گردن سے سریانکال دیا‘ حکومت کی کشتی ڈوبنے والی ہے‘ فضل الرحمن

145
پشاور: سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمن جلسے سے خطاب کررہے ہیں

پشاور (صباح نیوز) جمعیت علما اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ قلعہ فتح کرنے نکلے ہیں‘ پیچھے ہٹنے کے لیے میدان میں نہیں آئے‘ پیچھے ہٹنا حرام ہے‘ میدان بھی حاضر ہے اور گھوڑا بھی حاضر ہے‘ ہمارے احتجاج نے حکمرانوں کی اکڑ ختم کردی‘ حکمرانوں کی گردن سے سریا نکال دیا اور کشتی ڈوبنے والی ہے‘ ناجائز حکمرانی نہیں چلنے دیں گے‘ یہ کشمیریوں اور پاکستان کے غدار ہیں۔ پشاور میں پارٹی سیکرٹریٹ میں پرچم کشائی کے بعد عوامی اجتماع سے خطاب میں مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہم نے ہر قربانی کے لیے تیار رہنا ہے‘ ہم فتح کے قریب پہنچ رہے ہیں‘ یہ لوگ کشمیریوں اور پاکستانیوں کے غدار ہیں‘ غداروں کو پاکستان میں حکمرانی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ دوسروں کے بارے میں کہتے ہیں احتساب کریں گے لیکن جب خود کے فارن فنڈنگ کا معاملہ آتا ہے تو احتساب سے بھاگتے ہیں‘ بی آر ٹی سے متعلق تحقیقات پر یہ لوگ عدالتوں کے پیچھے چھپتے ہیں‘ مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی ہے‘ موجودہ حکمرانوں نے پشاور کو کھنڈر میں تبدیل کردیا‘ بی آر ٹی میں ایک کلومیٹر کی لاگت ڈھائی ارب روپے ہے‘پورا پشاورکھنڈر بنا کر بھی جیت گئے اس کو کہتے ہیں دھاندلی‘ کسی اور شہر میں بی آر ٹی کھنڈر ہوتا توعوام ووٹ نہ دیتے‘ پورا پاکستان بی آر ٹی بن چکا ہے، مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کردی ہے‘ ملک بھر میں 25 لاکھ لوگوں کو بے روزگارکردیا گیا‘بتایا جائے ایک ارب درخت کہاں لگائے ہیں؟20 کروڑ سے زاید درخت ثابت نہیں کرسکتے۔ فضل الرحمن نے کہا کہ ایشیائی ڈولپمنٹ بینک سے ہم ایمرجنسی قرض لے رہے ہیں‘ بحرانی قرضوں کا نتیجہ کیا نکلے گا؟۔ کشمیر کو انہوں نے بیچ دیا ہے‘ پاکستان کی خارجہ پالیسی ناکام ہو چکی ہے۔