مقبوضہ کشمیر میں آئندہ دو تین ماہ فیصلہ کن ہوں گے،وزیر اعظم آزاد کشمیر

201

وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر کا کہناہے کہ کشمیر کے معاملے میں آئندہ دو تین ماہ فیصلہ کن ہوں گے۔

وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ مسئلہ کشمیر جنیوا اور نیویارک میں حل نہیں ہوگا، اس کے لیے ہمیں خود اقدامات کرنا ہوں گے۔ پاکستان کی بقا جموں و کشمیر سے وابستہ ہے، اگر کشمیری مارے گئے تو پاکستانی بھی نہیں بچیں گے ۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ بھارت ایک بڑا ملک ہے تاہم دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نظرانداز نہیں کرسکتی،اگر ہم خود اپنی اہمیت ثابت نہیں کریں گے تو دنیا بھی ہمیں اہمیت نہیں دے گی۔

کراچی پریس کلب میں میٹ دی پریس سے گفتگو میں وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ اس وقت ایل او سی کے دونوں طرف مایوسی ہے،اب وزارت خارجہ کے بیان سے کام نہیں چلے گا کہ ہم کشمیریوں کی اخلاقی سفارتی اور سیاسی سطح پر حمایت کرتے ہیں ، یہ بیان قوم سالوں سے سنتے آرہی ہے ،اب پر محض بیان بازی نہیں بلکہ عملی جد جہد کی ضرورت ہے۔

وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ اب صرف دو دہی صورتیں ہیں ، جنگ کریں یا اخلاقی ، سفارتی اور سیاسی حمایت سے ہٹ کر کشمیریوں کی مسلح جدو جہد میں مدد کریں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں مسلح جدوجہد ہوگی تو کوئی امبانی کشمیر میں آکر جائیداد نہیں خریدے گا۔ کشمیری نظریاتی طور پر پاکستان کے ساتھ ہیں ،وہ کبھی بھارت سے سے سمجھوتا نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی ایک سیاسی جماعت تھی جسے آر ایس ایس نے ہائی جیک کر لیا ہے ،بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی محض ایک شو پیس ہے، جسے آر ایس ایس چلا رہی ہے، بھارت اسکولوں میں بچوں کی ذہن سازی کی کر رہا ہے اور انہیں یہ پڑھایا جا رہا ہے کہ پاکستان ،سری لنکا،نیپال بنگلہ دیش اور افغانستان بھی بھارت کا حصہ ہیں۔ بھارت کے اس مقصد میںصرف ایک ہی رکاوٹ ہے اور وہ پاکستان ہے۔

انہوں نے کہا کہ حزب المجاہدین کے موجودہ سپریم کمانڈر سید صلاح الدین نے 80 کی دھائی میں الیکشن میں حصہ لیا اور کامیابی بھی حاصل کی تاہم نتائج میں ردوبدل کے ذریعے انہیں ہرایا گیا جس کے بعد کشمیر میںمسلح جدو جہد کا آغاز ہوا۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں مسلح جدوجہد غلط نہیں بلکہ عالمی قانون کشمیریوں کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنی آزادی کے لیے مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کریں ۔

وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ پاکستان بھارت کے معاملے میں امریکا کو کبھی ثالث نہ بنائے ،امریکا بھارت کے مقابلے میں کبھی پاکستان کا ساتھ نہیں دے گا۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے سیز فائر لائن کراس کرنے کے حوالے سے جو بیان دیا وہ درست نہیں ، کشمیریوں کو دنیا کی کوئی طاقت اپنے علاقوں میں جانے سے نہیں روک سکتی ۔

انہوں نے کہا کہ مظفر وانی کے شہادت کے بعد بھارت نے کشمیریوں پر پیلٹ گن کا استعمال شروع کیا جس سے اب تک 10 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں جب کہ سو سے زائد افراد اپنی دونوں آنکھوں سے معزور ہو چکے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کشمیری اپنی آزادی اور پاکستان کے لیے 72 سال سے قربانیاں دی رہے ہیں،دو روز قبل بھارت نے 4کشمیریوں کو رہا کیا ہے جو گزشتہ 23 سال سے بغیر کسی جرم کے بھارتی جیلوں میں قید تھے ۔

وزیر اعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ جس چیز کے ساتھ بقا وابستہ ہووہ دشمن کے قبضے میں نہیں دی جاتی۔سوچنے کی بات ہے کہ ہندوستان اتنا بڑا ملک ہے، آخر وہ کشمیر کو اپنے پاس کیو ں رکھنا چاہتا ہے۔یہ بات بھی قابل غور ہے کہ بھارت نے جو اقدام 5 اگست کو اٹھا یاآخر یہ اس سے قبل کیوں نہیں اٹھایا گیا ۔اندرا گاندھی نے بھی کشمیر کو اس طرح بھارت میں شامل کرنے کی کوشش نہیں کی،کیوں کہ ہم اس وقت متحد تھے اور بھارت کو معلوم تھا کہ اگر اس طرح کا کوئی قدم اٹھایا گیا تو پاکستانی قوم اٹھ کھڑی ہوگی ، آج ہم متحد نہیں جس کا فائدہ دشمن کو اٹھا رہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کا ایک ہی وکیل اور ہمدرد ہے اور وہ پاکستان ہے۔ ہمیں ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جس سے پاکستان کے دیگر علاقوں میں رہنے والوں کو بھی معلوم ہو کہ کشمیری کیا سوچتے ہیں ۔وزیراعظم آزاد کشمیر فاروق حیدر نے کہا کہ آج ہر کوئی جو الیکشن جیتا ہے ، اپنے آپ کو سیاستدان کہتا ہے ،پاکستان میں صرف ایک سیاستدان تھا جس کا نام قائداعظم ہے ،باقی سب سیاسی کارکن ہیں۔

قبل ازیں کراچی پریس کلب پہنچنے پر صدر اور سیکریٹری کراچی پریس کلب نے وزیر اعظم آداز کشمیر راجہ فاروق حیدر کااستقبال کیا گیا ، صدر کراچی پریس کلب امتیاز خان فاران نے راجہ فاروق حیدر کو سندھی ٹوپی، اجرگ اور گلدستے کا تحفہ پیش کیا گیا۔اس موقع پر وزیر اعظم آزاد کشمیر نے گزشتہ دنوں انتقال کرجانے والے صحافیوں کی مغفرت کے لیے دعا کروائی۔