ان ہاؤس تبدیلی ناگزیر ہے‘ لندن میں نوازشریف سے لیگی رہنماؤں کی ملاقات

117

لندن(خبر ایجنسیاں)برطانیہ میں پاکستان مسلم لیگ ن کا اہم اجلاس سابق وزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف کی زیر صدارت ہوا۔اجلاس کے دوران پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنمائوں سابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق، مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب، سینیٹر پرویز رشید، سینئر رہنما خواجہ آصف، خرم دستگیر، سابق وزیر خزانہ اسحق ڈار، احسن اقبال، امیر مقام اور رانا تنویر نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران لیگی رہنمائوں نے پارلیمنٹ میں ان ہائوس تبدیلی، احتجاجی تحریک، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ایکسٹینشن اور الیکشن کمیشن کے نئے چیئر مین کے حوالے سے بھی خصوصی تبادلہ خیال کیاگیا۔اجلاس کے بعد لیگی رہنما ایون فیلڈ پہنچے تو حسین نواز اور دیگر نے ان کا استقبال کیا جس کے بعد سینئر رہنمائوں نے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف سے ملاقات کی۔ ملاقات کرنے والوں میں ایاز صادق، مریم اورنگزیب، خرم دستگیر، سینیٹر پرویز رشید، خواجہ آصف، اسحق ڈار، احسن اقبال، امیر مقام اور رانا تنویر شامل تھے۔یاد رہے کہ اس سے قبل لندن میں نواز شریف سے شہباز شریف کی اہم ملاقات بھی ہوئی تھی جس میں سیاسی صورتحال پر مشاورت کی گئی۔شہبازشریف نے نوازشریف کو پارٹی کے اہم فیصلوں سے آگاہ کیا۔ ملاقات میں حکومت کو ٹف ٹائم دینے کیلیے تمام جماعتوں سے رابطوں اور گرینڈ تحریک شروع کرنے پر بھی مشاورت کا فیصلہ کیا گیا۔میڈیا سے گفتگو میں صدر ن لیگ نے وزیراعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ خان صاحب کا ایک ہی ایجنڈا ہے کہ کسی طرح اپوزیشن کو ملیامیٹ کر دیں۔ان میں اپوزیشن کے خلاف بغض بھراہے،شہبازشریف کا کہنا تھا کہ میٹرو ٹرین کے حوالے سے پی ٹی آئی حکومت نے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا۔اورنج لائن ٹرین منصوبہ شروع ہونے پر قوم کو مبارکباد دیں گے۔مسلم لیگ (ن) کے ہونے والے مشاورتی اجلا س کے بعد میڈیا سے گفتگو میں مسلم لیگ( ن )کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ نواز شریف کے ذاتی معالج نے پارٹی اجلاس کے دوران لیگی رہنمائوں کو بریفنگ دی۔ لیگی رہنمائوں نے نواز شریف کی خیریت دریافت کی ۔ جبکہ مسلم لیگ ن کے جنرل سیکرٹری احسن اقبال نے کہا کہ موجودہ حکومت اہم قومی معاملات پر غیر سنجیدہ ہے۔ انہو ں نے کہاکہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے غلط نوٹیفکیشن کے معاملے پر حکومت کی وجہ سے جگ ہنسائی ہوئی ۔ ہم دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت مخالف مظاہرے کرینگے ۔ حکومت نے عوام کو مہنگائی اور غربت کے سوا کچھ نہیں دیا ۔خواجہ آصف نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کو حالیہ ہفتوں کے دوران سامنے آنے والے پارلیمانی معاملات سے آگاہ کیا گیا اور ان معاملات پر ان کی رہنمائی طلب کی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان واپسی پر ان معاملات میں پارٹی کی پالیسی وضح کریں گے۔ آرمی چیف کی توسیع کے معاملے پر عدالت کے تفصیلی فیصلے تک کوئی بات نہیں کرسکتا۔نئے انتخابات کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ہمارا موقف ہے کہ نئے اتخابات سے بچنے کے لیے پہلے قدم میں ان ہائوس تبدیلی ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اجلاس میں پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے 190 ملین پائونڈ کی وصولی کا معاملہ زیر بحث نہیں آیا۔ ترجمان مسلم لیگ (ن) مریم اورنگ زیب نے پاکستان سے لندن روانگی سے قبل کہا تھا کہ ہم پارٹی قائد کی عیادت کریں گے اور آرمی چیف، نئے چیئرمین الیکشن کمیشن کی تعیناتی اور قانون سازی کے معاملے پر نواز شریف اور شہباز شریف سے رہنمائی لیں گے۔یاد رہے کہ عدالت عظمیٰ نے گزشتہ ہفتے آرمی چیف کی توسیع کے معاملے پر اپنے فیصلے میں حکومت اور پارلیمنٹ کو 6 ماہ میں قانون سازی کرنے کو کہا تھا جس میں مدت، شرائط اور دیگر معاملات کو قانون سازی کے تحت طے کرنے کا فیصلہ سنایا گیا تھا۔