حکمرانوں کی کشتی ڈوبنے والی ہے،ہم نے انکی گردن سے تکبرکاسریا نکال دیا،مولانا فضل الرحمان

178

جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ناجائز حکومت کو تسلیم نہیں کرتے، اس سے جان چھڑائیں گے، ہم نے ان حکمرانوں کی گردن سے تکبر کا سریا نکال دیا ہے،حکمرانوں کی کشتی ڈوبنے والی ہے۔

پشاور میں متحدہ اپوزیشن کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آئین کی حکمرانی کیلئے جو قدم اٹھایا وہ منزل پر پہنچ رہا ہے، ناجائز حکومت کو تسلیم نہیں کرتے، حکومت کو گھر بھیجنے کی کوشش جاری رکھیں گے، کسی سے گھبرانے کی نہیں جرات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے احتجاج سے حکمرانوں کی اکڑختم ہوگئی، ہم نے ان حکمرانوں کی گردن سے تکبرکا سریا نکال دیا ہے،ہم اس تحریک کو قومی یکجہتی سے اور آگے بڑھائیں گے، فتح کے قریب ہیں، حکمرانوں کی کشتی ڈوبنے والی ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنادی ہے،ا یک کروڑ نوکریوں کی نوید دی گئی لیکن 25 لاکھ نوجوانوں کو بے روزگار کردیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں نے پشاور کو کھنڈربنادیا، پشاور شہر کو کھنڈر بنانے کے باجود پی ٹی آئی جیت گئی، یہ کہتے ہیں  ہمیں ووٹ ملے ہے، شہر کو کھنڈر بنانے پر شہری انہیں کیوں ووٹ دیتے، یہ دھاندلی سے جیتے ہیں، انہوں نے پورے پاکستان کو بی آر ٹی بن دیا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جب فارن فنڈنگ کا معاملہ آتا ہے تو احتساب سے بھاگتے ہیں، تم نے کہا ایک ارب درخت لگائے ہیں، دکھائیں ایک ارب درخت کہاں ہیں،ایک ارب درخت کہاں چلے گئے اس کا حساب لیا جائے گا، اس طرح کی کرپٹ حکومت شاید زندگی میں نہ آئی ہو۔

سربراہ جے یو آئی ف نے کہا کہ پچھلی حکومت کے قرضوں پرکمیشن بنایااس کاکیا ہوا،کمیشن نے بتایاکہ ماضی کی حکومتوں کا پیسا صحیح جگہ لگایا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور حکومت میں لوگ خودکشی کر رہے ہیں کون پوچھے گا، حکومت نے گزشتہ تمام حکومتوں سے زیادہ قرضے ایک سال کے دوران لئے، ایشین ڈیولپمنٹ بینک سے ایمرجنسی قرض لے رہے ہیں، انہیں پاکستان میں حکمرانی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔