ نکلا ہو جس کے سبب ماحول خراب ہوا ہو۔ ایک اور اہم بات یہ کہ حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے ارکان ذاتی حوالے سے آئے دن تحریک استحقاق ایوان میں پیش کرتے جسے اسپیکر عموماً استحقاق کمیٹی کے سپرد کرتے۔ ارکان کے اطمینان کی خاطر کمیٹی رسمی کارروائی بھی کرتی یا متعلقہ فریق کی وضاحت پر تحریک نمٹا دی جاتی۔ مجھے نہیں یاد کہ 70ء کی اسمبلی کی پوری مدت کے دوران پروفیسر غفور احمد کی کوئی تحریک استحقاق ایوان میں آئی ہو! یا وہ رکن پارلیمنٹ کے طور پر اس الجھن میں پڑے ہوں! آدھے ملک کے لیے عبوری آئین ہو جو سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے طور پر بھٹو مرحوم نے پیش کیا ہو یا 73ء کا دستور ہو اس کی تیاری اور اس میں غیر جمہوری دفعات شامل کرنے کا معاملہ ہو اسمبلی کے ریکارڈ میں پروفیسر غفور احمد کی کارکردگی کا بھی خاصہ دخل ہو! بعض امور کے بارے میں حزب اختلاف کا موقف خاصہ سخت تھا اور یہ خدشہ موجود تھا کہ بھٹو مرحوم کی انا اور حزب اختلاف کا موقف باہم تصادم کی راہ اختیار نہ کرلیں خصوصاً وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کی راہ میں جو آئینی رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں وہ ہر لحاظ سے جمہوری عمل سے متصادم تھیں۔ مثلاً وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کے لیے لازم تھا کہ تحریک میں متبادل کا نام لکھا جائے اور اگر تحریک ناکام ہو جائے تو تحریک پر دستخط کرنے والے تمام ارکان اسمبلی، اسمبلی کی رکنیت سے فارغ ہو جائیں گے۔ بہت سے بزرگ ان غیر جمہوری شرائط کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں تھے مگر ملک کو سرزمین بے آئین رکھنا بھی گوارہ نہ تھا اور آئین کی متفقہ منظوری کو بھی لازم سمجھا جارہا تھا تاکہ دنیا اور خود زخم خوردہ قوم کو یہ پیغام دیا جاسکے کہ ایک دوسرے سے برسرپیکار رہ کر عافیت کی زندگی میسر نہیں آسکتی۔ سو پروفیسر غفور اور بعض دوسرے بزرگوں نے اس مکروہ عمل کو جمہوری زندگی کی خاطر قبول کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ مرحوم بھٹو مخالف تو کیا اپنے حامیوں اور فدائیوں کو بھی خاطر میں لانے والے آدمی نہیں تھے مگر پروفیسر غفور کے ساتھ احترام کا برتائو کرتے۔
پروفیسر غفور احمد کی سیاسی سرگرمیاں پارلیمنٹ تک محدود نہ تھیں۔ وہ صوبوں، شہروں کی سیاست کے بھی شناور تھے۔ وہ جلسوں میں چیخنے چنگھاڑنے کے عادی تھے، نہ وعدوں اور تسلیوں سے عوام کا دل بہلانا انہیں آتا تھا۔ وہ جب اور جہاں عوامی جلسوں میں آتے جمہوریت کی کھٹن منزل کو پانے کے لیے مسلسل جدوجہد کی تلقین کرتے اسلام کی برکتوں کے حصول کے لیے فرد اور معاشرے کو خدا اور رسولؐ کی ہدایت کے مطابق ڈھالنے کی بات کرتے۔ وہ اپنے ساتھیوں، ملنے والوں، جماعت اسلامی کے کارکنوں دوسری جماعتوں کے حامیوں سے یکساں محبت کا سلوک کرتے اختلاف کو زحمت بنانے سے گریز کرتے اور اس کے ذریعہ اتفاق کی منزل تک پہنچنے کی رحمت کے حصول میں مصروف رہتے۔ ان کے پاس کسی ضرورت کے تحت آنے والا اس سبب سے مایوس نہ لوٹتا کہ اس کا تعلق جماعت اسلامی سے نہیں ہے البتہ بہت سے وابستگان ضرور مایوس ہوتے جن کے کام قانون کے دائرے سے نکلتے نظر آتے ایم این اے ہوسٹل میں دوہی کمرے ایسے تھے جہاں خبروں کے حصول میں سرگرداں اخباری نمائندے راولپنڈی اپنے دفاتر پہنچنے سے قبل چند لمحے آسودگی میں گزارتے۔ ٹھنڈے پانی اور گرم چائے سے اپنی تواضع خود کرتے ایک مولانا ظفر احمد انصاری کی قیام گاہ اور دوسرے پروفیسر غفور احمد کا کمرہ جو 90 نمبر کی شناخت رکھتا تھا۔
میں راولپنڈی کے جڑواں شہر سے روانگی سے قبل دونوں بزرگوں کو باقاعدگی سے فون کرتا۔ مولانا ظفر احمد انصاری سلام دعا کے بعد دو فرمائشیں ضرور کرتے ’’میاں ممکن ہو تو پان اور امرود لیتے آنا! اور کمرے میں داخل ہونے کے بعد ان دونوں چیزوں پر خرچ ہونے والی رقم لازماً ہاتھ میں پکڑاتے اور پروفیسر غفور احمد کہیں جارہے ہوتے تو واپسی کا وقت بتاتے یا دو لفظی فرمان جاری کرتے کہاں ہو بس آجائو! یا جلد پہنچو بہت سے اخبار نویس موجود ہیں کچھ بات کرنی ہے۔ میں کسی روزنامہ سے تو منسلک نہیں تھا البتہ محترم مجیب الرحمان شامی کے ہفت روزہ کا نمائندہ تھا جس کی خوبی یہ تھی کہ حزب اختلاف کے کسی بھی رہنما کے منہ سے نکلنے والا حرف حرف شائع کرنا بس اسی ہفتہ روزہ کا اعزاز تھا! پروفیسر غفور احمد کی محفل سے ایسی خبریں بھی دستیاب ہوجاتیں جنہیں شائع کرنے کی جرأت کسی روزنامے‘ ہفتہ روزے کو نہ تھی۔
پروفیسر غفور احمد کی ایک انفرادیت یہ بھی تھی کہ ان کی مسکراہٹ اور شفقانہ طرز گفتگو کے اسیر ہم ہی نہ تھے بلکہ وہ تمام اخبار نویس جو پیپلز پارٹی کے جیالوں سے بڑھ کر جذبوں سے بھرپور تھے وہ بھی جماعت اسلامی اور اس پر تنقید کرتے کرتے پروفیسر غفور احمد کے ذکر پر آتے تو لہجہ مودب ہوجاتا حالانکہ پروفیسر غفور احمد لگی لپٹی رکھے بغیر ہر معاملے میں جرأت سے جماعت اسلامی کا مؤقف بیان کرتے بس یہ تھا کہ وہ جماعت کے مؤقف کو پتھروں میں نہ ڈھالتے تھے۔ نرم نرم گداز لہجے میں پھولوں کی بارش کرتے تھے۔ اپنے وقت کے ایک ممتاز اخبار نویس اشرف ہاشمی مرحوم جو بائیں بازو سے اپنے تعلق کو فخریہ بیان کرتے اور بعض اوقات جیالوں سے بڑھ کر بھٹو مرحوم کے فدائی بنے نظر آتے جن کی ساس محترمہ مسز خالد رکن قومی اسمبلی بھی تھیں کسی بھی محفل میں پروفیسر غفور کا ذکر آتا تو کہتے ’’ان کا نقطہ نظر کچھ بھی ہو وہ جو مؤقف بھی رکھتے ہوں وضعداری کا دامن تھامے رہتے ہیں۔‘‘ یہ 77ء میں پی این اے کی تحریک کا زمانہ تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو اور پی این اے کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوچکا تھا۔ مذاکرات کرنے والوں میں ایک طرف بھٹو مرحوم‘ حفیظ پیرزادہ اور کوثر نیازی تھے اور پی این اے کی نمائندگی مفتی محمود‘ پروفیسر غفور احمد اور نوابزادہ نصر اﷲ خان کررہے تھے عجیب افراتفری کا زمانہ تھا دونوں طرف جذبات میں طغیانی تھی۔ قائدین کے ذہنوں کی حالت کا اندازہ لگانا دشوار تھا۔ اخبار نویس رات گئے تک کسی خبر کے انتظار میں پریس کلب آباد رکھتے۔ ایسے میں ایک دن اطلاع ملی کہ پروفیسر غفور احمد پریس کلب آرہے ہیں ادھر ادھر بکھرے ہوئے اخبار نویس لان میں جمع ہوگئے۔ ایک کرسی بھی لاکر رکھ دی گئی۔ پروفیسر غفور احمد چہرے پر تھکن اور ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائے تشریف لائے تو اکثریت بائیں بازو کے اخبار نویسوں کی تھی۔ جو یہ دیکھ کر نہ صرف حیران ہوئی بلکہ لوگ کھڑے ہوگئے۔ اشرف ہاشمی مرحوم پروفیسر غفور کی طرف بڑھے اور ان کے اس جملے نے کہ آپ یہ کیا کررہے ہیں؟ جو بات عیاں کی وہ یہ تھی کہ پروفیسر غفور احمد بڑے اضطراب سے سگریٹ انگلیوں میں گھما رہے تھے۔ پروفیسر غفور احمد نے ہاشمی صاحب کو بڑی شفقت سے بیٹھ جانے کے لیے کہا اور فرمایا ’’دوستو دو دن سے پریشانی اور الجھنیں ذہن پر سوار ہیں یہ سگریٹ ہاتھ میں ہے کوشش اور شدید خواہش کے باوجود سلگانے کی ہمت نہیں ہورہی۔ دعا کریں کہ یہ مشکل مرحلہ آسان ہوجائے۔‘‘
بات ختم کر کے پروفیسر غفور نے سگریٹ دور اچھال دی۔ پھر کہا ’’ہاشمی مطمئن رہو اﷲ تعالیٰ مجھے مکروہ اور ناپسندیدہ دھویں سے بچالے گا۔‘‘
پروفیسر غفور احمد کی صحبت صالح میں گزرے ہوئے مہ وسال کی ہزاروں یادیں ہیں ان کے ساتھ گزرے ہوئے لمحے، ان کی باتیں، ان کا سیاسی اور ذاتی کردار یاد آتا ہے تو ذہن کو معطر کرتا ہے۔ دوچار صفحے ایک دو مضامین میں بیان کرنا دشوار ہے اور کراچی کی سیاست میں ان کا کردار اپنی جگہ ایک ضخیم کتاب کا موضوع ہے۔ کوئی سیاسیات کا طالب علم پی ایچ ڈی کرنا چاہے تو اس حوالے سے وطن کی سیاست کے بہت سے گوشے جو عوام کی نظروں سے اوجھل ہیں آنے والی نسلوں کی رہنمائی کرسکتے ہیں۔ محنت کے عادی جستجو رکھنے والے صحافی پارلیمنٹ کی فائلوں میں دفن قانون سازی اور 73ء کے متفقہ آئین میں سول اور فوجی حکمرانوں کی خواہشات پر ہونے والی ترامیم اور تنسیخات کو منصہ شہود پر لا سکتا ہے۔ عمر کے اس حصے میں اس مشکل سفر پر قدم رکھنا میرے لیے تو ممکن نہیں۔ البتہ سفر وحضر میں جو لمحات ان کے ساتھ گزرے وہ نذر قارئین ہیں۔
یہ 75ء کی بات ہے بھٹو مرحوم کی حکومت روز بروز غیر جمہوری انداز اپناتی چلی جا رہی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم جمہوریت میں دائمی فتح اور دائمی شکست کا نا قابل تصور نظریہ پھیلا رہے تھے۔ اپنے خلاف سیاستدانوں بلکہ اپنے اتحادیوں کو غیر مہذب عرفیتوں سے نواز رہے تھے ملک میں ماورائے عدالت سزائے موت کا رواج تھا حزب اختلاف کے جلسوں پر فائرنگ معمول بن گیا تھا۔ ارکان پارلیمنٹ قتل کیے جا رہے تھے۔ اخبارات پر قدغنیں لگائی جا رہی تھیں۔ معترض اور ناقد اخبار نویسوں کو حوالہ زنداں کیا جا رہا تھا ضمنی انتخابات مذاق بن کر رہ گئے تھے اور بقول شخصے بھٹو صاحب مرحوم خواہش رکھتے تھے کہ صبح کا سورج بھی ان کی مٹھی سے برآمد ہو۔
ایسے میں جنوبی پنجاب کا دورہ کیا گیا۔
اس دورے کے دوران 70ء کے انتخابات میں دھوکا دہی کی کئی وارداتوں پتا چلا۔ ایک خاصی بڑی آبادی کے قصبے میں حاضری بھی خاصی تھی اور حاضرین میں جوش خروش تھا پروفیسر غفور احمد کے خطاب کے دوران لگنے والے نعروں سے پتا چلتا تھا کہ وقت کروٹ بدل رہا ہے مگر پروفیسر صاحب کے خطاب سے پہلے ایک مقامی مقرر نے یہ بتایا کہ انتخاب کے دوران آسمانوں سے آتی صدائوں نے پوری آباد کو مجبور کردیا کہ ووٹ پیپلز پارٹی کو دیا جائے حالانکہ کامیاب امیدوار نے یہاں آنے کی زحمت تک نہ کی تھی مگر فجر کی نماز کے بعد اور عشاء کی نماز سے قبل سارے قصبے کی فضا جن نعروں سے گونجتی ان میں ایک ہی تکرار ہوتی ’’ووٹ پیپلز پارٹی کو دینا‘‘ ہم نے آسمانی فیصلہ سمجھ کر اس پر عمل کیا۔ مگر بہت بعد میں بھید کھلا کہ بلند و بالا درختوں پر سینکڑوں لائوڈ اسپیکر نصب کیے گئے تھے جو مقامی مولانا کے حجرے میں موجود مائیک سے منسلک تھے اور یہ آسمانی پیغام حضرت صاحب کی آواز میں نشر ہوتا تھا۔ بھید کھلا تو حضرت صاحب کو دیس نکالا دے دیا گیا۔ اس دورے میں نہ کوئی گارڈ ساتھ نہ محافظوں کا مسلح دستہ‘ دو اخبار نویس ایک نظموں سے حاضرین کو گرمانے والا نوجوان‘ دو جماعت کے نوجوان کا رکن اور محترم پروفیسر غفور احمد انتظامیہ دو اخبار نویسوں کے ساتھ ہونے سے تو لاعلم رہی البتہ نظم سنانے والے کی گرفتاری کا فیصلہ ہوا ویگن روکی گئی۔ پولیس کے دستے نے گھیرائو کیا پروفیسر صاحب ہدایت دینے کے بعد ویگن سے تنہا اترے کہ ویگن سے کوئی دوسرا نہ اترے، پولیس کا کہنا تھا کہ اس نوجوان کا بلانام وارنٹ ہے اور وہ قانونی احکامات پر عمل کرے گی۔ پروفیسر غفور احمد نے خلاف عادت بلند آواز میں فرمایا آپ قانون کی بات کرتے ہیں میں قانون ساز ہوں۔ خاصی تکرار کے بعد سفر کا آغاز ہوا۔ میدانی علاقے کے سفر کا اپنا مزا ہے حد نگاہ تک تیر کی مانند سیدھی سڑک‘ کسی بل یا موڑ کا نام نہیں۔ برسات کے موسم میں کہیں بارش رہنمائی کررہی ہے شہریں داخل ہوں تو خدا حافظ کہتی ہوئی نامعلوم منزل کو واپس جاتی دکھائی دیتی ہے اگلے مرحلے میں آپ کے تعاقب میں دور تک پیچھا کرتی نظر آتی ہے۔ پاکپتن پہنچے تو جلسہ شروع ہوچکا تھا نعرے لگ رہے تھے منور ساتھ چھوڑ کر اسٹیج کی طرف لپکے، میں نے ادب سے عرض کیا کہ جلسے سے پہلے خواجہؒ کے مزار پر حاضری اور دعا لازم ہے۔ گمان یہ تھا کہ پروفیسر غفور احمد اس سے اتفاق نہ کریں مگر پروفیسر غفور احمد فوراً آمادہ ہوگئے ہم نے پھول چڑھائے وطن کی عزت کی بحالی کی دعا کی۔ اس کے بعد یہ قافلہ رینالہ خورد پہنچا۔ جہاں جلسے کی حاضری غیر معمولی تھی پروفیسر غفور احمد خطاب کے لیے کھڑے ہوئے تو ایک بھاری بھرکم باریش ڈھلتی عمر کے حضرت صاحب جن کی آواز کی عمر ان کے جثے سے کہیں کم تھی، کھڑے ہوگئے برور خواجہؒ کے مزار پر حاضری کے حوالے سے طویل گفتگو کا ارادہ کیا اعتراض مسلک کے حوالے سے تھا پروفیسر غفور احمد نے فرمایا سوال کریں تقریر میں کرونگا! سوال مختصر تھا۔ جواب ذرا طویل! پروفیسر صاحب نے کہا کہ جی ہاں میں مسلکی اعتبار سے بریلوی ہوں اور وسیلے سے دعا کا قائل ہوں اگر دستور جماعت اسلامی میں کسی مخصوص مسلک کا پابند ہونا لازم ہے تو سارے منصب آپ کو مبارک! ردعمل میں حاضرین کے نعرے پروفیسر صاحب کی تائید کررہے تھے خواجہؒ کے دربار کی حاضری کی اطلاع بھی ہفت روز زندگی کے ذریعہ پہنچی تھی۔ اﷲ تعالیٰ پروفیسر غفور احمد کی قبر نور سے بھر دے، سرکار دو عالمؐ کے صدقے انسان کی حیثیت میں ان کی کوتاہوں کو معاف فرمائے امین۔ منصب عہدوں کے طلبگار اتنے سچ کے خوگر نہیں ہوتے ۔
ایک اور بات کہ سارے سفر کے دوران جب تک ان ساتھ سفر کرنے والے ویگن میں سوار نہ ہوجاتے پروفیسر صاحب سوار نہ ہوتے۔ ایک مقام پر جامع مسجد میں اجتماع کا اہتمام تھا پروفیسر صاحب ہجوم میں گھرے ہوئے ایک ایک فرد سے ہاتھ ملارہے تھے۔ مناسب جگہ کی تلاش میں عجلت میں اپنے جوتے اٹھائے بغیر مسجد میں داخل ہوا اور پروفیسر صاحب اسٹیج کی طرف یوں بڑھتے نظر آئے کہ ایک ہاتھ میں اپنے جوتے اور دوسرے میں جوتوں کا دوسرا جوڑا جس کارکن نے بھی ہاتھ بڑھایا پروفیسر صاحب نے اپنے ہاتھوں کا فاصلہ بڑھالیا یہ جان کر ندامت سے چہرہ عرق آلود ہوگیا کہ یہ جوتے میرے تھے۔ قریب سے گزرتے ہوئے میرے حوالے کیے۔ سفر کے اگلے مرحلے میں، میں نے جتنی مرتبہ اس بے ادبی کی معافی چاہی ایک ہی جواب پایا گم ہوجاتے تو تمہیں تکلیف ہوتی بس اب چپ کرو۔ اسی دن سے میرا یہ خیال اتنا پختہ ہوگیا کہ یہ شخص روائتی سیاستدان نہیں ہر لحاظ سے ادب و احترام کا مستحق ہے یہ شخص نہ زعم تقویٰ میں مبتلا ہے نہ کمتری اور برتری کا کوئی تصور اس کے ذہن میں ہے انسان کو انسان سمجھتا ہے۔ کئی مرتبہ ایسے لمحے آئے جب کسی بڑے کے مصنوعی دبدبے اور طنطنے کو اس عاجز نے تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ ہمارے معاشرے میں یہی رواج ہے سکوں سے بھری تجوریوں‘ پیرس سے سلے ہوئے لباس اور ہٹو بچو کی صدائوں میں سفر کرنے والے بڑے سمجھے جاتے ہیں اور پیدل چلنے کے خوگر‘ لباس میں سلوٹیں لیے پھرنے والوں کی بے توقیری معاشرتی آداب میں شمار ہوتی ہے۔ سو کئی بزعم خود بڑے برابری کا جواب پانے کی شکایت لیکر پروفیسر صاحب تک جاتے اور میں سلیقے سے گفتگو کرنے کا مشورہ تھوڑی سی غصہ بھری آواز میں سر جھکاکر سنتا!
مارشل لا کے نفاذ کے بعد پی این اے کی ساری قیادت کے طرز عمل اور پروفیسر غفور کے مارشل لا کے بارے میں معقولیت کے رویہ کا ذکر کیے بغیر بات ادھوری رہے گی۔
پی این اے کی قیادت نے تو اتر کے ساتھ جنرل ضیاء الحق سے ملاقاتیں شروع کردیں اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ ایک ملاقات میں پی این اے کے (باقی صفحہ 07بقیہ 01)
ستارے آٹھ رہ گئے۔ ہوا یوں کہ نو ستارے ملاقات کی خاطر مارشل لا ایڈمنسٹر کے دفتر پہنچے تو ایک ستارے خاکسار تحریک کے جناب اشرف کو ملاقات کے کمرے میں داخل ہونے سے روک دیا گیا اور کسی نے مڑ کر نہ دیکھا کہ رسوائی کا آغاز ہوچکا تھا۔ اصغر خان پی این اے کو داغ لغارقت دے چکے تھے اور وزارت عظمیٰ کی طلب میں تھے شاہ احمد نورانی جنرل ضیاء الحق کو ناپسند تھے۔ جنرل ضیاء الحق اس کوشش میں تھے کہ چھ ستارے ان کی کابینہ میں شامل ہوجائیں۔ چوہدری ظہور الٰہی کے ویسٹریج والے گھر میں مسلسل چھ ستارے سر جوڑے بیٹھے تھے اور جنرل کے اس حکم کو ماننے نہ مانے پر غور کررہے تھے۔ محترم سردار شیر باز مزاری اس فیصلے سے الگ رہنے کا فیصلہ کر کے اس کی اطلاع ساتھیوں کو دے چکے تھے۔ مسلم لیگ کسی اجتماعی فیصلہ کا انتظار کیے بغیر کابینہ میں شامل ہوچکی تھی معاملہ جماعت اسلامی‘ جمعیت علماء اسلام اور نوابزادہ نصر اﷲ کی پی ڈی پی پر اٹکا ہوا تھا۔ ہر اجلاس کے بعد بات نئے اجلاس پر ٹل رہی تھی۔ جسارت کی اشاعت کا دوبارہ آغاز ہوچکا تھا مدیر جسارت محمد صلاح الدین کا تقاضہ تھا کہ حقائق پر مبنی خبر بھیجی جائے ایک اجلاس شروع ہونے سے قبل میں اسی خاصی طویل عریض میز کے نیچے دراز ہوگیا۔ ساری گفتگو سنی اور ایک دینی جماعت کے نائب صدر کا یہ جملہ بھی کہ اگر جلد فیصلہ نہ ہوا تو وہ بھی کابینہ میں شامل ہوجائے گی۔ خبر شائع ہوئی تو ہنگامہ ہوگیا کہ کون ذریعہ بنا؟ اگلے دن اس حرکت پر پکڑا گیا تو پروفیسر غفور صاحب کے حوالے ہوا، جھاڑ کھائی۔
جماعت اسلامی نے کابینہ میں شمولیت کے لیے تین نام دیے چوہدری رحمت الٰہی‘ محترم محمود اعظم فاروقی اور پروفیسر غفور احمد۔ پروفیسر خورشید احمد چوتھے نمبر پر تھے جن کے بارے میں جنرل ضیاء الحق کا کہنا تھا کہ یہ میرے کوٹے میں ہیں اس بات کے ایک سے زیادہ گواہ موجود ہیں کہ پروفیسر غفور احمد کے لیے یہ فیصلہ ایک ناگوار اقدام تھا اور یہ خبریں عام ہوئیں کہ مجلس شوریٰ کے اجلاس میں اسی موضوع پر بات کرتے ہوئے غفور صاحب جذبات سے اس قدر مغلوب ہوئے کہ بے ہوش ہوگئے اور اس کہانی کے راوی محترم سید منور حسن ہیں کہ جب ریفرنڈم میں حمایت کا فیصلہ ہوا تو پروفیسر غفور احمد نائب امارت سے استعفیٰ قاضی حسین احمد کے حوالے کر کے اجلاس سے چلے گئے۔ مگر جماعت کے اسی فیصلے پر خواہی ناخوا ہی عمل کیا اور کابینہ وزیر کی حیثیت سے حلف اٹھالیا۔ مگر کسی تنخواہ اور مراعات حاصل نہ کیں ایمبیسی روڈ پر ایک کمرے سارا وقت گزارا حالانکہ وزیر کی حیثیت سے اس وقت بھی وہ کسی پوش علاقے میں گھر حاصل کرسکتے تھے۔ مارشل کے حکم کے تحت سیمنٹ کی ساری ایجنسیاں منسوخ کردی گئی تھیں اور محترم غفور احمد کی وزارت کے کڑی جانچ پڑتال کے بعد مستحقین کو از سر نو پرمٹ جاری کرنے تھے۔ روزنامہ مساوات کا ایک غریب کارکن ایجنسی منسوخ ہونے پر پریشان بھی تھا اور مشکلات کا شکار بھی۔ میں نے محترم پروفیسر صاحب سے سفارش کی تو انہوں نے فرمایا اگلے ہفتے تک جانچ پڑتال مکمل ہوجائے گی اور دیانتداری سے کام کرنے والے کسی ڈیلر کو اس بات کی سزا میں نہیں دونگا کہ اس کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے اور کسی ایسے فرد کی ایجنسی بحال نہیں ہوگی جس کے معاملات خراب ہوں خواہ اس کا تعلق کسی جماعت ہو۔ فہرست جاری ہوجائے تو تم بتانا کہ بحال ہونے والوں میں تمہارے دوست کا نام ہے یا نہیں کسی کی نظر چوک گئی تمہارا دوست مستحق ہو تو پرمٹ لے کر خود اس کے گھر جائوں گا۔
یہ تھے ہمارے غفور صاحب