طالبان امریکا مذاکرات کی بحالی

111

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اچانک افغانستان کا دورہ کیا ہے۔ ٹرمپ نے افغانستان میں امریکا کے سب سے بڑے عسکری اڈے بگرام ائر بیس میں اپنے فوجیوں سے ملاقات کی۔ ان کے ساتھ نیشنل سیکورٹی مشیر رابرٹ اوبرائن اور سیکرٹ سروس ایجنٹس کے اہلکاروں کا ایک گروپ بھی تھا۔ ٹرمپ نے امریکی فوجیوں کے ساتھ بات چیت کرنے کے علاوہ تصویریں بھی بنوائیں۔ افغان صدر اشرف غنی نے بگرام ائر بیس آکر ٹرمپ سے ملاقات بھی کی۔ ٹرمپ نے اس دورے کے دوران ایک معنی خیز بات کی کہ افغان طالبان امریکا کے ساتھ معاہدہ چاہتے ہیں۔ غالباً وہ جنگ بندی بھی چاہتے ہیں۔ ہم دیکھیں گے کہ کیا طالبان واقعی مذاکرات چاہتے ہیں لیکن یہ ایک حقیقی ڈیل ہونی چاہیے۔ امریکی صدر کا افغانستان کا دورہ خاصا اہم ہے۔ اس دورے میں طالبان کے ساتھ دوبارہ براہ راست مذاکرات کی بات اپنے اندر بہت سے معانی رکھتی ہے۔ پاکستان کی کوششوں سے طالبان امریکا کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ بھی کئی بین الاقوامی کھلاڑیوں کی کوششوں سے طالبان اور امریکا کے درمیان ڈیڈ لاک کے خاتمے اور سلسلۂ جنبانی ہوا تھا۔ امریکا کی ایک سخت گیر لابی، افغان حکومت اور بھارت کو مذاکرات کی اس کوشش پر شدید بے چینی تھی۔ ان میں سے کچھ کو اپنے غیر متعلق ہوجانے کا خوف لاحق تھا۔ یہ ساری طاقتیں مل کر طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے اس سلسلے کو ناکام بنانا چاہتے تھے۔ ان کی کوششیں اس وقت رنگ لے آئی تھیں جب افغانستان میں ہونے والے ایک حملے کے بعد ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ طالبان اور پاکستان سمیت کئی ملکوں نے اس صورت حال پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔ امریکا کی طرف سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے خاتمے کے اعلان کے ساتھ ہی یہ قیاس آرائیاں ہو رہی تھیں کہ امریکا اور طالبان دونوں اب مفاہمت کا ذائقہ چکھ چکے ہیں اس لیے دونوں اب اس سے دست بردار ہونا پسند نہیں کریں گے۔ کسی وقتی اُبال اور غصے کی وجہ سے یہ ہوسکتا ہے مگر دونوں اب زیادہ دیر تک مفاہمت کی راہوں سے ہٹنے نہیں پائیں گے۔ طالبان اور امریکا کے مذاکرات جس رخ پر چل پڑے تھے اس میں طالبان کے آگے امارت اسلامی کا چراغ رکھا گیا تھا اور صدر ٹرمپ کو اس مذاکرات میں وہ جیت حاصل ہو رہی تھی جسے وہ اگلے انتخابات میں اپنے ووٹر کو متاثر کرنے کے لیے استعمال کر سکتے تھے۔ ان خوش کن تصورات کے رنگ میں بھنگ کو ’’مقطع میں آپڑی ہے سخن گسترانہ بات‘‘ ہی کہا جاسکتا تھا۔ اب یوں لگتا ہے کہ امریکا کو اس غلطی کا احساس ہوگیا ہے اور یوں ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ وقتی طور امریکی انتظامیہ کا صلح جو دھڑا جنگ جو گروہ پر حاوی آگیا ہے جس کے باعث طالبان کے ساتھ معاہدے اور مفاہمت کی سوچ دوبارہ پھیلنے لگی ہے۔ عین ممکن ہے کہ ٹرمپ نے اشرف غنی کو بگرام بلا کر اپنا فیصلہ سنادیا ہو کہ اب افغان حکومت کی مخالفت کے باوجود امریکا طالبان کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔
اشرف غنی کی ایک تصویر بہت دلچسپ انداز میں وائرل کی گئی ہے جس میں وہ بگرام ائر بیس پر صدر ٹرمپ سے ملاقات کے لیے جا رہے ہیں اور ایک اہلکار داخلے سے پہلے ان کی جامہ تلاشی لے رہا ہے اور اشرف غنی مسکراتے ہوئے بازو اُٹھا کر تلاشی دے رہے ہیں۔ یہ تصویر اگر واقعی اس موقع پر لی گئی تو اس میں اشرف غنی اورامریکا کے مقاصد اور ترجیحات کی مخالفت کرنے والوں کے لیے گہرا پیغام ہے کہ ایک آزاد اور ہزاروں سالہ تاریخ رکھنے والے ملک کے سربراہ اپنی ہی سرزمین پر تلاشی کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ اس تصویر کا وائرل کیا جانا بھی اپنے اندر کئی معانی رکھتا ہے۔ گویا کہ یہ طالبان کے ساتھ امریکا کی مفاہمتی کوششوں کے مخالفین راہنمائوں کو اپنی اوقات میں رہنے کی وارننگ ہے۔ ٹرمپ افغان جنگ کے خاتمے اور مجوزہ معاہدے کو اگلے صدارتی انتخابات میں اپنی فتح بنا کر پیش کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے وہ ہر صورت میں افغانستان سے امریکا کے فوجیوں کی ایک بڑی تعداد کو نکالنا چاہتے ہیں اور جو پیچھے رہیں انہیں بھی طالبان کے حملوں کے خوف سے آزاد کرکے ایک خوش گوار زندگی دینا چاہتے ہیں۔ امریکا طالبان کے ساتھ پاکستان کو بائی پاس کرکے بھی مذاکرات کرنا چاہتا ہے مگر ایسا بظاہر ممکن دکھائی نہیں دے رہا۔ طالبان امریکا پر پوری طرح اعتبار کر نے کو تیار نہیں اور خود امریکی انتظامیہ کی ایک موثر لابی بھی اس معاملے میں محتاط ہے جس کا اظہار ٹرمپ کا یہ کہنا ہے کہ اس بار ڈیل حتمی ہونی چاہیے۔
پاکستان کو اس صورت حال میں اپنے کارڈز نہایت مہارت کے ساتھ کھیلنا ہوں گے۔ وسیع تر جیو اسٹرٹیجک اور گلوبل صورت حال میں امریکا اور بھارت کا مفاد بدستور ایک اور مشترک ہے اس منظر میں پاکستان غیر متعلق ہے کیونکہ پاکستان بھارت کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے اور نہ ہی یہ اس کے مفاد میں ہے۔ افغانستان کو پاک بھارت کشمکش کا شکار بھی نہیں ہونا چاہیے یہ اسی صورت ممکن ہے کہ بھارت اپنی فوجی موجودگی ختم کرکے پاکستان کو مشرق ومغرب کے دوطرفہ گھیرائو کے خوف سے نجات دلائے اور پاکستان آزاد ریاست کے طور پر کسی بھی ملک کے ساتھ افغانستان کا حق تسلیم کرے مگر ایسے میں امن کی کلید کیونکر ہاتھ آسکتی ہے کہ جب امریکی عہدیدار افغانستان میں بھارت کی موجودگی کی تعریف اور حمایت کرتے ہوئے نظر آئیں گے؟۔ امریکا کو اگر اس حقیقت کا احساس ہوچکا ہے کہ طالبان کے ساتھ مفاہمت کے بغیر امن اور باعزت انخلا کی کوئی صورت ممکن نہیں تو اس حقیقت کا ادراک کرنا بھی ضروری ہے کہ سترہ برس تک وہ افغانستان میں جس ملک کو حل سمجھتا رہا وہ حقیقت میں مسئلہ تھا اور جسے مسئلہ سمجھا گیا وہی اصل میں مسئلے کا حل اور کلید تھا۔ اس حقیقت کا پوری طرح ادراک ہونے سے خطے کا مسئلہ جسے مدتوں پہلے سوویت یونین کے آخری حکمران نے ’’رستا ہوازخم‘‘ کہا تھا امن کے گلابوں کی سرزمین بن سکتا ہے۔