کراچی سمیت سندھ بھر میں اساتذہ پر پولیس تشدد کیخلاف احتجاج

152
بدین ،پ ٹ الف کے تحت کراچی میں اساتذہ پر پولیس تشدد کیخلاف احتجاج کیا جارہا ہے

بدین، جیکب آباد، میرپورخاص، لاڑکانہ، تلہار، عمرکوٹ ، جھڈو، ٹھٹھہ (نمائندگان جسارت) کراچی سمیت سندھ بھر میں اساتذہ پرپولیس تشدد کیخلاف بھرپور احتجاج کیا گیا۔تفصیلات کے مطابق کراچی میں احتجاج کے دوران اساتذہ پر ہونے والے وحشیانہ تشدد اور لاٹھی چارج متعدد استاتذہ کی بلاجواز گرفتاریوں کے خلاف پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن بدین کی جانب سے بدین پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے پرائمری ٹیچرز ایسوسی بدین کے رہنمائوں بہادر تالپور،دھنی بخش کھوسہ،سلیم ترک،برکت میمن،درمحمد بھرگڑی و دیگر نے کہا کہ کراچی میں استاتذہ کے پرامن احتجاج کے دوران اساتذہ پر پر تشدد اور بلاجواز گرفتاریاں اور جھوٹے مقدمات درج کرنے مذمت کرتے ہوئے کہا اساتذہ پر تشدد کرنے والے عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے ،درج کی گئی جھوٹی ایف آئی آر ختم کی جائے سندھ یونیورسٹی،اقراء آئی بی اے ،اور این ٹی ایس پاس اساتذہ کو فوری مستقل کیا جائے انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر اساتذہ کے جائز مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو دوبارہ احتجاج کی کال دیں گے ۔ جیکب آباد میں بیسک ایجوکیشن کمیونٹی اسکول کے اساتذہ کا مستقل نہ کرنے پر احتجاج ۔ آباد کے بیسک ایجوکیشن کمیونٹی اسکول کے اساتذہ نذیر احمد بروہی ،سردار بخش منگریو،عبدالفتاح ،ثمینہ اور دیگر نے پریس کلب کے سامنے مستقل نہ کرنے پر سخت احتجاج کیا ان کہنا تھا کہ بی ای سی ایس اساتذہ کو مستقل کرکے پھیلی بے چینی ختم کی جائے 1996ء سے اسکول چل رہے ہیںتنخواہ پانچ سے آٹھ ہزار ہے جو اس مہنگائی کے دور میں کچھ بھی نہیںیہ زیادتی ہے دیگر اداروں کے ملازمین کو مستقل کیا گیا ہے ہمیں بھی مستقل کیا جائے وزیر اعظم عمران خان اپنا واعدہ پورا کریں۔آل سندھ پرائمری ٹیچر ایسوسی ایشن میرپورخاص کی جانب سے میرپورخاص پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔اس موقع پر پ ٹ الف کے ضلعی عہدیداروں یعقوب نوہڑی ، جمن لغاری ، ظفر پنہور ، شمس الدینپنہور او ر شریف رند نے خطا ب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی پریس کلب کے سامنے پرامن احتجاج کرنے والے اساتذہ پر لاٹھی چارج شلنگ کرنا اور اساتذہ کو تشدد کا نشانہ بنانا قبل مذمت عمل ہے جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ سندھ یونیورسٹی اور کنٹریکٹ اساتذہ کو جلد سے جلد ریگولر کیا جائے اور جن اساتذہ پر مقدمات درج کیے گئے ہیں وہ فوری طور پر ختم کیے جائے۔ کراچی میں اساتذہ پر تشدد اور مقدمات درج کرنے کے خلاف لاڑکانہ میں آل سندھ پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن کی جانب سے پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ اس موقع پر اساتذہ رہنماؤں نور احمد سانگی و دیگر نے کہا کہ سالوں سے سندھ یونیورسٹی اور اقرا یونیورسٹی این ٹی ایس ٹیسٹ پاس اساتذہ احسن طریقے سے ڈیوٹیاں سرانجام دے رہے ہیں اس وقت تک کراچی اور حیدرآباد کے تمام اساتذہ کو مستقل کیا گیا جبکہ سندھ کے دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والے اساتذہ کو مستقل نہیں کیا جارہا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ، محکمہ تعلیم کے صوبائی وزیر و دیگر بالا حکام سے اپیل کی کہ سندھ یونیورسٹی اور اقرا یونیورسٹی این ٹی ایس ٹیسٹ پاس اساتذہ کو مستقل کرکے کراچی میں احتجاج کے دوران درج مقدمات ختم کیے جائیں بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ وسیع کریں گے۔ تلہار تحصیل کے پرائمری اساتذہ نے بازئوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر اللہ بچایوراہوکڑو،احمد خان چانڈیو ،رائوتو کولھی کی قیادت میں مین پرائمری اسکول سے پریس کلب تک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔مظاہرے سے خطاب کرتے مذکورہ اساتذہ رہنماوں نے کہا کہ سندھ یونیورسٹی،اقرا،این ٹی ایس اور آئی بی ای ہیڈ ماسٹر اور دیگر اساتذہ کے طویل عرصہ گزرجانے کے باوجود مستقل نہ کرنے کے لیے اپنے مطالبات کی حمایت میں کراچی میں پرامن احتجاج کرنے پر کراچی پولیس کی طرف سے بلاوجہ لاٹھی چارج کرکے اساتذہ کا تقدس پامال کرنے والے واقعے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔اساتذہ نے کراچی پولیس کی روایتی غنڈہ گردی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ میرٹ پر بھرتی ہونے والے مذکورہ تمام اساتذہ کا کنٹریٹ ختم کرکے مستقلی کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے اساتذہ سے بے چینی کی لہر ختم کی جائے دیگر صورت میں اساتذہ کواحتجاج پر مجبور نہ کیا جائے۔ کراچی اساتذہ پر ہونے والے تشدد کے خلاف پ ٹ الف تعلقہ کنری کی جانب سے ریلی نکالی گئی اور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی کی گئی۔ اس موقع پر سابق ضلعی صدر فضل اللہ فدا چانڈیو،تعلقہ صدر حاجی اکبر چانڈیو،ولی محمد کپری اورشیر احمد اور دیگر نے کراچی میں اساتذہ پر ہونے والے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکمران جماعت اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے اساتذہ پر تشدد اور ان کی تذلیل انتہائی افسوس ناک عمل ہے جو جمہوریت سے مسابقت نہیں رکھتا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر سندھ یونیورسٹی ٹیسٹ پاس اساتذہ کو ریگولر کرتے ہوئے ان پر ہونے والے سفاکانہ تشدد میں ملوث پولیس اہلکاروں کو برطرف کیا جائے۔بصورت دیگر بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔پرائمری اسکول ٹیچر نے تعلقہ جھڈو کے صدر سید ایاز شاہ رضوی کی قیادت میں اساتذہ نے کراچی پریس کے سامنے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کرنے والے اساتذہ پر بہیمانہ تشدد کے خلاف بازو پر سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکومتی رویے کی شدید مذمت کی۔ اس موقع پر ایاز شاہ رضوی عبدالواحد، مولگر گوسوانی، اللہ بچایو میمن ،غلام مصطفی ہوت اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ دس سال قبل بھرتی کیے گئے اساتذہ کو حکومت سندھ نے تاحال مستقل نہیں کیا اور جب اساتذہ اپنے جائز مطالبات کے لیے احتجاج کرتے ہیں تو پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے ان پر وحشیانہ تشدد کیاجاتا ہے حکومت کے اساتذہ بیزار اور تعلیم دشمن رویوں سے تعلیم کا بیڑہ غرق ہوچکا ہے ۔رہنمائوں نے مطالبہ کیاکہ گرفتار رہنمائوں کو فوراً آزاد اور اساتذہ کو جلد مستقل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیاجائے۔ٹھٹھہ آل سندھ پرائمری ٹیچر ایسوسی ایشن ( پ ٹ الف ) سندھ یونیورسٹی ، اقرا ٹھٹھہ کی سول سوسائٹی کی مشترکہ کمیٹی کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس کی قیادت پ ٹ الف ٹھٹھہ کے رہنما سید ارشاد شاھ ، خیرمحمد بروہی، الھجڑیوبرفت ، رفیق سومرو محمد علی ببر احسان میمن ، گسٹا رہنما علاالدین بروہی اور ٹھٹھہ کی سول سوسائٹی نے کی۔ مظاہرے میں سیکڑوں اساتذہ اورشہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ احتجاجی مظاہرہ جوکہ مین پرائمری اسکول سے ہوکر مین اسٹاپ ٹھٹھہ تک پہنچا جس میں شامل اساتذہ نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینر اٹھارکھے تھے اور سندھ پولیس کے خلاف سخت نعرے بازی کرتے ہوئے کراچی میں اپنے جائز مسائل کے حل کے لیے پرامن احتجاج کرنے والے اساتذہ سے نارواسلوک کرنے کی مذمت کی۔ اس موقع پر احتجاجی مظاہرے میں شامل شرکا نے کہا کہ سندھ کے اساتذہ نے اپنے حقوق کے لیے کراچی میں پرامن احتجاجی مظاہرہ کیا ہے جس پرپولیس کی جانب سے بلاجواز لاٹھی چارج کرنے اور گرفتاریاں کرکے مقدمہ درج کرنا ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے اساتذہ اپنے حقوق کے لیے پرامن احتجاج کررہے تھے لیکن پر امن احتجاج بھی حکومت سندھ سے برداشت نہیں ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ تمام گرفتار اساتذہ کو فوری طور پر آزاد کرکے ان پر قائم مقدمات کو ختم کردیا جائے دوسری صورت میں سندھ بھر میں احتجاج کیا جائے گا۔