سنگین غداری کیس: پرویزمشرف کو سزائے موت کا حکم

322

اسلام آباد: سنگین غداری کیس میں سابق صدر پرویزمشرف کیخلاف کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے سابق جرنیل کو سزائے موت کا حکم سنا دیا۔

جسٹس شاہد کریم، جسٹس نذر اکبر اور جسٹس وقار احمد پرمشتمل خصوصی بینچ نے معاملے کی سماعت کی۔ فیصلہ 2-1 کے شرح سے دیا گیا تاہم تفصیلی فیصلہ 48 گھنٹے میں جاری کیا جائےگا۔قبل ازیں حکومتی وکیل علی ضیاء باجوا نے سنگین غداری کیس میں شوکت عزیز، عبدالحمید ڈوگر اور زاہد حامد کو ملزم بنانے کی تحریری استدعا کی جس کو مسترد کر دیا گیا تھا۔

حکومتی وکیل نے مؤقف اپنایا کہ مشرف کے سہولت کاروں اور ساتھیوں کو بھی ملزم بنانا چاہتے ہیں،تمام ملزمان کا ٹرائل ایک ساتھ ہونا ضروری ہے۔جس پر جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیئے کہ 3 افراد کو ملزم بنایا تو حکومت سابق کابینہ اور کور کمانڈوز کو بھی ملزم بنانے کی درخواست لے آئے گی۔ عدالت کی اجازت کے بغیر کوئی نئی درخواست نہیں آ سکتی۔

خصوصی عدالت نے ریمارکس دیئے کہ جو درخواست باضابطہ دائر ہی نہیں ہوئی اس پر دلائل نہیں سنیں گے، استغاثہ کو یہ بھی علم نہیں کہ عدالت میں درخواست کیسے دائر کی جاتی ہے۔

جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیئے کہ آج مقدمہ حتمی دلائل کیلئے مقرر تھا تو نئی درخواستیں آ گئیں، کیا حکومت مشرف کا ٹرائل تاخیر کا شکار کرنا چاہتی ہے؟ ساڑھے تین سال بعد ایسی درخواست آنے کا مطلب ہے کہ حکومت کی نیت ٹھیک نہیں۔

خصوصی عدالت کے جج نے حکومتی وکیل سے استفسار کیا کہ جنہیں ملزم بنانا چاہتے ہیں انکے خلاف کیا شواہد ہیں؟ تحقیقات اور شواہد کا مرحلہ اب گزر چکا ہے۔

خصوصی بینچ کے رکن نے حکومتی وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ نے مزید کسی کو ملزم بنانا ہے تو نیا مقدمہ دائر کر دیں، ہم آپ کی درخواست مسترد کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف نے 3 نومبر 2007 کو آئین پامال کیا تھاجس پر خصوصی عدالت قائم کرنےکا فیصلہ کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کا قیام  20 نومبر 2013 میں عمل میں لایا گیا تھا جبکہ 19 جون 2016 کو مفرور قرار دیا گیاتھا ۔