ایک سو چھبیس دن دھرنا دینے والوں کو کشمیر میں 126دن کا کرفیو نظر نہیں آرہا‘ سرا ج الحق

103
مانسہرہ: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق ضلعی اجتماع ارکان سے خطاب کررہے ہیں

لاہور( نمائندہ جسارت ) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ 126 دن کا دھرنا دینے والوں کو کشمیر میں 126 دن کا کرفیو نظر نہیں آتا، جب حکمران خود اپنے لیے صبح شام نئی قبریں کھودنے میںلگے ہوئے ہوں تو حکومتیں اپنی مدت پوری نہیں کرتیں، حکمرانوں کو اپنی غلطیوں کا احساس اس وقت ہوگاجب وقت ان کے ہاتھ سے نکل چکا ہوگا،حکومت ڈلیور نہیں کرپارہی ،حالات دن بدن گمبھیر صورت اختیار کررہے ہیںتو مڈ ٹرم الیکشن میں کوئی مضائقہ نہیں، ان ہائوس تبدیلی اورقبل از وقت الیکشن بھی جمہوریت کا حصہ ہیں ،ہم چاہتے ہیں کہ معاملات مشاورت اور جمہوری طریقے سے حل ہوں ۔ 22دسمبر کو مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ملک بھر سے لاکھوں لوگ اسلام آباد پہنچیں گے اور حکمرانوں سے کشمیر پر خاموشی توڑنے کا مطالبہ کریں گے ،بھارتی غاصب فوج نے 80لاکھ کشمیریوں کو 126دن سے یرغمال بنا رکھا ہے اور ہمارے حکمران خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ،پاکستان کے 22کروڑ عوام مظلوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں،حکمرانوں نے عوام کی نہ سنی تو پھر عوام بھی حکمرانوں کی نہیں سنیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مانسہرہ میں ضلعی اجتماع ارکان سے خطاب اور میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکومت آرمی چیف کی مدت ملازمت کے معاملے کو ایک بار عدالت میںتماشا بنا چکی، اب اسمبلی میں محتا ط رہے۔اس حساس معاملے پرحکومت کا رویہ اب بھی مثبت اور سنجیدہ نہیں ہے ۔انہوںنے کہاکہ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری اتفاق رائے سے ہونی چاہئے۔اس منصب کا تقاضا ہے کہ ایک غیر جانبدار فردکو چیف الیکشن کمشنر بنایا جائے ۔ہمارا موقف یہی ہے کہ تمام فیصلے میرٹ کی بنیاد پر ہوں ۔پالیسیاں ،نظام اور قانون کسی ایک فرد کیلئے نہیں بلکہ ملک اور عوام کے لیے بنتے ہیں۔ حکومتی گاڑی ایک جگہ پر کھڑی ہے اور باوجود کوشش کے چل نہیں رہی تو قبل از وقت الیکشن ہی بہتر آپشن ہے اورآئین اس کی اجازت دیتا ہے ۔پورا ملک اس وقت دلدل میں اور سیاست اور جمہوریت ایک بند گلی میں ہے ۔عوام کی مشکلات میں روز بروز اضافہ ہورہاہے ۔مہنگائی اور بے روز گاری کی وجہ سے لوگ فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔جماعت اسلامی نے ملک بھر میں مہنگائی اور بے روز گاری کے خلاف مظاہرے کئے ہیں ۔پورے ملک کے عوام سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں ۔حکمرانوں کو خود سمجھ نہیں آرہی کہ وہ مہنگائی کے جن کو کس طرح بوتل میں بند کریں ۔یہ نالائق اور ناکام لوگ ہیں جو پہلے سابق حکومتوں اور مشرف آمریت کا حصہ رہے اور اب موجودہ حکومت میں جمع کردیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جن لوگو ں کو اپنا ہوش نہ ہو،جو رات بھر جاگتے اور صبح سوتے ہوں اور عوام سے کٹے ہوئے ہوں ان سے کوئی امید رکھنا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں ۔ حکمرانوں نے اپنے ووٹرز، سپو رٹرز اور سب سے بڑھ کر ان نوجوانوں کو سخت مایوس کیا ہے جنہوں نے بڑی امنگوں اور ارمانوں سے ان کا ساتھ دیا تھا۔اس لیے قبل از وقت الیکشن میں کوئی خرابی نہیں ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت جن معاشی پالیسیوں اور قرضوں کی معیشت کو لیکر چل رہی ہے یہ اس کی اپنی نہیں بلکہ سابق حکومتوں اور مشرف کی پالیسیاں ہیں۔ماضی کی تمام حکومتوں نے 31ہزار ارب روپے قرضے لیے جبکہ موجودہ حکومت نے قرضوں کی ٹرین کو نیا انجن لگایا ،اب یہ قرضے بڑھ کر 45ہزار ارب تک پہنچ گئے ہیں۔تبدیلی کے نام پر حکومت مسلط کی گئی ہے ،یہ تبدیلی نہیں عوام کے ساتھ کھلا مذاق اور دھوکا ہے ۔حکومت نے احتساب کے نعرے کو بھی بدنام کیا،حکمران نہیں چاہتے کہ ان کا کوئی احتساب کرے ۔ حکومت کو احتساب پسند ہے مگر دوسروں کا سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ 22دسمبر کا اسلام آباد کشمیر مارچ اسلام آباد پر چڑھائی کا نہیں ، پاکستان کوبچانے اور کشمیر کو آزاد کروانے کا ہے ۔کشمیرکے بغیر پاکستان نامکمل ہے۔کشمیری پاکستان کے تحفظ اور تکمیل کی جنگ لڑرہے ہیں۔یہ محض جغرافیائی مسئلہ نہیں بلکہ ہمارے لیے ایمان نظریے اور زندگی اور موت کا مسئلہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی ساری قیادت جیلوں میں بند ہے ۔80لاکھ کشمیر بھارتی فوج کے ہاتھوں یرغمال اور محصور ہیں ۔کشمیر میں زندگی گزارنا ناممکن بنادیا گیا ہے ۔مساجد اور تعلیمی ادارے بند ہیں۔بیماروں کو اسپتالوں میں علاج کی اجازت نہیں۔مودی نے الیکشن کے وقت اعلان کیا تھا کہ ہم کشمیر کو انڈیا کا حصہ بنائیں گے اس نے اپنے اعلان پر عمل کیا اور ہمارے حکمران کشمیر یوں کے ساتھ مسلسل بے وفائی کررہے ہیں۔