سودکی ادائیگی ہٹا دیں تو مالی خسارہ ختم ہو چکا ، مشیر خزانہ

70
اسلام آباد: مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ پریس کانفرنس کررہے ہیں

اسلام آباد (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ و محصولات ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں بتدریج کمی آرہی ہے اور اگر سود کی ادائیگی ہٹا دیں تو مالی خسارہ ختم ہو چکا ہے، گزشتہ 5 ماہ میں اقتصادی محاذ پر اہم کامیابیاں ملیں، برآمدات 10 فیصد بڑھ گئی ہیں، عالمی ادارے معیشت کے استحکام کے لیے حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کی تعریف کر رہے ہیں، ہم ماضی کی طرح دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے، اداروں کو مضبوط بنایا جا رہا ہے، اسٹیٹ بینک کو خود مختاری دیدی۔ منگل کو وزیر مملکت اقتصادی امور حماد اظہر اور چیئرمین ایف بی آر سیّد شبر زیدی کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ گزشتہ 5 ماہ میں اقتصادی محاذ پر اہم کامیابیاں ملی ہیں، رواں ماہ میں برآمدات میں 10 فیصد اضافہ ہوا، حسابات جاریہ کے خسارہ میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، گزشتہ 5 ماہ میں حسابات جاریہ کے خسارہ میں 35 فیصد کمی ہوئی ہے، مالی خسارہ پر قابو پایا گیا، نہ صرف مالی خسارہ پر قابو پایا بلکہ اگر انٹرسٹ پیمنٹ کو نکال دیا جائے تو یہ سرپلس میں آ جاتا ہے، ایکسچینج ریٹ میں استحکام آ گیا ہے، براہ راست بیرونی سرمایہ کاری بھی بڑھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی بینک کے صدر یہاں آئے، انہوں نے پاکستان کی کارکردگی کو سراہا اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے عزم کا اظہار کیا، ایشین ڈویلپمنٹ بینک اور پاکستان کے خصوصی تعلقات ہیں، ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کی کارکردگی کو بہتر جان کر پاکستان میں مزید 3 ارب ڈالر کے منصوبوں کی منظوری دی جو پاکستان کے لیے اہمیت کا حامل ہے، اسی طرح آئی ایم ایف دنیا کا سب بڑا مالی ادارہ ہے جو ملکی معیشتوں کے بارے میں رائے دیتا ہے، آئی ایم ایف کی ٹیم پاکستان آئی، انہوں نے حکومت کی کارکردگی کو دیکھا اور جانچا، آئی ایم ایف کی ٹیم نے کہا کہ پاکستان نے جو وعدے اور جو معاہدے کیے تھے وہ بخوبی پورے کیے گئے ہیں، ٹیم نے آئی ایم ایف بورڈ کو سفارش کی ہے کہ پاکستان کے لیے 500 ملین ڈالر کی دوسری قسط فوری طور پر جاری کی جائے۔ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ موڈیز نے کل جو رپورٹ جاری کی ہے اس میں پاکستان کی ریٹنگ کو منفی سے مستحکم قرار دیا گیا ہے، اس رپورٹ سے پوری دنیا کو پتا چل گیا ہے کہ پاکستان میں اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں اور اس کے نتائج بھی سامنے آئے ہیں جسے عالمی ادارے سراہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پورٹ فولیو سرمایہ کاری میں ایک ارب ڈالر سے زائد کا اضافہ ہوا، براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں گزشتہ سال کی نسبت 236 فیصد اضافہ ہوا، اسٹاک مارکیٹ 40 ہزار کی نفسیاتی سطح عبور کر گئی ہے، بلومبرگ جیسے اداروں نے بھی کہا ہے کہ پاکستان کی اسٹاک ایکسچینج دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی اسٹاک مارکیٹ بن گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس ریونیو میں 16 فیصد اضافہ خوش آئند ہے، اس کے ساتھ حکومتی اخراجات پر مؤثر طریقہ سے قابو پایا گیا، کوئی ضمنی گرانٹ نہیں دی جا رہی ہے، یہی وجوہات ہیں جس کی وجہ سے پرائمری بیلنس سرپلس میں ہے۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہیں اور اس میں اضافہ ہو رہا ہے، اسی طرح پچھلے سال کے مقابلہ میں گزشتہ 5 ماہ میں نان ٹیکس ریونیو میں 100 فیصد اضافہ ہوا ہے، ہمیںامید ہے کہ ہم نان ٹیکس ریونیو کی مد میں 1200 ارب روپے کے ہدف کو نہ صرف حاصل کریں گے بلکہ اس سے اضافی ریونیو اکٹھا کریں گے۔ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی، معیشت کے اندر مواقع میں اضافہ اور اقتصادی سرگرمیوں اور اس کے نتیجہ میں بڑھوتری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں، اس مقصد کے لیے حکومت نے بڑے فیصلے کیے ہیں جن میں برآمدات میں اضافہ، تعمیراتی سرگرمیوں میں تیزی لانا اور اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینا شامل ہے، برآمدی شعبہ کے لیے بجلی اور گیس کی قیمت میں سبسڈی دی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ اس شعبہ کے لیے کم شرح سود پر 300 ارب روپے کے اضافی قرضے بھی دیے جا رہے ہیں، ایف بی آر نے برآمدی صنعت سے متعلق ٹیکس ریفنڈ کے لیے مؤثر نظام بنایا ہے جس کی وجہ سے 72 گھنٹوں کے اندر 100 فیصد ریٹرن دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمت میں اگر اضافہ ہو رہا ہے تو 75 فیصد صارفین کو سبسڈی بھی دی جا رہی ہے،آج کابینہ نے یوٹیلٹی اسٹورز کے لیے 6 ارب روپے اضافی رکھے ہیں، ہمارا اصل محور پاکستان کے عوام ہیں۔ وفاقی وزیر اقتصادی امور حماد اظہر نے اس موقع پر کہا کہ حکومت نے ملکی معیشت کو ڈیفالٹ کے دہانے سے بچایا اور ابھی استحکام کی طرف سے لایا گیا ہے، اصلاحات کے نتیجہ میں مالیاتی خسارہ 13 سال کی کم ترین سطح پر ہے، فارن ریزرو میں سوا ارب کا اضافہ ہوا ہے، اگلے چند ماہ میں ہم ریکوری اور گروتھ کی طرف جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جنوری اور فروری 2020ء سے مہنگائی کی شرح میں بتدریج کمی آ جائے گی۔