کس افسر کوآنا اور کسے جانا ہے‘ فیصلہ کرنا آئی جی نہیں حکومت کا اختیار ہے‘ سعید غنی

63
کراچی: صوبائی وزیر اطلاعات سعید غنی پریس کانفرنس کررہے ہیں

کراچی (اسٹا ف رپورٹر) وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ کس افسر کوآنا اور کسے جانا ہے‘ فیصلہ کرنا آئی جی نہیں حکومت کا اختیار ہے‘ آئی جی ڈاکٹر کلیم امام کی تبدیلی کا فیصلہ نہیں ہواالبتہ چیف سیکرٹری کو 2 افسران سے متعلق لکھے گئے خط پر شدید تحفظات ہیں‘ پولیس کا تماشا بنایا جا رہا ہے ‘ ایم کیو ایم کی جانب سے سندھ کو تقسیم کرنے کی ایک بار پھر سازش قومی اسمبلی میں بل جمع کراکے شروع کردی گئی ہے اس لیے ہم حکمران جماعت تحریک انصاف اور ان کی حمایتی جماعتوں زور دیتے ہیں کہ وہ اپنا موقف عوام کے سامنے واضح کریں‘ آصف علی زرداری کی ضمانت کے عدلیہ کے فیصلے میں واضح طور پر لکھا ہے کہ کسی بھی شخص کو الزام ثابت ہونے سے قبل جیل میں رکھنا غیر قانونی ہے‘ اس لیے اس پر کسی ڈیل کا تاثر دینا حماقت سے کم نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتے کو اپنی کیمپ آفس میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی سندھ کے نائب صدر راشد ربانی، جنرل سیکرٹری وقار مہدی، نائب صدر کراچی سردار خان، ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری کراچی آصف خان، اقبال ساندھ، لالہ رحیم اور دیگر پارٹی کے رہنما بھی موجود تھے۔ سعید غنی نے کہا کہ اس طرح کے بل ایم کیو ایم ماضی میں بھی سندھ کے عوام کو تقسیم کرنے کی غرض سے لاتی رہی ہے لیکن سندھ سمیت ملک بھر کے عوام سندھ میں صوبوں کی تقسیم کے خلاف ہیں‘ایم کیو ایم نفرت کی سیاست کو پروان چڑھانے کے لیے اس طرح کی سازشیں کرتی رہتی ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سندھ کے وزیر زراعت اسماعیل راہو نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایم کیو ایم بار بار سندھ میں نیا صوبہ بنانے کا مطالبہ کرکے فسادات کروانا چاہتی ہے‘سندھ دھرتی ماں نے جس طرح تمام باہر سے آنے والوں کو پناہ دی اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ باہر سے آنے والا کوئی بھی اسے توڑنے کی بات کرے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم ایم کیو ایم کی اس حرکت کی سخت مذمت کرتے ہیں‘ یہ جماعت خود کو زندہ رکھنے کے لیے بار بار تقسیم کی بات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہادر آباد تک محدود یہ جماعت صوبہ تقسیم کرنے والا بل قومی اسمبلی سے واپس لے اور سندھ کے عوام سے معافی مانگے۔