مقبوضہ کشمیرمیں جاری بلیک آؤٹ کو ختم کیا جائے، پرامیلا جے پال

645

نیویارک: امریکی کانگریس رکن پرامیلا جے پال نے مقبوضہ کشمیرمیں جاری بلیک آؤٹ ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی کانگریس رکن نے مودی سرکار کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں 144 بچوں سمیت 5 ہزار سے زائد کشمیری زیرحراست ہیں، تمام گرفتارافراد کو رہائی دی جائے اور انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

پرامیلا جے پال نے کہا کہ بھارتی اراکین پارلیمنٹ کو بھی مقبوضہ وادی میں جانے کی اجازت نہیں جبکہ بھارتی وزیرخارجہ کا مجھ سے ملنے سے انکار بھی بھارتی کمزوری کا عکاس ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ بھارتی وزیرخارجہ اس لیے نہیں ملے کیوں کہ میں نے ایوان میں مقبوضہ کشمیر پر قرارداد پیش کی۔

پرامیلا جے پال نے کہا کہ بدقسمتی سے اب مودی سرکارکی جانب سے شہریت کا نیا قانون متعارف کرایا گیا ہے،جس میں مسلمانوں کو تعصب کا شکار بنایا گیا ہے جو سیکولر پالیسیوں کی خلاف ورزی ہے۔

رکن کانگریس نے مزید کہا کہ بھارتی ریاست آسام کے 20لاکھ سے زائد عوام کو شہریت سے محروم کیے جانے کا خدشہ ہے جبکہ پورے بھارت میں اقلیتوں پرحملوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی خراب ہوگئی ہے۔

واضح رہے کہ مقنبوضہ کشمیر میں 140 روز سے زائد جاری کرفیو اور پابندیوں کے باعث مقبوضہ وادی میں نظام زندگی مفلوج ہے جبکہ تعلیمی ادارے، دکانیں، کاروباری مراکز بند ہیں اور سڑکوں پر ٹرانسپورٹ بھی غائب ہے، انٹرنیٹ، موبائل فون اور لینڈ لائن سروس بھی تاحال بند ہے۔