ٹنڈو محمد خان کی قدیم آبادی مسمارکرنا ظلم ہے، محمد حسین محنتی

167
ٹنڈو محمد خان: امیرجماعت اسلامی سندھ محمد حسین محنتی پریس کانفرنس کررہے ہیں

ٹنڈو محمد خان(نمائندہ جسارت)گنجان آباد شہروں خصوصاً ٹنڈو محمد خان اور ماتلی، جہاں یہ نہر شہر کے بیچوں بیچ گزرتی ہے وہاں 121 فٹ کی حد مقرر کرنے کا مطلب ہے کہ ان شہروں میں ہزاروں گھر، دکانیں، مساجد، اسکول اور مدارس وغیرہ یک لخت ڈھا دیے جائیں گے۔جب 25 سے 30 فٹ کی انکروچمنٹ ختم کرنے سے بھی اریگیشن حکام کی مطلوبہ ضرورت پوری ہو سکتی ہے تو اس طرح کا ایکشن ناقابل فہم ہے اور اس سے شدید سردی کے اس موسم میں خوفناک انسانی المیہ جنم لے گا،ہزاروں کی تعداد میں لوگ بے گھر اور بے روزگار ہوں گے اور ہزاروں بچے اسکول اور مدرسے کی سہولت سے محروم ہو جائیں گے،ان میں ایسی آبادیاں بھی ہیں جو قیام پاکستان کے وقت سے یہاں آباد ہیں اور ان کے پاس اپنے گھروں اور دکانوں کی قانونی دستاویزات ہیں۔ہزاروں افراد کے اچانک بے گھر اور بے روزگار ہونے کے امکان سے، پہلے سے انتشار اور بے چینی کے شکار معاشرے میں انارکی اور بغاوت کی کیفیت پیدا ہونے کا خدشہ ہے، جس سے ملک دشمن عناصر فائدہ اٹھائیں گے۔حکومت ہوش کے ناخن لے فوری طور پر اس معاملے میں مداخلت کرے اور درمیانی راہ نکالے جس سے محکمہ آب پاشی کے مسائل بھی حل ہو جائیں اور غریب عوام بھی کسی ممکنہ المیے سے محفوظ رہ سکیں۔ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی سندھ کے امیر وسابق ایم این اے محمد حسین محنتی نے ٹنڈومحمد خان میں پھلیلی کینال کے کناروں پر آباد متاثرین کی احتجاجی ریلی اور پریس کلب میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے رہنما غلام علی چانگ، نسیم اختر، سیاسی اور سماجی رہنما ڈاکٹر لطف ٹالپر،ڈاکٹر عبدالمالک اور صوبائی سیکرٹری اطلاعات مجاہد چنا بھی موجود تھے۔ محمد حسین محنتی نے مزید کہا کہ لوگوں کے مکانات، مساجد، مندر، مسمار کیے جارہے ہیں، قانونی کاغذات کے باوجود انکروچمنٹ قرار دینا زیادتی ہے، پاکستان بننے سے پہلے موجود تھے، عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی آڑ میں بہانہ بناکر مسمار ی کی مہم ٹنڈومحمد خان انتظامیہ کی بہت بڑی زیادتی ہے،نقشہ ،ماسٹر پلان دیکھے بغیر آبادی کو گرانا ناقابل فہم ہے ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں، لوگوں کو نوکریاں، گھر بناکر دینے کے دعوے کہاں ہیں؟ مدینے کی ریاست کے دعویدار لوگوں کو اس شدید سردی کے موسم میں بے گھر کرنا،خواتین بچوں کے سر سے مکان کا سایہ ختم کرنا ظلم اور زیادتی ہے، ہم تمام سیاسی جماعتوں سے رابطہ کرکے اس آپریشن اور زیادتی کے خلاف مل کر جدوجہد کریں گے، میں نے صوبائی وزیراطلاعات سعید غنی سے بھی رابطہ کیا ہے،وزیراعلیٰ مراد علی شاہ اور وزیربلدیات ناصر حسین شاہ سے بھی اس معاملے پر رابطہ کروں گا۔عدالت عظمیٰ کے حکم کی آڑ میں غریب عوام کے سروں سے سائے ختم کرنے آپریشن کو فوری ختم کیا جائے، عوام کو اطمینان دلایا جائے کہ مزیدایریگیشن ڈپارٹمنٹ، لوکل حکومت سب لاعلم ہیں کس کا حکم چل رہا ہے، لوگوں کو بے گھر کرنے کے عمل کو فوری طور پر روکا جائے،ڈرنیج اور گٹر کاپانی کینال میں ڈالنا بھی زیادتی ہے، اس حوالے سے عوام اور یہاں کے شہری انتظامیہ کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کرنے کیلئے تیار ہیں، ایک انسان کو تحفظ دینا پوری انسانیت کا تحفظ ہے لیکن یہاں پر ہزاروں انسانوں کو بے گھر کیا جارہاہے جو ظلم اور زیادتی ہے ہم اس عمل کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور متاثرین کے ساتھ ملکر ٹنڈومحمد خان کی تمام سیاسی اور سماجی تنظیموں کو اعتماد میں لیکر جدوجہد کریں گے۔