عدلیہ قانون سازی کیلیے پارلیمان کو ڈکٹیٹ نہیں کرسکتی ‘ فواد چودھری

111

لاہور (نمائندہ جسارت) وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ عدلیہ قانون سازی کے لیے پارلیمان کو ڈکٹیٹ نہیں کرسکتی ہے‘آرمی چیف کے معاملے پر سیاست سے بالاتر ہو کر بات کرنی چاہیے‘ عدالت عظمیٰ کے فیصلے میں بڑے سقم ہیں‘ ہم نظام نہیں بدل سکے‘ طلبہ یونین بحالی کے پیرامیٹرز طے کرنا ہوں گے‘ اپوزیشن خود مائنس ہو رہی ہے‘ پختونخوا حکومت بی آر ٹی منصوبے کی تحقیقات میں رکاوٹ نہ بنے۔لاہور میں انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے وفد سے ملاقات کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن کا خیال ہے کہ طلبہ یونین بحال ہونی چاہئیں لیکن اس کے پیرا میٹرز طے کرنا ہوں گے‘ سب کو پتا ہے‘ کراچی میں آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کیا کرتی رہی ہے‘ اگر طلبہ یونین نہ ہوئی تو ان کی سیاست کو لسانی یا مذہبی جماعتیں استعمال کرتی ہیں اس لیے بڑی جماعتیں ان کو قبول کریں۔ انہوں نے کہا کہ مائنس عمران کرتے کرتے اپوزیشن خود مائنس ہو رہی ہے‘ اپوزیشن کو اپنی قیادت تلاش کرنا پڑ رہی ہے‘ اب سب لندن میں جمع ہو رہے ہیں‘ ان کے پاس کوئی پلان نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن میں نئی تقریوں کے معاملے پر کافی حد تک اتفاق رائے ہو چکا ہے‘ اپوزیشن اصلاحات کی جانب آئے۔ وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے کہا کہ شہباز شریف کو پہلے واپس آنے میں5 سال لگے‘ اب کی بار شاید15 سال لگیں‘ سیاست کمزور دل لوگوں کا کام نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمان کیسے سپریم ہو سکتی ہے اگر اس کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کچھ اداروں کے بجٹ پر بحث نہ کر سکے‘ خیبر پختونخوا حکومت کو بی آر ٹی منصوبے کی شفاف تحقیقات میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ فواد چوددھری نے کہا کہ ملک میں سیاستدانوں پر بحث ہو سکتی ہے لیکن فوج اور عدلیہ پر عام بحث نہیں ہو سکتی ہے‘ آرمی چیف کے معاملے پر سیاست سے بالاتر ہو کر بات کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ کا تفصیلی فیصلہ آ جائے تو پھر حکومت اس پر فیصلہ کرے گی‘ عدالت عظمیٰ کے فیصلے میں بڑے سقم ہیں‘ عدالت پارلیمان کو ڈکٹیٹ نہیں کر سکتی کہ قانون ایسا بنائیں۔